بھارت میں سوشل میڈیا انفلوئنسر کااغوا، تشدد کے بعد زندہ جلا دی گئی

اتوار 30 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 چندی گڑھ میں 28 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر منجیت کور مبینہ طور پر اغوا، تشدد اور زندہ جلائے جانے کے تقریباً 8 ہفتے بعد دورانِ علاج دم توڑ گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق منجیت کور نے 26 اگست کو چندی گڑھ کے پوسٹ گریجویٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پی جی آئی ایم ای آر) میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہاری۔

رپورٹ کے مطابق منجیت کو 3 جولائی کی رات چندی گڑھ کے سیکٹر 34 میں ایک شراب کی دکان کے قریب ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا۔ اہل خانہ کی شکایت کے مطابق شبھی اور پنڈا نامی 2 جاننے والوں نے اسے مبینہ طور پر زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور پنجاب کے شہر مورِندا لے گئے۔

شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہاں منجیت کور کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بعد ازاں اسے شہتوت کے درخت سے باندھ کر آگ لگا دی گئی۔ ایک شخص نے اسے آگ کی لپیٹ میں دیکھا اور کمبل کی مدد سے آگ بجھانے کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا۔

منجیت کو پہلے موہالی کے اسپتال لے جایا گیا، تاہم حالت تشویش ناک ہونے کے باعث 9 جولائی کو پی جی آئی ایم ای آر چندی گڑھ منتقل کردیا گیا، جہاں وہ کئی ہفتوں تک بے ہوش رہی۔

اہل خانہ کے مطابق 5 اگست کو منجیت کو مختصر طور پر ہوش آیا اور اس نے مبینہ حملے سے متعلق اہل خانہ کو بتایا، تاہم بعد میں اس کی حالت دوبارہ بگڑ گئی اور وہ شدید جھلسنے کے باعث 26 اگست کو دم توڑ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:ٹک ٹاکر گلمینہ قتل کیس میں اہم پیشرفت، ملزمان سے متعلق سنسنی خیز انکشافات

منجیت کی موت کے بعد چندی گڑھ پولیس نے سیکٹر 34 تھانے میں مقدمہ درج کرکے 2 مشتبہ افراد کو نامزد کیا ہے۔ پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے جبکہ اہل خانہ اور دوستوں سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp