لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چینی سائنس دانوں نے آسٹریلیا کے مغرب میں بحر ہند کی گہرائیوں میں وہیل مچھلیوں کا دنیا کا سب سے بڑا اور قدیم ترین قبرستان دریافت کرلیا جہاں تقریباً 53 لاکھ سال پرانے سیکڑوں فوسلز موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لپشاور: سنسان راتوں میں چڑیل کا گشت، بسیرا قبرستان، معاملہ کیا نکلا؟

بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ حیران کن دریافت آسٹریلیا کے مغرب میں واقع ڈیامانٹینا کے علاقے میں کی گئی جہاں سمندر کی تہہ میں تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہڈیوں کا ایک وسیع سلسلہ پایا گیا۔ بعض مقامات پر اس کی گہرائی 7 ہزار میٹر تک ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز کے محققین نے سنہ 2023 میں گہرے سمندر میں جانے والی آبدوز فینڈوژے کے ذریعے 32 تحقیقی مشنز مکمل کیے جن کے دوران مختلف اقسام کی چونچ دار وہیل مچھلیوں کے 485 فوسلز دریافت ہوئے۔

تحقیقاتی ٹیم نے روبوٹک بازوؤں کی مدد سے نمونے جمع کیے تو معلوم ہوا کہ مردہ وہیلز کی باقیات پر جیلی فش، نازک ستاروں جیسی سمندری مخلوقات، ہڈیوں کو خوراک بنانے والے کیڑے اور 2 خول رکھنے والی کئی جاندار اقسام آباد تھیں۔

سائنس دانوں کے مطابق ان میں سے بعض انواع ممکنہ طور پر سائنس کے لیے نئی ہیں جبکہ فوسلز میں وہیل کی ایک نئی معدوم شدہ نسل کے آثار بھی ملے ہیں۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ژیاوٹونگ پینگ کے مطابق قبرستان کے حجم نے محققین کو حیران کر دیا۔

مزید پڑھیے: روس میں نیپولین کے 3 لاکھ فوجی کیسے مرے؟ قبرستان سے حاصل شدہ ڈین این اے سے نئے انکشافات

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ فوسلز کی تعداد کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ اس علاقے میں ایک کروڑ سے زائد وہیلز کی باقیات موجود ہوں جنہوں نے مجموعی طور پر تقریباً 67 لاکھ ٹن کاربن کو سمندر کی تہہ میں محفوظ کیا ہوگا۔

محققین کے مطابق اس خطے میں موجود وی نما قدرتی گہرا حصہ مردہ وہیلز کو سمندر کی تہہ تک پہنچانے میں مدد دیتا رہا جس کے نتیجے میں لاکھوں برس کے دوران ہڈیوں کا یہ عظیم ذخیرہ وجود میں آیا۔

سائنس دانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ مردہ وہیلز کے قریب پائی جانے والی بعض مخلوقات وہی ہیں جو گرم پانی کے زیر سمندر چشموں اور قدرتی گیس کے اخراج والے مقامات کے آس پاس بھی دیکھی جاتی ہیں۔

تحقیق کے مصنفین نے ان مقامات کو سلفر پر منحصر جانداروں کے لیے ارتقائی مراکز اور حیاتیاتی راہداریوں سے تعبیر کیا ہے جو مختلف سمندری انواع کے ارتقا اور پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ناروے میں دنیا کا پہلا تجارتی کاربن ڈائی آکسائیڈ قبرستان قائم

امریکی ماہرِ سمندریات کریگ اسمتھ، جنہوں نے سنہ 1987 میں پہلی بار سمندر کی تہہ میں مردہ وہیل کے گرد آباد ایک ماحولیاتی نظام دریافت کیا تھا نے اس نئی دریافت کو انتہائی اہم قرار دیا۔ جبکہ امریکی ماہرِ آثار قدیمہ اسٹیفن گاڈفری نے اسے سنہ 1977 میں زیر سمندر گرم چشموں کے گرد موجود حیاتیاتی برادریوں کی دریافت کے برابر قرار دیتے ہوئے دنیا بھر میں مزید ایسے قبرستانوں کی تلاش پر زور دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سوشل میڈیا کریئیٹرز پر ٹیکس کا نیا طریقہ متعارف: یوٹیوب کے ایک ہزار ویوز پر 195 روپے آمدن شمار ہوگی

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی ضرورت پڑی تو ضرور لگے گی: فیصل کریم کنڈی

سعودی عرب میں پاک افواج دہائیوں سے متعدد شعبوں میں موجود ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کا سی این این کو انٹرویو

پیٹرول مہنگا، ڈیزل سستا، 8 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

سرکاری اور پرائیویٹ حج اسکیم میں بکنگ جاری، 65 ہزار سے زیادہ عازمین نے واجبات جمع کرا دیے

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان ایک پیج پر؟ حکومت کی مذاکرات کی آفر ایک ٹریپ

’پانی اور واش روم کی سہولت نہیں، مٹی پر سوتے ہیں‘، لانگ مارچ میں شامل پی ٹی آئی کارکنان رات کیسے گزارتے ہیں؟

متنی کے عوام پانی، صحت اور تعلیم کو ترس گئے، مگر خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات جلسے، جلوس اور لانگ مارچ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف! رک جاؤ

سات سالہ حبیبہ کے اسکول سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر

37 گیندیں، جب آفریدی افسانہ بنا