چین میں مشینوں کی حکمرانی؟ روبوٹکس انقلاب نے نئی بحث چھیڑ دی

منگل 25 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کے شہر ہانگژو کے ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ میں 28 سالہ استاد چن تیانیو اپنے طلبہ کو روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی تربیت دے رہے ہیں۔

ان کے سامنے تقریباً 30 نوجوان کمپیوٹر اسکرینوں پر کوڈنگ میں مصروف ہیں، جبکہ ساتھ ہی صنعتی روبوٹس کی ایک قطار مستقبل کے احکامات کی منتظر ہے۔

ایک طالب علم روبوٹ کو اس قابل بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ایک سلنڈر نما پرزہ اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کرے۔

یہ بھی پڑھیں: چین روبوٹکس کا عالمی مرکز بننے کی راہ پر، انسانی نما روبوٹس کی تیاری میں نمایاں برتری

کلاس روم کے دوسرے حصے میں طلبہ طبی آلات کے لیے روبوٹک ٹیکنالوجی تیار کر رہے ہیں۔ چن تیانیو کے لیے یہ محض ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ آنے والی دنیا کی تیاری ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دنیا میں اپنی جگہ نہیں بنا سکا تو ممکن ہے وہ ان لوگوں میں شامل ہو جائے جن کی ضرورت مستقبل میں باقی نہیں رہے گی۔

چین اس مستقبل کی تیاری بڑے پیمانے پر کر رہا ہے۔ صدر شی جن پنگ کی حکومت ملک کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی قیادت دلانے اور امریکا کے ساتھ مسابقت میں آگے لے جانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

اس تبدیلی کا سب سے نمایاں منظر چینی کارخانوں میں دکھائی دیتا ہے جہاں 20 لاکھ سے زائد روبوٹس کام کر رہے ہیں۔

چین دنیا کے صنعتی روبوٹس کا نصف سے زیادہ تیار کرتا ہے۔ کاریں بنانے سے لے کر ویلڈنگ، پینٹنگ، سامان اٹھانے اور پرزے جوڑنے تک، مشینیں ایسے کام انجام دے رہی ہیں جو کبھی مکمل طور پر انسانی محنت پر منحصر تھے۔

جنوبی شہر چینگدو کی ایک فیکٹری میں انسان اور روبوٹ ایک ہی چھت تلے کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کمپنی کے انجینئرز ایسے روبوٹس تیار کر رہے ہیں جو مستقبل میں مزید روبوٹس کی تیاری میں مدد دے سکیں۔

مزید پڑھیں: چینی روبوٹ کمپنی کی اسٹاک مارکیٹ میں شاندار انٹری، پہلے ہی روز حصص میں 600 فیصد سے زیادہ اضافہ

ایک انجینئر پینگ کائی کے مطابق چین کو ایسے روبوٹس کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ آئندہ برسوں میں ملک کے پاس کام کرنے والے افراد کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔

چین کو آبادی میں کمی اور عمر رسیدہ افرادی قوت کے چیلنج کا سامنا ہے۔ اندازوں کے مطابق 2035 تک ملک کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی 60 برس سے زائد عمر کی ہو سکتی ہے۔

ایسے میں حکومت کے لیے روبوٹکس صرف ٹیکنالوجی کا منصوبہ نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی بن چکی ہے۔

تاہم اس انقلاب کا دوسرا رخ روزگار کا خدشہ ہے۔ چین کے مینوفیکچرنگ شعبے میں اب بھی تقریباً 12 کروڑ افراد کام کرتے ہیں۔ اگر خودکاری بہت تیزی سے آگے بڑھی تو لاکھوں ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

چین کی برتری صرف روبوٹس کی تیاری تک محدود نہیں۔ ملک نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی تیزی سے پیش رفت کی ہے۔

اگرچہ امریکا اب بھی روبوٹس کے ’دماغ‘ یعنی جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی میں برتری رکھتا ہے، چینی کمپنیاں تیزی سے خلا کم کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: ’چین مصنوعی ذہانت میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے‘

ہانگژو کے ٹیکنیکل اداروں میں کم عمر طلبہ کو بھی روبوٹکس، اے آئی، انجینئرنگ اور جدید صنعتوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ جو نوجوان اس تکنیکی انقلاب کے ساتھ قدم ملا کر چلیں گے، ان کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

 

مگر اصل سوال اب بھی باقی ہے: کیا روبوٹ چین کے لیے نئی خوشحالی لائیں گے یا لاکھوں انسانوں کے روزگار کو خطرے میں ڈال دیں گے؟

چن تیانیو کے پاس اس سوال کا حتمی جواب نہیں۔ وہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

’ہم ایک جگہ بیٹھ کر سو نہیں سکتے، ہمیں آگے بڑھنا ہوگا تاکہ معلوم ہو سکے کہ ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بنی گالا پولیس کی کارروائی، گھریلو چوری میں ملوث ملزم گرفتار

امریکی قونصل جنرل کی مشیر وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات، مریم نواز کے دورۂ امریکا پر تبادلہ خیال

ایک کلک کی غلطی کس طرح ذاتی معلومات لیک کرسکتی ہیں؟ طلبہ کے لیے اہم الرٹ جاری

گلگت بلتستان کی خواتین کوہ پیماؤں نے 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سر کرلی

54 سالہ اداکارہ حمیرا بانو رشتۂ ازدواج میں منسلک، شوہر کے ہمراہ تصویر شیئر کردی

ویڈیو

دور افتادہ علاقوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے معاون فاؤنڈیشن کی کاوشیں

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کا اتحاد، کیا کارکنوں کو دونوں رہنماؤں کا ملنا قبول ہوگا؟

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

کالم / تجزیہ

مولانا کیا چاہتے ہیں؟

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا