آسٹریلیا کے جنوبی حصے میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں جمع ہونے والی دیوہیکل کٹل فش کی افزائش کا موسم اس بار قریباً خاموش ہوگیا، جس پر ماہرین نے آبادی میں ممکنہ تباہ کن کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
مزید پڑھیں: موجودہ ٹیکس نظام کو چھیڑے بغیر مچھلی کی برآمدات بڑھانے کے لیے مراعاتی اسکیم لانے کی تیاری
جنوبی آسٹریلیا کی اسپینسر گلف میں واقع پوائنٹ لوولی کے ساحل پر ہر سال موسم سرما میں ہزاروں بلکہ بعض برسوں میں ایک لاکھ سے زائد دیوہیکل کٹل فش افزائش نسل کے لیے جمع ہوتی ہیں۔ یہ دنیا میں کٹل فش کا واحد بڑا اجتماعی افزائشی اجتماع سمجھا جاتا ہے، جہاں نر کٹل فش رنگ اور جسمانی شکلیں بدل کر ماداؤں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔
AUSTRALIAN GIANT CHAMELEON OF THE SEA. 🐙
WHO IS SHE?
SCIENTIFIC NAME: SEPIA APAMA
LIVES IN THE COOL WATERS OF SOUTHERN AUSTRALIA
FOUND MAINLY AROUND WHYALLA, SOUTH AUSTRALIA
THE BIGGEST CUTTLEFISH SPECIES ON EARTH. CAN GROW UP TO 50CM AND WEIGH 10KG+ pic.twitter.com/IkS6v3qMVu— king’s boy (@EmpireObaR) August 27, 2026
تاہم رواں سال غوطہ خوروں کے ایک سروے میں صرف 44 کٹل فش دیکھی گئیں، جبکہ عام طور پر یہاں دسیوں ہزار سے لاکھوں کٹل فش موجود ہوتی ہیں۔ سروے میں صرف 440 انڈے بھی ملے، حالانکہ معمول کے برسوں میں ان کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ برس جنوبی آسٹریلیا میں آنے والی شدید زہریلی الجی کی تباہ کن لہروں نے سمندری ماحول کو بری طرح متاثر کیا، جس کے اثرات کٹل فش کی افزائش پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کی مکمل وجوہ جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔
مزید پڑھیں:لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران
کٹل فش کی یہ مخصوص آبادی اپنی مختصر زندگی کے باعث ہر سال کامیاب افزائش نسل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، کیونکہ افزائش کے بعد بالغ کٹل فش عموماً مر جاتی ہیں۔ اس لیے رواں سال افزائشی موسم میں غیر معمولی کمی آئندہ نسل کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔














