امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے اور اس معاہدے کے حوالے سے کیے گئے یکطرفہ اقدامات واپس لے، خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار دریاؤں کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
رضوان سعید شیخ نے امریکی جریدے ’نیوزویک‘ میں شائع اپنے مضمون میں امریکا میں بھارتی سفیر برائے امریکا ونے موہن کواترا کے اس مضمون کا جواب دیا ہے جس میں انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو پاکستان کی جانب سے طویل عرصے تک کمزور کیے جانے اور بھارت کے اسے ’التوا‘ میں رکھنے کے فیصلے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔
پاکستانی سفیر نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی مسلسل معاہدے کی تاریخ، ساخت اور مقصد کو مسخ کرکے اپنی یکطرفہ کارروائی کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
In his latest opinion piece for @Newsweek, Ambassador Rizwan Saeed Sheikh @AmbRizSaeed underscores that the Indus Waters Treaty is a binding international settlement—not a concession—and stresses the importance of upholding treaty obligations, international law and established…
— Pakistan Embassy US (@PakinUSA) August 28, 2026
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو ایک عشرے پر محیط مذاکرات کے بعد طے پایا تھا اور عالمی بینک نے ان مذاکرات میں سہولت فراہم کی تھی۔ یہ معاہدہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر کسی احسان یا رعایت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک باقاعدہ قانونی تصفیہ تھا، جس کا مقصد دریائے سندھ کے نظام کے پانیوں کے استعمال سے متعلق واضح، قابلِ عمل اور پابند حقوق و ذمہ داریاں متعین کرنا تھا۔
پاکستانی سفیر کے مطابق معاہدے نے بالائی اور زیریں دریائی ملک کے درمیان یکطرفہ اختیار کی جگہ باقاعدہ قانونی ضابطہ قائم کیا، جس سے پانی کے استعمال میں یقینی، پیش بینی اور استحکام پیدا ہوا۔ معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں کے استعمال کا حق دیا گیا جبکہ پاکستان کے حقوق دریائے سندھ، جہلم اور چناب سمیت مغربی دریاؤں کے پانیوں پر محفوظ کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس انتظام کو بنیادی طور پر ’غیر منصفانہ‘ قرار دینا ان حالات اور مذاکراتی عمل کو نظرانداز کرنا ہے جن کے نتیجے میں معاہدہ وجود میں آیا۔ پاکستان نے مشرقی دریاؤں پر اپنی تاریخی انحصاری حیثیت سے دستبرداری اختیار کی اور اپنے آبپاشی نظام کو نئے انتظام کے مطابق ڈھالنے کے لیے بڑے پیمانے پر متبادل منصوبے بھی مکمل کیے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
رضوان سعید شیخ نے بھارتی سفیر کے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان نے مغربی دریاؤں پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ خود بھارت کو مغربی دریاؤں پر ’رن آف دی ریور‘ نوعیت کے پن بجلی منصوبے تعمیر کرنے کی اجازت دیتا ہے، تاہم ایسے منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن کے لیے معاہدے میں واضح حدود اور شرائط مقرر کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ان شرائط سے متعلق سوالات اٹھانا یا تنازعات کے حل کے لیے معاہدے میں موجود طریقہ کار سے رجوع کرنا کسی منصوبے کو روکنے کی کوشش نہیں بلکہ معاہدے کے تحت حاصل قانونی حق کا استعمال ہے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 9 کے تحت تنازعات کے حل کے لیے مختلف قانونی راستے فراہم کیے گئے ہیں، جن میں متعلقہ معاملات کی وضاحت، غیر جانب دار فیصلہ سازی اور ثالثی شامل ہے۔ اس لیے معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار اختیار کرنا خود معاہدے پر عمل درآمد کا حصہ ہے، نہ کہ اس کی خلاف ورزی۔
انہوں نے عالمی سطح پر ہونے والی قانونی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ثالثی عدالت نے بھی سندھ طاس معاہدے کے برقرار رہنے اور اس کی قانونی حیثیت کی تصدیق کی ہے۔ مئی 2026 کے ضمنی فیصلے سمیت عدالتی فیصلوں نے اس اصول کو مزید واضح کیا ہے کہ مغربی دریاؤں پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں کو معاہدے میں مقرر کردہ حدود اور حفاظتی شرائط کی پابندی کرنا ہوگی۔
Deputy Prime Minister and Foreign Minister Ishaq Dar says the Indus Waters Treaty represented an important act of statecraft that established a durable legal framework for managing the Indus Basin. He says the Ravi, Beas and Sutlej were allocated to India for unrestricted use,… pic.twitter.com/18RlQRHxLz
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) August 28, 2026
رضوان سعید شیخ نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ملک سیاسی یا سیکیورٹی سے متعلق ایسے الزامات کی بنیاد پر کسی بین الاقوامی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتا۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے الزامات یا دیگر دوطرفہ تنازعات کسی فریق کو یہ یکطرفہ اختیار نہیں دیتے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو معطل، نظرانداز یا ازسرنو تحریر کردے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی ایک فریق کو اسے یکطرفہ طور پر ’معطل‘ یا ’التوا میں رکھنے‘ کا اختیار دینے والی کوئی شق موجود نہیں۔ معاہدے کے آرٹیکل 12 کے تحت یہ معاہدہ اس وقت تک نافذ العمل رہنا ہے جب تک دونوں حکومتوں کے درمیان باقاعدہ طور پر توثیق شدہ نیا معاہدہ طے نہ پا جائے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ اپریل 2025 میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا یکطرفہ اعلان اس معاہدے کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس سے معاہدے کے تحت پیدا ہونے والے حقوق اور ذمہ داریاں ختم ہوتی ہیں۔ ان کے بقول سندھ طاس معاہدہ اب بھی ’درست، مؤثر اور دونوں فریقوں کے لیے پابند‘ ہے۔
رضوان سعید شیخ نے خبردار کیا کہ 6 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جاری اس معاہدے کو کمزور کرنا اور سرحد پار دریاؤں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا خطے میں پانی کے حوالے سے غیر یقینی اور عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے، جو پہلے ہی شدید سیاسی اور سکیورٹی کشیدگی کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی پائیداری سیاسی خیرسگالی کے بجائے اس حقیقت پر قائم رہی ہے کہ اس نے یکطرفہ اختیار کی جگہ باقاعدہ قواعد و ضوابط اور تنازعات کے حل کا ادارہ جاتی نظام فراہم کیا۔ اس نظام کو نقصان پہنچانا نہ صرف پانی کے استعمال میں یقینی اور پیش بینی کو ختم کرے گا بلکہ جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا عالمی آبی نظم کے لیے خطرناک مثال
پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح اور متن کے مطابق مکمل عمل درآمد کے لیے بدستور پرعزم ہے۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنے یکطرفہ اقدامات واپس لے، معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرے اور تمام معاملات کو معاہدے کے تحت قائم ادارہ جاتی اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے ذریعے مذاکرات سے حل کرے۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرتا رہے گا، کیونکہ پاکستان کے لیے سندھ طاس کا معاملہ محض سیاسی فائدے کا مسئلہ نہیں بلکہ پانی کی سلامتی، زراعت، خوراک، روزگار اور تقریباً 25 کروڑ عوام کی معاشی بہبود سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے نے 6 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک جنوبی ایشیا میں ایک اہم دریائی نظام کے انتظام کے لیے قواعد پر مبنی فریم ورک فراہم کیا ہے، اس لیے اس معاہدے کی سالمیت کا تحفظ خطے کے طویل المدتی امن، پانی کی سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔














