امریکا میں روبوٹ بارٹینڈرز، بارسٹا اور ویٹرز کی جانب سے صارفین سے ٹِپ یا سروس فیس طلب کرنے کا نیا رجحان سامنے آیا ہے۔ لاس ویگاس کے ایک بار میں روبوٹک بازوؤں سے تیار کیے جانے والے کاک ٹیل پر 10 فیصد سروس فیس وصول کی جا رہی ہے، جبکہ نیویارک کے ایک روبوٹک کیفے اور دیگر مقامات پر بھی صارفین کو ٹِپ دینے کا آپشن دیا گیا۔
مزید پڑھیں:پیزا بنائے گا روبوٹ یا انسان؟ مہنگے تجربات کے بعد مشینی پیزا کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا
روایتی طور پر صارفین انسانی ملازمین کی اچھی خدمت یا کم اجرت کے ازالے کے لیے ٹِپ دیتے ہیں، لیکن روبوٹ کو ٹِپ دینے کا تصور بہت سے لوگوں کو عجیب محسوس ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب مشین خود کوئی خدمت انجام دے رہی ہو تو ٹِپ دینے کی روایتی وجوہات بڑی حد تک ختم ہوجاتی ہیں، تاہم اگر یہ رقم انسانی ملازمین میں تقسیم ہو تو صارفین کا رویہ مختلف ہوسکتا ہے۔
🚨ROBOTS ARE ALREADY EARNING OUR TRUST BY HELPING WITH THE LITTLE THINGS FIRST
Opening a bottle. Carrying something heavy. Answering a basic question. Standing there when you need a hand.
Nobody will wake up one day and decide to let a humanoid robot into their life.
It will… pic.twitter.com/cVlSL72nH3
— Artem | AI Enthusiast (@boring_simpson) August 28, 2026
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ روبوٹ کے ذریعے وصول کی جانے والی ٹِپ کے بارے میں واضح قانونی ضوابط موجود نہیں۔ انسانی ملازمین کی ٹِپ کمپنی یا مالکان کے لیے رکھنا قانوناً ممنوع ہے، لیکن روبوٹ کو دی جانے والی رقم کے معاملے میں ایسی قانونی صورتِحال واضح نہیں۔ اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ بعض کمپنیاں روبوٹ کی آڑ میں صارفین سے اضافی رقم وصول کرکے خود رکھ سکتی ہیں۔
دوسری جانب روبوٹ ٹیکنالوجی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سروس انڈسٹری میں افرادی قوت کی کمی پوری کرنے کے لیے روبوٹس مددگار ثابت ہوسکتے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ انسانی ملازمین کی جگہ لیں۔ ایک تحقیق کے مطابق صرف 11 فیصد افراد روبوٹ بارٹینڈر کو ٹِپ دینے پر آمادہ تھے، تاہم جب بتایا گیا کہ ٹِپ انسانی ملازمین کو ملے گی تو قریباً 42 فیصد افراد نے اپنا فیصلہ بدل لیا۔
مزید پڑھیں:چین میں مشینوں کی حکمرانی؟ روبوٹکس انقلاب نے نئی بحث چھیڑ دی
ماہرین کا کہنا ہے کہ روبوٹ کو ٹِپ دینے کا رجحان مستقل ہونے کے بجائے عارضی ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر صارفین روبوٹک سروسز پر ٹِپ دینے سے گریز کریں یا اس کے باعث کاروبار کو نقصان پہنچے تو کمپنیاں یہ طریقہ ترک کرسکتی ہیں۔














