اسپتال میں پیٹ نہیں، پورا نظام کٹا

اتوار 30 اگست 2026
author image

نعمت خان

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے ناظم آباد میں ایک عورت اسپتال پہنچی۔ کہا گیا، بچہ ہونے والا ہے۔ آپریشن ہوا۔ کاغذوں میں بچہ پیدا بھی ہوگیا۔ پھر خبر آئی کہ بچہ تھا ہی نہیں۔

اب ذرا رک کر سوچیے۔

ایک عورت کے پیٹ میں بچہ نہ ہو اور پھر بھی اسے آپریشن تھیٹر تک پہنچا دیا جائے، اس کا پیٹ کاٹ دیا جائے، اور بعد میں معلوم ہو کہ حمل نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں تو اسے کیا کہیں گے؟

غلط فہمی؟ غفلت؟ طبی جرم؟ یا پاکستانی نظام کا ایک اور ایسا شاہکار جس پر پہلے حیرت ہوتی ہے، پھر غصہ، اور آخر میں آدمی صرف یہ کہہ کر خاموش ہوجاتا ہے کہ ’بھائی، یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے‘۔

27 اگست کو زوبیہ، زوجہ راشد کو ناظم آباد کے ہمدرد اسپتال لایا گیا۔ معاملہ زچگی کا بتایا گیا۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق سی سیکشن ہوا اور بچے کی پیدائش کا اندراج بھی کیا گیا۔ پھر اسپتال انتظامیہ نے کہا کہ پیٹ میں بچہ موجود ہی نہیں تھا۔ لواحقین نے شور مچایا کہ بچہ غائب کردیا گیا ہے۔ احتجاج ہوا۔ توڑ پھوڑ ہوئی۔ سوشل میڈیا پر قیامت آگئی۔ مگر اصل دھماکا 28 اگست کو ہوا۔

کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق معائنے میں حمل کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ایچ سی جی اور رحم کے حجم سمیت طبی شواہد حمل کے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔

ہاں، پیٹ پر تقریباً 14 سینٹی میٹر کا تازہ آپریشن موجود تھا۔ یعنی بچہ نہیں تھا۔ مگر چیرا تھا۔ اور یہی اس کہانی کا سب سے خوفناک اور افسوسناک پہلو ہے۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش اور پولیس سرجن کی رپورٹ کے مطابق جس الٹراساؤنڈ رپورٹ کی بنیاد پر حمل کا دعویٰ کیا گیا، وہ مشتبہ یا جعلی ہوسکتی ہے اور مبینہ طور پر اسے موبائل فون پر دکھایا گیا تھا۔

اب سوال خاتون سے بھی ہوگا۔ مگر اس سے بڑا سوال اسپتال سے ہونا چاہیے۔ طبی اصولوں کے مطابق معائنے کے 4 بنیادی مراحل (معائنہ، چھان بین، ہاتھ سے جانچ اور آواز سننا) ہوتے ہیں، جن کے بعد لیبارٹری ٹیسٹ یا پییلوسکوپی الٹراساؤنڈ کیا جاتا ہے۔ 38 ہفتے کا رحم پیٹ کے معائنے سے واضح دکھائی دیتا ہے، جسے 8 سے 10 گھنٹے کے دوران مریضہ کا معائنہ کرنے والا طبی عملہ کیسے نظر انداز کر سکتا ہے؟

موبائل فون میں دکھائی گئی تصویر کو دیکھ کر کسی عورت کا پیٹ کیسے کاٹ دیا گیا؟ مریضہ کو اتنے طویل مراحل سے گزرنا پڑا جن میں 3 اسٹاف نرسیں، 2 جونیئر ڈاکٹرز/آر ایم اوز، ایک اینستھیٹسٹ اور ایک گائنی کنسلٹنٹ شامل تھے۔ کیا ان میں سے کسی نے فزیکل معائنہ نہیں کیا؟ سی ٹی جی (بچے کے دل کی دھڑکن) کی 2 پٹیاں کیسے ریکارڈ کی گئیں جبکہ رحم میں بچہ موجود ہی نہیں تھا؟ سرجیکل اور پوسٹ آپریٹو نوٹس میں زندہ بچے کی پیدائش کا ذکر کیسے آگیا؟ اس خاتون کو کونسلنگ کی ضرورت تھی نہ کہ سیزرین کی، یا پھر ہمارے ہاں کاغذ، موبائل اسکرین اور مریض کا جسم، تینوں برابر درجے کے ’ثبوت‘ ہیں؟

اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو یہ صرف ایک عورت کی کہانی نہیں۔ یہ اس پورے نظام کا سوال ہے جس کے ہاتھ میں مریض اپنی جان دے کر آتا ہے۔ طبی اخلاقیات کا بنیادی اصول ’پہلا اصول: نقصان نہ پہنچاؤ‘ کا یہاں کس طرح استحصال کیا گیا، یہ سب کے سامنے ہے۔

اب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ زوبیہ نے حمل کا جھوٹ بولا ہے۔ یہ ممکن ہے اور شواہد بھی یہ بتا رہے ہیں۔ اور یقیناً اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ایک اور سوال بھی پوچھنا ہوگا۔ اسے جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟

ہمارے ہاں عورت کی شادی ہوتے ہی اس کا رحم اجتماعی ملکیت بن جاتا ہے۔ ساس کو خبر چاہیے۔ نند کو خبر چاہیے۔ پڑوس کو خبر چاہیے۔ رشتہ داروں کو خبر چاہیے۔ سب کو خوشخبری چاہیے اور سب سے بڑھ کر خاندان کو ’وارث‘ چاہیے۔

حمل نہ ٹھہرے تو عورت مشکوک،  دیر ہوجائے تو عورت قصوروار۔ بیٹی ہوجائے تو بھی عورت ذمہ دار  اور اگر بچہ نہ ہو تو معاشرہ فیصلہ سنا دیتا ہے کہ مسئلہ اسی میں ہے۔

ہم نے عورت کو اتنی بار بتایا ہے کہ اس کی قدر اس کی ماں بننے کی صلاحیت سے جڑی ہے کہ کبھی کبھی وہ خود بھی یہی سمجھنے لگتی ہے۔ ممکن ہے کہ زوبیہ نے جھوٹ بولا ہو، اس لیے اس کیس کو صرف ’جھوٹی حمل کی کہانی‘ سمجھنا آسان مگر خطرناک بھی ہے۔

اگر عورت نے جھوٹ بولا تو اس نے ایک مسئلہ پیدا کیا۔ لیکن اگر اسپتال نے مناسب تصدیق کے بغیر آپریشن کیا تو اس نے اس مسئلے کو 14 سینٹی میٹر کے زخم میں تبدیل کردیا۔

فرق سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ ایک خاتون کہتی ہے، ’میرے پیٹ میں بچہ ہے‘۔ ڈاکٹر کا جواب ہونا چاہیے کہ ’بی بی ثبوت دکھائیں‘ نہ یہ کہ ’آپریشن تھیٹر تیار ہے‘۔

طب کا بنیادی اصول تصدیق ہے۔ اور اگر تصدیق کے بغیر ایک صحت مند عورت کا پیٹ کاٹ دیا گیا تو پھر یہ پوچھنا ضروری ہے کہ آپریشن تھیٹر میں موجود ہر فرد نے کیا دیکھا، کیا جانچا اور کس بنیاد پر فیصلہ کیا؟ کیونکہ سرجری ایسی چیز نہیں کہ غلط نکلی تو ’معذرت‘ کرکے آگے بڑھ گئے۔

اصل تفتیش ابھی باقی ہے۔ اس معاملے میں میڈیکل کمیشن اور اسپتال انتظامیہ کو ایک ایک سوال کا جواب دینا ہوگا۔ الٹراساؤنڈ کہاں سے آیا؟ اصل رپورٹ کس کی تھی؟ اس کی تصدیق کس نے کی؟ آپریشن کا فیصلہ کس بنیاد پر ہوا؟ آپریشن تھیٹر کے ریکارڈ میں بچے کی پیدائش کیسے درج ہوئی؟ اگر بچہ موجود نہیں تھا تو یہ اندراج کس نے کیا؟ اور سب سے اہم یہ کہ ایک غیر حاملہ عورت کے پیٹ پر سی سیکشن کا چیرا کیوں ہے؟

یہ سوال متاثرہ خاندان کا نہیں۔ یہ سوال ہر اس شخص کا ہے جو اسپتال کی سفید چادر دیکھ کر سمجھتا ہے کہ یہاں کم از کم اس کے زخموں کو مرہم لگیں گے نہ کہ چیرے لگیں گے۔

مسئلہ دراصل اس نظام کا ہے جس میں پہلے پیٹ کاٹا جاتا ہے، پھر حقیقت تلاش کی جاتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp