قبض، گٹر اور انقلاب

پیر 31 اگست 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوشل میڈیا دور میں ہمارے ہاں ایک صورتحال بار بار دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کسی کو قبض ہوجائے اور گیسز دماغ پر چڑھ کر بے چینی پیدا کردیں تو اسے لگتا ہے، ماحول انقلاب کے لیے تیار ہے۔ چنانچہ اس کی اگلی پوسٹ یہی ہوتی ہے کہ بھئی انقلاب کسی بھی وقت آنے کو ہے۔ مضحکہ خیزی کی حد دیکھیے کہ یہ خوشخبری سنانے والا خود انقلاب کا انتظار فیس بک پر ہی کرتا ہے۔ سو جوں ہی دیکھتا ہے کہ گوادر میں جماعت اسلامی کے کسی اجنبی سے لیڈر نے عام معمولی سے بڑی ریلی نکال دی ہے، یا بنوں میں اچانک کوئی بڑا جلوس نکلا ہے تو اسے لگتا ہے۔

’آگیا بھئی! آگیا انقلاب آگیا!‘

مگر اس سے بھی آگے کے نمونے تو وہ ہوتے ہیں جو پوچھتے ہیں

’اگر پولیس ہمیں روکے گی تو انقلاب کیسے آئے گا؟‘

انقلاب سے متعلق ہمارے ہاں گھسا پٹا سا تصور یہ ہوتا ہے کہ یہ اچانک پھٹ پڑنے والے اس عوامی لاوے کو کہتے ہیں جس میں کچھ دیر کے لیے پارلیمنٹ بلڈنگ پر قبضہ ہوجاتا ہے، حکمران بھاگ جاتے ہیں، اور پیچھے نئے چہرے اقتدار سنبھال لیتے ہیں۔ سو پہلی چیز تو یہ سمجھ لیجیے کہ اسے انقلاب نہیں بلکہ سی آئی اے کا رجیم چینج آپریشن کہتے ہیں۔ اس کے لیے ٹارگٹ ملک کے نوجوانوں میں این جی اوز کی مدد سے ڈالرز اور اس چی گویرا کی تصاویر والی ٹی شرٹس بانٹی جاتی ہیں جسے قتل ہی خود سی آئی اے نے کیا تھا۔ اور جب یہ آپریشن کامیاب ہوجاتا ہے تو امریکی قیادت کی خوشیاں چھپائے نہیں چھپتیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ رجیم چینج آپریشن ہوتا ہے تو پھر انقلاب کیا ہوتا ہے؟ انقلاب کا تعارف یوں طے ہوگا کہ سب سے پہلے انقلاب سے جڑا بنیادی سوال درست کیا جائے۔ بنیادی سوال یہ نہیں کہ انقلاب کیسے آتا ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ انقلاب کے لیے معاشرہ کیسے تیار ہوتا ہے؟ اس سوال کے درست جواب کے لیے لازم ہے کہ سب سے پہلے یہ نکتہ سمجھ لیا جائے کہ ہر بڑا عوامی احتجاج انقلاب نہیں ہوتا، ہر حکومت کی تبدیلی انقلاب نہیں ہوتی، اور ہر ہنگامہ انقلاب کی ابتدائی شکل نہیں ہوتا، بلکہ حقیقی انقلاب اپنی ساخت میں ایک ایسا تغیر ہوتا ہے، جس میں صرف حکمران نہیں بدلتے بلکہ اقتدار کے بارے میں معاشرے کے تصورات، اداروں کی ترتیب، سیاسی اختیار کی تقسیم اور بالآخر ریاست و سماج کے باہمی تعلق میں بنیادی تبدیلی آتی ہے۔

اور اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ پورا عمل پانچ مراحل سے گزرتا ہے۔ پہلی چیز تو بے چینی ہی ہے، مگر اہم ترین بات یہ ہے کہ محض بے چینی کافی نہیں۔ ہر معاشرے میں کسی نہ کسی درجے میں غربت، ناانصافی، مہنگائی، طبقاتی تفریق، سیاسی جبر یا حکمرانوں سے ناراضی موجود ہوتی ہے۔ مگر ان میں سے بیشتر معاشرے انقلاب سے نہیں گزرتے۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ محرومی انقلاب کی شرط تو ہے، مگر انقلاب کی وجہ نہیں۔ فرانس میں انقلاب اس لیے نہیں آیا تھا کہ روٹی مہنگی ہوگئی تھی۔ روس میں بھی غربت اور جنگ موجود تھی، مگر انقلاب کے لیے اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ سیاسی اور ریاستی بحران درکار تھا۔ یہ پیچیدہ بحران انقلاب کی تشکیل کس طرح کرتا ہے؟ یہ اگلے چار مراحل میں واضح ہوگا۔

دوسرا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ شکایت کو فرد کی سطح سے اٹھ کر ایک اجتماعی تصور میں تبدیل ہونا پڑتا ہے۔ یعنی میری محرومی کو ہماری محرومی میں بدلنا ہوتا ہے۔ جب اجتماعی شعور یہ مؤقف اختیار کرلے کہ مسئلہ یہ نہیں حکمران طبقہ خراب ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ سسٹم فساد کی جڑ ہے جو ایک خاص طرح کے حکمران طبقے کے لیے ہی موزوں ہے تو یہاں سے انقلاب کی گویا بنیاد پڑ جاتی ہے۔ سو یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں مؤقف ایک جوہری تبدلی اختیار کر لیتا ہے۔ اب مؤقف یہ نہیں رہتا کہ حکمران نااہل اور کرپٹ ہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ نظام کرپٹ ہے، اس طرح کے نظام میں اسی طرح کی شکلیں مسلط ہوسکتی ہیں۔

اگر آپ ان دو مراحل کو دیکھ کر خوش ہونا شروع ہوچکے کہ دو مراحل کی جھلک تو اپنے ہاں نظر آرہی ہے۔ تو پرجوش ہونے میں جلد بازی نہ کیجیے، کیونکہ تیسرا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ موجود نظام اپنی اخلاقی حیثیت کھونے لگتا ہے۔ اس مرحلے پر ہوتا یہ ہے کہ لوگ نظام اور اس کے متولی حکمرانوں کو جائز ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ معاشرے کا ایک بڑا حصہ یہ سوال اٹھا دیتا ہے کہ ہم اس نظام کو آخر مان ہی کیوں رہے ہیں؟ یہ خطرے کا پہلا بڑا سائرن ہوتا ہے، کیونکہ جب یہ سوال اجتماعی آواز بن جائے تو اس کے بعد ریاست کا حکم صرف حکم رہ جاتا ہے، اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔ اب اتنی سی بات تو آپ بھی جانتے ہوں گے کہ ہمارے ہاں فی الحال اجتماعی سوال یہ ہے کہ حکومت کیا کررہی ہے ؟ پمز میں 14 بچے آگ کی نذر کیسے ہوگئے؟ یعنی فی الحال نظام اور اس کے متولیوں سے خیر کی امید باقی ہے، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ جنہیں آئے روز انقلابی گُڑگُڑ سنائی دیتی ہے، انہیں کسی اچھے حکیم کا قبض کشا چورن استعمال کرنا چاہیے۔

اگر آپ کا انقلاب کا خطرہ ٹل چکا تو آئیے چوتھے مرحلے کی جانب۔ جب نظام اور اس کے حکمران جواز کھو دیتے ہیں تو اگلے مرحلے میں کھڑا ہوتا ہے بحران، لیکن یہ بحران یونہی کھڑا نہیں ہوتا بلکہ طبقاتی کشمکش، سیاسی عدم اعتماد، معاشی بحران، ریاستی اداروں کی کمزوری، حکمران طبقے کی اندرونی تقسیم، متبادل سیاسی تصور کی طلب، اور عوامی غصے کے اجزائے ترکیبی ایک لاوے کو وجود بخش چکے ہوتے ہیں، اب بس ضرورت ہوتی ہے اس محرک کو جو اس لاوے کو ٹریگر کرکے پھاڑ ڈالے۔

کوئی جنگ، قتل، انتخابی بحران، معاشی انہدام، غذائی بحران یا ریاستی غلطی وہ وجہ بن جاتی ہے جو پہلے سے جمع شدہ لاوے کو متحرک کردیتی ہے، اب یہاں آپ کو ایک انتہائی اہم نکتہ سمجھنا ہے۔ وہ یہ کہ واقعہ انقلاب پیدا نہیں کرتا، واقعہ پہلے سے تیار شدہ انقلابی ماحول کو پھاڑ دیتا ہے۔ جانتے ہیں اس کا مطلب کیا ہوا؟ یہ ہوا کہ گوادر اور بنوں والی ریلیاں، یا کرنل والا حالیہ واقعہ کسی چیز کو اس لیے ٹریگر نہ کرسکا کہ یا تو لاوا ہی موجود نہ تھا، یا پھر لاوے کا کوئی اہم جزو فی الحال غائب تھا۔ ہمارے خیال میں کیا چیز غائب ہے، اس پر ہم پانچویں مرحلے میں موم بتی سے روشن آنے کی کوشش کرنے جا رہے ہیں۔ مگر یہ نہ بھولیے گا کہ ہمارے ہاں تیسرا مرحلہ پہلے ہی غائب ہے۔

پانچواں مرحلہ ہے متبادل نظام کا تصور۔ ہمارے شائقین انقلاب کا سب سے بڑا بحران ہی یہ ہے کہ یہ محض عوامی غصے کے اظہار کو ہی انقلاب سمجھ بیٹھتے ہیں، اور یہ بھول جاتے ہیں کہ عوامی غصہ تو دو چار گھنٹے کے لاٹھی چارج اور ایک ہفتے کے کرفیو سے میدان چھوڑ کر بھاگ اٹھتا ہے۔ اگر نظام سے تنگ لوگوں کے پاس متبادل نظام ہی نہ ہو تو کم سے کم یہ ہوگا کہ امن و امان کا وقتی بحران کھڑا ہوجائےگا، جسے حکومت کنٹرول کرلے گی یا زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ حکومت مستعفی ہوجائےگی، اور نام نہاد انقلابی اسی پر بغلیں بجا کر گھروں کو لوٹ جائیں گے۔

حقیقی انقلاب کے پیچھے ہمیشہ ایک نیا سیاسی تصور موجود ہوتا ہے۔ فرانسیسی انقلاب کے پاس بادشاہت کے مقابلے میں آزادی، مساوات اور شہری حاکمیت کا تصور تھا۔ روسی انقلاب کے پاس پرانے نظام کے مقابلے میں ایک منظم نظریاتی متبادل بھی تھا۔ ایرانی انقلاب کے پیچھے بھی محض شاہ سے نفرت نہیں تھی، ایک مخصوص مذہبی و سیاسی تصور موجود تھا۔ یعنی انقلاب صرف اور نہیں سے نہیں آتا، اسے ایک ہاں بھی درکار ہوتی ہے، پرانا نظام نہیں تو نیا کیا؟ یہ اتنا اہم سوال ہے کہ اس کے جواب میں انقلابیوں کے پاس متبادل نہ ہو تو انقلابی ہجوم ملک کا وجود ہی خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔ متبادل تھا نہیں، اور پرانا نظام گرادیا تو دشمن کو اور کیا چاہیے؟ اب بس انتظار کیجیے کہ اس کے ٹینک آپ کی سرحد کب عبور کرتے ہیں۔

امید ہے اپ کو اس سوال کا جواب مل چکا ہوگا کہ معاشرہ انقلاب کے لیے کیسے تیار ہوتا ہے۔ اور یہ تسلی بھی ہوگئی ہوگی کہ پاکستان میں فی الحال کوئی انقلابی صورتحال نہیں، فقط قبض کی شکایات ہیں۔ لیکن بات اتنے سادہ نوٹ پر بھی نہیں چھوڑی جاسکتی۔ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہماری حقیقی صورتحال ہے کیا؟ ہم وہ معاشرہ ہیں جو درجنوں سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہے، ہر جماعت کا ورکر اپنے لیڈر کو نجات دہندہ سمجھتا ہے، اور ہر جماعت کا بنیادی خواب یہ ہے کہ ہمارا لیڈر آئے گا تو سب ٹھیک ہوجائے گا، تو یہ کیفیت بظاہر کتنی ہی انقلابی کیوں نہ لگتی ہو، حقیقت میں انقلاب کی ضد ہے۔ کیونکہ یہاں نظام سے بغاوت نہیں، نظام پر قبضے کی خواہش پائی جاتی ہے۔ ذرا اس غیر معمولی فرق کو سمجھیے کہ انقلابی کا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ نظام بدلو، جبکہ ہمارے ہاں کہا جارہا ہے، نظام کو بدلنے کے لیے کسی گیٹ نمبر چار سے میرے لیڈر کو لاؤ۔ پاکستان کی حالت تو یہ ہے کہ ایک بندہ گٹر کے ڈھکن بدل کر ان پر لکھ دیتا ہے ’فکس اِٹ‘ تو ہم یہ سوچے بغیر اسے بھی انقلابی مان لیتے ہیں حالانکہ گٹروں سے انقلاب نہیں غلاظت برآمد ہوتی ہے۔ ایسے معاشرے میں انقلاب؟ بھول جاؤ بیٹا !

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملکہ الزبتھ دوم کو ناراض کردینے والے گوریلا آرٹسٹ ’ہیلچ‘ 34 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

اسکاٹش حکومت سے اسرائیل کے خلاف پابندیاں مکمل طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ

نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کررہے ہیں، مصطفیٰ کمال

لیونل میسی کا بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں، علاقائی سیکیورٹی اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال

ویڈیو

آبنائے ہرمز کے اعصابی مرکز لارک جزیرے پر امریکی حملہ، محدود کارروائی یا نئی جنگ کا آغاز؟

سرکاری و نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پمز آتشزدگی: 1122 پر کال موصول ہوتے ہی ریسکیو فائر بریگیڈ کی گاڑی 6 منٹ میں اسپتال کیسے پہنچی؟

کالم / تجزیہ

پاکستان ہاکی کا زوال کیسے ختم ہوگا؟

سلام سسٹر رضیہ نورین!

اسپتال میں پیٹ نہیں، پورا نظام کٹا