پیزا بنانے کے لیے روبوٹ تیار کرنے کا خواب بظاہر جتنا مزیدار تھا، عملی دنیا میں اتنا ہی ’جل گیا‘۔ مہنگی مشینیں، بڑے دعوے اور کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود روبوٹک پیزا بنانے والی کئی کمپنیاں بند ہوچکی ہیں، جبکہ ماہرین اب بھی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا پیزا کے تندور سے انسان واقعی رخصت ہونے والا ہے؟
برطانوی میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کے شہر سیئٹل کے موٹو پیزا ریسٹورنٹ میں پیزا بنانے والے 2 روبوٹس بھی اسی ناکام تجربے کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ یہ مشینیں آٹا پہنچانے، ساس اور پنیر لگانے اور پیپرونی چھڑکنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں، لیکن رواں برس مئی میں ان کی سپلائر کمپنی ’پکنک‘ اچانک بند ہوگئی۔ کمپنی کے بند ہوتے ہی تکنیکی معاونت بھی ختم ہوگئی اور تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر مالیت کی مشینیں عملاً بے کار ہوکر رہ گئیں۔
موٹو پیزا کے بانی لی کِنڈل کے لیے یہ تجربہ خاصا مایوس کن تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب دوبارہ کسی ایسی کمپنی کے ساتھ شراکت داری کرنے کے بارے میں سوچنے سے بھی ہچکچا رہے ہیں۔
Watch it flip the pan and dump half the food on the floor.
A $60,000 kitchen. Granite island, 6-burner range, towels on the oven handle. The humanoid in a maid's apron swings the skillet and the eggs go everywhere.
Everyone laughs at this clip. Read the timestamp instead.
18… https://t.co/nY3KHT9DzM pic.twitter.com/U3Md3KUYvH
— PoseLoss (@poseloss) August 22, 2026
روبوٹک پیزا انڈسٹری میں پکنک واحد ناکام مثال نہیں۔ ’زومے‘، ’پازی‘ اور ’بیزل اسٹریٹ‘ سمیت کئی کمپنیاں یا تو بند ہوچکی ہیں یا اپنے منصوبے سمیٹ چکی ہیں۔ بظاہر فاسٹ فوڈ کو مشینوں کے ذریعے تیار کرنا آسان دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں پیزا بنانا روبوٹس کے لیے خاصا پیچیدہ ثابت ہوا ہے۔
بینک آف امریکا کی ریسٹورنٹ تجزیہ کار سارا سینیٹور کے مطابق ابھی تک وہ کامیابیاں سامنے نہیں آسکیں جن کی توقع کی جارہی تھی۔ ان کے بقول فوڈ روبوٹس بعض اوقات اجزا غلط جگہ گرا دیتے ہیں، جبکہ انسان حیرت انگیز رفتار اور مہارت سے پیزا تیار کرتے ہیں۔
تاہم ناکامیوں کے باوجود کِنڈل کا حوصلہ نہیں ٹوٹا۔ وہ اب اپنا پیزا روبوٹ تیار کر رہے ہیں، جو تھری ڈی پرنٹر کی طرز پر کام کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تجربہ کامیاب رہا تو 2027 کی گرمیوں تک یہ مشین مکمل طور پر فعال ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روبوٹ کے ذریعے گردے کی کامیاب سرجری، یہ انسانوں سے بہتر ثابت ہوں گے، ماہرین
دوسری جانب کینیڈین کمپنی ’ایپیٹرونکس‘ نے امریکی ریاست اوہائیو کے کولمبس ایئرپورٹ پر 24 گھنٹے کام کرنے والی روبوٹک پیزا مشین نصب کردی ہے۔ کمپنی کا ہدف مستقبل میں ہر منٹ ایک پیزا تیار کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ساس لگانے کے عمل کو بھی 9.5 سیکنڈ سے کم کرکے تقریباً ڈیڑھ سیکنڈ تک لانے پر کام ہورہا ہے۔
لیکن سوال صرف رفتار کا نہیں، ذائقے اور انسانی لمس کا بھی ہے۔ کچھ ریسٹورنٹ مالکان اب بھی سمجھتے ہیں کہ پیزا صرف کھانا نہیں بلکہ ایک تجربہ ہے، جس میں گاہک اور انسان کے درمیان تعلق بھی شامل ہے۔
Overcooked? Why robotic pizza makers are failing https://t.co/7jFdTpoGVA pic.twitter.com/BBgGgr1eg4
— PMA Accountants (@PMA_Accountants) August 28, 2026
ماہرین کے مطابق روبوٹ شاید پیزا بنانے کے عمل کو تیز اور یکساں ضرور بنا دیں، لیکن مکمل خودکار ریسٹورنٹ کے راستے میں مشینوں کی ناکامی، لاگت اور انسانی رابطے کا فقدان بڑی رکاوٹیں ہیں۔
اس کے باوجود روبوٹک پیزا کے حامی پرعزم ہیں۔ لی کِنڈل کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ایک دن مکمل خودکار پیزا روبوٹ ضرور بنے گا، سوال صرف یہ ہے کہ اسے سب سے پہلے کون کامیاب بناتا ہے۔














