افغانستان میں طالبان مخالف گروہوں کے حملوں میں اضافہ، ایک ماہ میں 50 کارروائیوں کا دعویٰ

اتوار 30 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں طالبان مخالف 3 مسلح گروہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں کم از کم 50 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں درجنوں طالبان جنگجوؤں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

افغانستان فریڈم فرنٹ، یونائیٹڈ فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کی جانب سے طالبان کے خلاف حملوں میں اگست کے دوران نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ ان گروہوں نے گوریلا کارروائیوں کے ساتھ براہِ راست محاذ پر لڑائی بھی شروع کردی ہے۔

افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق 23 جولائی سے 22 اگست کے دوران 8 صوبوں میں طالبان کے خلاف 21 کارروائیاں کی گئیں، جن میں 65 طالبان ارکان ہلاک اور تقریباً 90 زخمی ہوئے۔ گروہ کے مطابق بدخشاں کا ضلع زیبک اس کی کارروائیوں کا مرکزی مرکز رہا، جبکہ بغلان، کابل، قندھار، ننگرہار، فاریاب، نورستان اور پنجشیر میں بھی حملے کیے گئے۔

یونائیٹڈ فرنٹ نے یکم اگست کو طالبان کے خلاف مسلح کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ گروہ کے مطابق 20 اگست تک قندھار، ہلمند، بادغیس، غور اور فاریاب سمیت مختلف علاقوں میں تقریباً 20 حملے کیے گئے، جن میں متعدد طالبان جنگجو مارے گئے۔

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے 29 جولائی سے 29 اگست کے دوران بدخشاں، قندوز، ہرات اور بغلان میں طالبان کے خلاف 9 حملوں کا دعویٰ کیا۔ گروہ کے مطابق 13 اگست کو فیض آباد کے طالبان مقرر کردہ میئر حبیب الرحمان منصور اور ان کے محافظوں کو ایک ہدفی حملے میں ہلاک کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان نے افغانستان میں فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع روک دی

رپورٹ کے مطابق طالبان نے جوابی کارروائی میں 20 اگست کو شمالی سالنگ میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے ایک اہم کمانڈر حسیب پنجشیری اور ان کے ساتھیوں کو ایک جھڑپ میں ہلاک کردیا۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کے زیبک، یفتل، کشم اور یمگان اضلاع حالیہ لڑائی کے اہم مراکز بن گئے ہیں، جبکہ طالبان مخالف گروہوں کی حکمت عملی گوریلا حملوں سے براہِ راست محاذ پر لڑائی کی جانب بڑھ رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp