نامور فکشن نگار اور مترجم الطاف فاطمہ اردو کے ان معدودے چند ادیبوں میں شامل ہیں جنہیں ایوارڈ سے انکار کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔
یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا
ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمان کی طرح ان کے انکار کی روایت میں سرکاری اور غیر سرکاری ایوارڈ شامل ہیں۔
الطاف فاطمہ کے تمغہ حسنِ کارکردگی لینے سے گریز کی بابت میں جانتا تھا لیکن اس موضوع پر لکھنے سے پہلے میں چاہتا تھا کہ کوئی اور حوالہ بھی ہاتھ آجائے تو تحریر اور محکم ہو جائے گی۔
یہ بات میرے علم میں تھی کہ زندگی کے آخری برسوں میں معروف مترجم ہما انور کی نہ صرف الطاف فاطمہ سے ملاقاتیں رہی ہیں بلکہ ایک شہر میں رہتے ہوئے ان میں خط و کتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
میں نے چند دن پہلے ہما انور سے پوچھا کہ کیا کسی خط میں الطاف فاطمہ نے ایوارڈ کے بارے کچھ لکھا تھا؟ ان کی طرف سے اس سوال کا جواب نہ صرف ہاں میں ملا بلکہ انہوں نے بڑی مہربانی یہ کی کہ ان خطوط کی نقول بھی فراہم کردیں جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔
ایک خط میں الطاف فاطمہ نے لکھا:
’اور ہاں ہما اب تم کبھی سوچنا بھی نہیں کہ میں کوئی ایوارڈ قبول کر لوں گی۔‘
ایک دوسرے خط میں ان کا مؤقف قدرے کھل کر سامنے آیا ہے جس میں ان کی فطری انکساری اور خودداری کا اظہار بھی ہوتا ہے :
’ہاں وہ ایوارڈ کا تو یہ قصہ ہے یہ تیسری مرتبہ ہے جو میں نے ایوارڈ لینے سے انکار کیا ہے، وہ یہ کہ اول تو مجھے صدق دل سے یہ یقین ہے کہ میری کوئی بھی تحریر اس پیمانے پر پوری اترنے کے قابل نہیں کہ اسے ایوارڈ ملے، اور میں نے ایسا کیا کردیا ہے کہ جس سے ہمارے ملک اور قوم کی کسی بھی حالت زار میں رتی برابر فرق پڑا ہو۔ پھر میں کاہے کو یہ بار گراں اپنے نااہل کندھوں پر اٹھاؤں اور پھر میں ان بڑھکیں مارنے والے لاہور کو پیرس بنانے والے بڑبولوں کے سامنے جا کر کھڑی ہوں جہاں تک میری ضرورت اور مالی استطاعت کا سوال ہے تو اللہ کا بڑا کرم ہے کہ میں ہزاروں لاکھوں سے زیادہ بہتر حالات میں خود کفیل ہوں۔‘
سرکاری ایوارڈ کے بعد اب غیر سرکاری ایوارڈ سے ان کے انکار کے باب میں جانتے ہیں۔
معروف نقاد ڈاکٹر تحسین فراقی سے ایک ملاقات میں مجلس فروغ اردو ادب دوحہ قطر کے اس معروف ایوارڈ کا تذکرہ ہوا جسے سلیم صاحب نے لینے سے معذرت کی تھی۔ میں نے فراقی صاحب سے پوچھا کہ کیا ان سے پہلے بھی اس ایوارڈ کی تاریخ میں ’انکار‘ کی مثال موجود تھی؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ وہ اس کمیٹی کا حصہ تھے جس نے الطاف فاطمہ کو ایوارڈ دینے کی منظوری دی تھی لیکن انہوں نے ایک سخت خط لکھ کر ایوارڈ قبول کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔
الطاف فاطمہ کی اس ایوارڈ ٹھکراؤ پالیسی کی وجہ سے میں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ان میں اور محمد سلیم الرحمان میں یہ قدر مشترک ہے کہ وہ دونوں سرکاری اور غیر سرکاری ایوارڈ لینے سے انکار کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ خالی خولی ایوارڈ نہیں تھے ان کے ساتھ لاکھوں کی انعامی رقم بھی تھی۔
محمد سلیم الرحمٰن نے 2016 میں تمغہ حسنِ کارکردگی اور 2024 میں اکادمی ادبیات کی طرف سے کمال فن ایوارڈ لینے سے انکار کیا تھا۔
الطاف فاطمہ کے ایوارڈ سے دور بھاگنے کے بارے میں نقطہ نظر آپ نے جان لیا ہے۔ محمد سلیم الرحمان کی اس حوالے سے رائے معروف نقاد ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے دی نیوز میں سلیم صاحب پر مضمون سے معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے ناصر صاحب کو بتایا تھا کہ جس ملک میں عوام کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہو وہاں وہ ایسا ایوارڈ کیسے قبول کر سکتے تھے جس کے ساتھ 10 لاکھ کی رقم بھی ملتی ہے۔
وہ اپنے انکار کو اشتہار نہیں بنانا چاہتے، ان کی دانست میں یہ بس ایک درست فیصلہ تھا نہ کہ توجہ حاصل کرنے کا عمل۔
صاحبو! سچ تو یہ ہے سوشل میڈیا پر اپنے قدر دانوں کی طرف سےایوارڈ واپسی کو کارنامے کے طور پر پیش کرنے کا عمل بھی انہیں خوش نہیں آتا۔
سوشل میڈیا پر کسی صاحب نے لکھا کہ سلیم صاحب نے کون سا مزاحمتی ادب لکھا ہے، اب ان صاحب کے ذہن میں نہ جانے ادب کا کیا تصور ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ ان صاحب کی نظر سے سلیم صاحب کی تخلیق ’ظالم بادشاہوں کے لیے نظم‘ گزری ہوگی نہ انہوں نے ’سائبیریا‘ افسانہ پڑھا ہوگا جس کے بارے میں محمد عمر میمن نے لکھا تھا: ’اس گھٹن اور فرسٹریشن پر جو بعض لوگوں کو ایک خاص سیاسی دور میں محسوس ہوتی ہے، اس سے بہتر اور مؤثر شاید ہی کوئی اور کہانی مل سکے۔‘ اور نہ ہی ان حضرت نے ارجنٹائن کے معروف شاعر اور آمریت کے خلاف مزاحمت کار خوان خیل مان کا پوتے یا پوتی کے نام درد سے معمور کھلے خط کا ترجمہ دیکھا ہوگا اور یقیناً وہ سلیم صاحب کے قلم سے کارل چاپیک کی کہانی ’وہ بھی کیا دن تھے‘ کے ترجمے سے بھی بے خبر ہوں گے جو 1979 میں ضیا آمریت میں عبداللہ ملک کے پرچے احتساب میں شائع ہوا تھا جو مزاحمتی ادب کا نمائندہ تھا۔ یہ چند مثالیں تو ارتجالاً ذہن میں آ گئیں، دوسرے یہ ہے کہ طاقت کے مراکز سے دور رہنا اور ان کے دام میں نہ پھنسنا بھی مزاحمت کی ایک شکل ہے۔ اس کی طرف ممتاز نقاد شمیم حنفی نے کچھ یوں اشارہ کیا تھا:
’ہمارے ادیب اور ہمارا ادبی معاشرہ، دونوں، اپنے آپ کو دنیا طلبی اور حقیر وقتی مراعات کی حصول یابی کے اس چھچھورے، نمائشی اور غرض مندانہ عمل سے آزاد اور محفوظ رکھیں، جس کا جال ہمارے چاروں طرف پھیلا ہوا ہے۔‘
شمیم صاحب نے جن آلائشوں سے ادیب کو دور رہنے کو کہا ہے اس سے ہمارے یہاں کتنے لوگ دامن بچا سکے ہیں، بہت کم بہت ہی کم۔ اور ان حضرات کی کڑی سے کڑی فہرست میں سلیم صاحب کا نام ضرور شامل ہوگا۔
الطاف فاطمہ کے بارے میں اس حوالے سے میں کیا لکھوں کہ یہ کام نہایت عمدگی سے معروف لکھاری زاہدہ حنا کر چکی ہیں:
’کہانیوں، ناولوں اور ترجموں کے انبار لگاتی ہوئی بچوں کو بھولی بسری اورنئی نویلی کہانیاں سناتی ہوئی یہ گوشہ گیر لکھن ہاری نہ کلکٹر، نہ کمشنر، نہ کسی ادبی تحریک میں شریک، نہ تحسینِ باہمی کے کسی دائرے میں شامل، نہ مے سے کام نہ مے پرستوں سے کلام، نہ سر کے گرد رسوائیوں کا ہالہ، نہ شانوں پر سرکاری انعام و اکرام کا دوشالہ، ایک ایسی جوگن بیراگن کی طرف ادب کے بادشاہ گر نظر بھر کر بھی کیوں دیکھتے؟ سو الطاف فاطمہ اپنی لکھت کی گٹھری کاندھے پر دھرے، ناقدری کا، کالا پانی کاٹ رہی ہیں۔ اردو ناول و افسانے کے پارکھ ان سے سرسری گزرے تو یہ الطاف فاطمہ کا گھاٹا نہیں، اُردو ادب کا زیاں ہے۔‘
ادبی سیاست میں ادیبوں کو انعام و اکرام دینے کے ساتھ ساتھ ان کی کتابوں کو انعام دینے کا بھی ایک سلسلہ ہے جس پر اعتراضات کی بھی بڑی پرانی تاریخ ہے۔ ان میں بھی ایوارڈ کی طرح ہیرا پھیری عام ہے۔ ادیبوں کے لیے ان کی بھی بڑی اہمیت ہے، ان کے لیے میں نے دوستی کے شیشے میں بال آتے بھی دیکھا ہے۔
ممتاز شاعر سرمد صہبائی نے مجھے بتایا تھا کہ بہت سال پہلے انہوں نے ایک ادیب شہیر کا تعارف کرواتے ہوئے اس کی کتاب کو آدم جی ادبی ایوارڈ ملنے کا حوالہ نہ دیا تو فاضل ادیب خاصے برہم ہوئے۔
اس ایوارڈ کے تعلق سے سب سے مشہور قصہ تو ممتاز مفتی کے ناول ’علی پور کا ایلی‘ کا ہے جس کے ناشر اشفاق احمد نے اسے شتابی سے شائع کرکے آدم جی ادبی ایوارڈ کی ریس میں اس یقین کے ساتھ شامل کیا تھا کہ وہ مقابلہ ضرور جیت لے گا کیونکہ ان کے خیال میں یہ ’فسانہ آزاد‘ کے بعد اردو کا دوسرا عظیم ناول تھا لیکن اسے جمیلہ ہاشمی کے ’تلاشِ بہاراں‘ نے پچھاڑ دیا تھا۔ ممتاز مفتی اور ان کے ہم نواؤں نے اس کا خاصا غم منایا۔ آدم جی ادبی انعام کے انتظامی امور کے نگران اور معتمدِ اعزازی جمیل الدین عالی نے ’علی پور کا ایلی‘ کو انعام نہ ملنے کو اردو ادب کے ساتھ ناانصافی قرار دیا تھا۔
اس انعام نہ ملنے پر ابنِ انشا نے دلچسپ پیرائے میں تبصرہ کیا تھا:
’اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1961میں چھپا تھا جو 250 جلدوں پر مشتمل تھا ۔ یہ ایڈیشن افراتفری میں چھپا۔ یہ افراتفری آدم جی انعام سے متعلق تھی۔ اب یہ اس لیے مشہور ہے کہ اس پر آدم جی انعام نہ ملا۔ آدم جی انعام کے فاضل ججوں نے انعام نہ دے کر قوم کو اس ناول سے بچانے کی کوشش کی لیکن تقدیر پر کس کا بس چلتا ہے۔‘
یہ تمہید اس لیے باندھی کہ کتاب کو انعامی مقابلے میں داخل نہ کرنے کے معاملے میں بھی محمد سلیم الرحمان اور الطاف فاطمہ ایک ہی کشتی کے سوار رہے، اس لیے ان کی طبع زاد اور ترجمہ شدہ کتابیں ایوارڈ کی تہمت سے پاک ہیں۔
2008 میں ایکسپریس اخبار کے لیے معروف صحافی کرامت علی بھٹی کو انٹرویو میں الطاف فاطمہ نے بتایا تھا کہ انہیں کبھی کتاب کی تقریبِ رونمائی میں دلچسپی رہی نہ ہی وہ دوسروں کے ترغیب دلانے پر کتابوں کو انعامی دوڑ میں شامل کرنے پر راضی ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نمایاں ہونے کا خبط عامیانہ رویہ ہے جس نے اچھے بھلے ادیبوں کا قد چھوٹا کر دیا ہے۔
الطاف فاطمہ نے کرامت بھٹی کو بتایا تھا:
’آج تک جتنا بھی اچھا ادب تحریر ہوا وہ نقادوں کے کندھوں پر سوار ہو کر لوگوں کے دلوں میں نہیں اترا۔ اچھا ادیب نقاد کے کندھوں کا محتاج نہیں۔ عمر خیام نے تو اپنے کلام کی شہرت کے لیے کوئی تقریبِ پذیرائی منعقد نہ کی۔ خود مجھے کئی بار اپنی کتابیں ایوارڈ کے لیے بھیجنے کی ترغیب دلائی گئی لیکن میں نے ہمیشہ انکار کیا۔ میرے لکھے سے خودکش حملے رک جاتے، قومی سطح پر سچ کو فروغ ملتا، کنفیوژن کا خاتمہ ہو جاتا یا کراچی کے حالات ٹھیک ہو جاتے تو بے شک ایوارڈ بھی لے لیتی۔ در اصل دیانت داری اور اپنے کام سے لگن ہی میرا اصل ایوارڈ ہے۔‘
ادب میں سلیم صاحب اور الطاف فاطمہ سے بلند کرداروں کے برعکس کرداروں کی بھرمار ہے۔ انہیں میں جب بھی دیکھتا ہوں تو مجھے لاؤ تزہ کی کتاب ’داؤ دَا جِنگ‘ کا خیال آتا ہے جسے چینی سے توشی ہیکو ایزوتسو نے انگریزی قالب میں ڈھالا۔ اسے سید حسین نصر نے فارسی میں مع شرح منتقل کیا اور اردو میں یہ کام محمد سہیل عمر کے وسیلے سے ہمارے سامنے آیا ہے۔ علم کی دنیا میں چراغ سے چراغ جلنا اسی کو کہتے ہیں۔ اس میں سے ایک باب میں شامل چند اقوال سے ادب سمیت مختلف شعبوں کی تیز طرار، برخود غلط اور ثنائےخود بخود کے خوگروں کے چہرے نظر آتے ہیں:
وہ جو پنجوں کے بل کھڑا ہے، کبھی جم کر کھڑا نہیں ہو سکتا
وہ جو لمبے لمبے ڈگ بھرتا چل رہا ہے، دور تک نہیں جا پاتا
جو خود نمائی میں پڑ گیا اسے تابندگی نہیں ملتی
جو خود کو ہمیشہ حق پر سمجھے، کبھی ممتاز نہیں ہو سکتا
خود ستائی کے عادی شخص میں کوئی خوبی نہیں
لاف زنی کرنے والے کا معاملہ زیادہ دیر تک نہیں چلتا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












