چین کے شہر ہانگژو کے ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ میں 28 سالہ استاد چن تیانیو اپنے طلبہ کو روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی تربیت دے رہے ہیں۔
ان کے سامنے تقریباً 30 نوجوان کمپیوٹر اسکرینوں پر کوڈنگ میں مصروف ہیں، جبکہ ساتھ ہی صنعتی روبوٹس کی ایک قطار مستقبل کے احکامات کی منتظر ہے۔
ایک طالب علم روبوٹ کو اس قابل بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ایک سلنڈر نما پرزہ اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کرے۔
یہ بھی پڑھیں: چین روبوٹکس کا عالمی مرکز بننے کی راہ پر، انسانی نما روبوٹس کی تیاری میں نمایاں برتری
کلاس روم کے دوسرے حصے میں طلبہ طبی آلات کے لیے روبوٹک ٹیکنالوجی تیار کر رہے ہیں۔ چن تیانیو کے لیے یہ محض ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ آنے والی دنیا کی تیاری ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دنیا میں اپنی جگہ نہیں بنا سکا تو ممکن ہے وہ ان لوگوں میں شامل ہو جائے جن کی ضرورت مستقبل میں باقی نہیں رہے گی۔
چین اس مستقبل کی تیاری بڑے پیمانے پر کر رہا ہے۔ صدر شی جن پنگ کی حکومت ملک کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی قیادت دلانے اور امریکا کے ساتھ مسابقت میں آگے لے جانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
⚠️ “IN 3-5 YEARS, AI ROBOTS TAKE OVER ALL JOBS.”
Robots working under lifted cars — torque wrenches near the brakes, suspension work, nothing staged for a stage.
Hands in the engine bay alongside a real mechanic. Door panels unscrewed. Tires pulled, rolled, mounted. An engine… https://t.co/mJNM7ogPXr pic.twitter.com/Bt3RC0F4hJ
— DN_DEGEN (@DN_degen) August 21, 2026
اس تبدیلی کا سب سے نمایاں منظر چینی کارخانوں میں دکھائی دیتا ہے جہاں 20 لاکھ سے زائد روبوٹس کام کر رہے ہیں۔
چین دنیا کے صنعتی روبوٹس کا نصف سے زیادہ تیار کرتا ہے۔ کاریں بنانے سے لے کر ویلڈنگ، پینٹنگ، سامان اٹھانے اور پرزے جوڑنے تک، مشینیں ایسے کام انجام دے رہی ہیں جو کبھی مکمل طور پر انسانی محنت پر منحصر تھے۔
جنوبی شہر چینگدو کی ایک فیکٹری میں انسان اور روبوٹ ایک ہی چھت تلے کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کمپنی کے انجینئرز ایسے روبوٹس تیار کر رہے ہیں جو مستقبل میں مزید روبوٹس کی تیاری میں مدد دے سکیں۔
مزید پڑھیں: چینی روبوٹ کمپنی کی اسٹاک مارکیٹ میں شاندار انٹری، پہلے ہی روز حصص میں 600 فیصد سے زیادہ اضافہ
ایک انجینئر پینگ کائی کے مطابق چین کو ایسے روبوٹس کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ آئندہ برسوں میں ملک کے پاس کام کرنے والے افراد کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔
چین کو آبادی میں کمی اور عمر رسیدہ افرادی قوت کے چیلنج کا سامنا ہے۔ اندازوں کے مطابق 2035 تک ملک کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی 60 برس سے زائد عمر کی ہو سکتی ہے۔
ایسے میں حکومت کے لیے روبوٹکس صرف ٹیکنالوجی کا منصوبہ نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی بن چکی ہے۔
Can a #robot do more than run, fight or play football?
At the second World Humanoid Robot Games in Beijing, robots are being tested far beyond the sports field. Some events have moved into real hotels, libraries and firefighting facilities, where robots take on service, everyday… pic.twitter.com/lB4PAb7Dcc
— CGTN (@CGTNOfficial) August 25, 2026
تاہم اس انقلاب کا دوسرا رخ روزگار کا خدشہ ہے۔ چین کے مینوفیکچرنگ شعبے میں اب بھی تقریباً 12 کروڑ افراد کام کرتے ہیں۔ اگر خودکاری بہت تیزی سے آگے بڑھی تو لاکھوں ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
چین کی برتری صرف روبوٹس کی تیاری تک محدود نہیں۔ ملک نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی تیزی سے پیش رفت کی ہے۔
اگرچہ امریکا اب بھی روبوٹس کے ’دماغ‘ یعنی جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی میں برتری رکھتا ہے، چینی کمپنیاں تیزی سے خلا کم کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: ’چین مصنوعی ذہانت میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے‘
ہانگژو کے ٹیکنیکل اداروں میں کم عمر طلبہ کو بھی روبوٹکس، اے آئی، انجینئرنگ اور جدید صنعتوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ جو نوجوان اس تکنیکی انقلاب کے ساتھ قدم ملا کر چلیں گے، ان کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

مگر اصل سوال اب بھی باقی ہے: کیا روبوٹ چین کے لیے نئی خوشحالی لائیں گے یا لاکھوں انسانوں کے روزگار کو خطرے میں ڈال دیں گے؟
چن تیانیو کے پاس اس سوال کا حتمی جواب نہیں۔ وہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
’ہم ایک جگہ بیٹھ کر سو نہیں سکتے، ہمیں آگے بڑھنا ہوگا تاکہ معلوم ہو سکے کہ ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔‘














