جنوبی سوڈان کی ریاست جونگلی میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے گشت پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 2 ایتھوپین امن اہلکار ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے، جس پر افریقی یونین نے شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
افریقی یونین کمیشن کے چیئرمین محمود علی یوسف نے 25 اگست کو اقوام متحدہ کے مشن کے مشترکہ گشت پر ہونے والے حملے کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے ہلاک ہونے والے 2 ایتھوپین اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
African Union Commission Chairperson Condemns the Fatal Attack on UN Peacekeepers In South Sudan.
The Chairperson of the African Union Commission, H.E. Mahmoud Ali Youssouf, @ymahmoudali strongly condemns the fatal attack carried out by unidentified assailants against a joint… pic.twitter.com/M6Zkjj37ri
— African Union (@_AfricanUnion) August 28, 2026
انہوں نے جنوبی سوڈان کے حکام سے مطالبہ کیا کہ حملے کی فوری تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو گرفتار اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ انہوں نے ایتھوپیا کی حکومت اور ہلاک و زخمی امن اہلکاروں کے اہل خانہ، ساتھیوں اور دوستوں سے تعزیت بھی کی۔
افریقی یونین نے جنوبی سوڈان میں قابلِ اعتماد جمہوری منتقلی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے حکومت اور عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی سوڈان میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی عالمی کوششوں کی حمایت کا اعادہ
دوسری جانب اقوام متحدہ کے مشن نے علاقے کو محفوظ بنانے اور ہنگامی امدادی کارروائیوں میں معاونت کے لیے فوری ردعمل دینے والی فورس تعینات کردی ہے۔
افریقی یونین نے جنوبی سوڈان میں قابلِ اعتماد جمہوری منتقلی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے حکومت اور عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔














