بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

ہفتہ 29 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے اور اس معاہدے کے حوالے سے کیے گئے یکطرفہ اقدامات واپس لے، خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار دریاؤں کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

رضوان سعید شیخ نے امریکی جریدے ’نیوزویک‘ میں شائع اپنے مضمون میں امریکا میں بھارتی سفیر برائے امریکا ونے موہن کواترا کے اس مضمون کا جواب دیا ہے جس میں انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو پاکستان کی جانب سے طویل عرصے تک کمزور کیے جانے اور بھارت کے اسے ’التوا‘ میں رکھنے کے فیصلے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔

پاکستانی سفیر نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی مسلسل معاہدے کی تاریخ، ساخت اور مقصد کو مسخ کرکے اپنی یکطرفہ کارروائی کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو ایک عشرے پر محیط مذاکرات کے بعد طے پایا تھا اور عالمی بینک نے ان مذاکرات میں سہولت فراہم کی تھی۔ یہ معاہدہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر کسی احسان یا رعایت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک باقاعدہ قانونی تصفیہ تھا، جس کا مقصد دریائے سندھ کے نظام کے پانیوں کے استعمال سے متعلق واضح، قابلِ عمل اور پابند حقوق و ذمہ داریاں متعین کرنا تھا۔

پاکستانی سفیر کے مطابق معاہدے نے بالائی اور زیریں دریائی ملک کے درمیان یکطرفہ اختیار کی جگہ باقاعدہ قانونی ضابطہ قائم کیا، جس سے پانی کے استعمال میں یقینی، پیش بینی اور استحکام پیدا ہوا۔ معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں کے استعمال کا حق دیا گیا جبکہ پاکستان کے حقوق دریائے سندھ، جہلم اور چناب سمیت مغربی دریاؤں کے پانیوں پر محفوظ کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس انتظام کو بنیادی طور پر ’غیر منصفانہ‘ قرار دینا ان حالات اور مذاکراتی عمل کو نظرانداز کرنا ہے جن کے نتیجے میں معاہدہ وجود میں آیا۔ پاکستان نے مشرقی دریاؤں پر اپنی تاریخی انحصاری حیثیت سے دستبرداری اختیار کی اور اپنے آبپاشی نظام کو نئے انتظام کے مطابق ڈھالنے کے لیے بڑے پیمانے پر متبادل منصوبے بھی مکمل کیے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

رضوان سعید شیخ نے بھارتی سفیر کے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان نے مغربی دریاؤں پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ خود بھارت کو مغربی دریاؤں پر ’رن آف دی ریور‘ نوعیت کے پن بجلی منصوبے تعمیر کرنے کی اجازت دیتا ہے، تاہم ایسے منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن کے لیے معاہدے میں واضح حدود اور شرائط مقرر کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ان شرائط سے متعلق سوالات اٹھانا یا تنازعات کے حل کے لیے معاہدے میں موجود طریقہ کار سے رجوع کرنا کسی منصوبے کو روکنے کی کوشش نہیں بلکہ معاہدے کے تحت حاصل قانونی حق کا استعمال ہے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 9 کے تحت تنازعات کے حل کے لیے مختلف قانونی راستے فراہم کیے گئے ہیں، جن میں متعلقہ معاملات کی وضاحت، غیر جانب دار فیصلہ سازی اور ثالثی شامل ہے۔ اس لیے معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار اختیار کرنا خود معاہدے پر عمل درآمد کا حصہ ہے، نہ کہ اس کی خلاف ورزی۔

انہوں نے عالمی سطح پر ہونے والی قانونی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ثالثی عدالت نے بھی سندھ طاس معاہدے کے برقرار رہنے اور اس کی قانونی حیثیت کی تصدیق کی ہے۔ مئی 2026 کے ضمنی فیصلے سمیت عدالتی فیصلوں نے اس اصول کو مزید واضح کیا ہے کہ مغربی دریاؤں پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں کو معاہدے میں مقرر کردہ حدود اور حفاظتی شرائط کی پابندی کرنا ہوگی۔

رضوان سعید شیخ نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ملک سیاسی یا سیکیورٹی سے متعلق ایسے الزامات کی بنیاد پر کسی بین الاقوامی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتا۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے الزامات یا دیگر دوطرفہ تنازعات کسی فریق کو یہ یکطرفہ اختیار نہیں دیتے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو معطل، نظرانداز یا ازسرنو تحریر کردے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی ایک فریق کو اسے یکطرفہ طور پر ’معطل‘ یا ’التوا میں رکھنے‘ کا اختیار دینے والی کوئی شق موجود نہیں۔ معاہدے کے آرٹیکل 12 کے تحت یہ معاہدہ اس وقت تک نافذ العمل رہنا ہے جب تک دونوں حکومتوں کے درمیان باقاعدہ طور پر توثیق شدہ نیا معاہدہ طے نہ پا جائے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ اپریل 2025 میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا یکطرفہ اعلان اس معاہدے کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس سے معاہدے کے تحت پیدا ہونے والے حقوق اور ذمہ داریاں ختم ہوتی ہیں۔ ان کے بقول سندھ طاس معاہدہ اب بھی ’درست، مؤثر اور دونوں فریقوں کے لیے پابند‘ ہے۔

رضوان سعید شیخ نے خبردار کیا کہ 6 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جاری اس معاہدے کو کمزور کرنا اور سرحد پار دریاؤں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا خطے میں پانی کے حوالے سے غیر یقینی اور عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے، جو پہلے ہی شدید سیاسی اور سکیورٹی کشیدگی کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی پائیداری سیاسی خیرسگالی کے بجائے اس حقیقت پر قائم رہی ہے کہ اس نے یکطرفہ اختیار کی جگہ باقاعدہ قواعد و ضوابط اور تنازعات کے حل کا ادارہ جاتی نظام فراہم کیا۔ اس نظام کو نقصان پہنچانا نہ صرف پانی کے استعمال میں یقینی اور پیش بینی کو ختم کرے گا بلکہ جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا عالمی آبی نظم کے لیے خطرناک مثال

پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح اور متن کے مطابق مکمل عمل درآمد کے لیے بدستور پرعزم ہے۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنے یکطرفہ اقدامات واپس لے، معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرے اور تمام معاملات کو معاہدے کے تحت قائم ادارہ جاتی اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے ذریعے مذاکرات سے حل کرے۔

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرتا رہے گا، کیونکہ پاکستان کے لیے سندھ طاس کا معاملہ محض سیاسی فائدے کا مسئلہ نہیں بلکہ پانی کی سلامتی، زراعت، خوراک، روزگار اور تقریباً 25 کروڑ عوام کی معاشی بہبود سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے نے 6 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک جنوبی ایشیا میں ایک اہم دریائی نظام کے انتظام کے لیے قواعد پر مبنی فریم ورک فراہم کیا ہے، اس لیے اس معاہدے کی سالمیت کا تحفظ خطے کے طویل المدتی امن، پانی کی سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں