آسٹریلیا: دیوہیکل کٹل فش کی افزائش کے موسم میں مچھلیوں کی تعداد میں تشویشناک کمی

اتوار 30 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسٹریلیا کے جنوبی حصے میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں جمع ہونے والی دیوہیکل کٹل فش کی افزائش کا موسم اس بار قریباً خاموش ہوگیا، جس پر ماہرین نے آبادی میں ممکنہ تباہ کن کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

مزید پڑھیں: موجودہ ٹیکس نظام کو چھیڑے بغیر مچھلی کی برآمدات بڑھانے کے لیے مراعاتی اسکیم لانے کی تیاری

جنوبی آسٹریلیا کی اسپینسر گلف میں واقع پوائنٹ لوولی کے ساحل پر ہر سال موسم سرما میں ہزاروں بلکہ بعض برسوں میں ایک لاکھ سے زائد دیوہیکل کٹل فش افزائش نسل کے لیے جمع ہوتی ہیں۔ یہ دنیا میں کٹل فش کا واحد بڑا اجتماعی افزائشی اجتماع سمجھا جاتا ہے، جہاں نر کٹل فش رنگ اور جسمانی شکلیں بدل کر ماداؤں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

تاہم رواں سال غوطہ خوروں کے ایک سروے میں صرف 44 کٹل فش دیکھی گئیں، جبکہ عام طور پر یہاں دسیوں ہزار سے لاکھوں کٹل فش موجود ہوتی ہیں۔ سروے میں صرف 440 انڈے بھی ملے، حالانکہ معمول کے برسوں میں ان کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ برس جنوبی آسٹریلیا میں آنے والی شدید زہریلی الجی کی تباہ کن لہروں نے سمندری ماحول کو بری طرح متاثر کیا، جس کے اثرات کٹل فش کی افزائش پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کی مکمل وجوہ جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران

کٹل فش کی یہ مخصوص آبادی اپنی مختصر زندگی کے باعث ہر سال کامیاب افزائش نسل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، کیونکہ افزائش کے بعد بالغ کٹل فش عموماً مر جاتی ہیں۔ اس لیے رواں سال افزائشی موسم میں غیر معمولی کمی آئندہ نسل کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp