مریم کی دستک کے بعد ’بولو کشمیر‘، آزاد کشمیر میں اب پنجاب ماڈل چلے گا، افتخار گیلانی نے سمت واضح کردی

اتوار 30 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے قیام اور افتخار گیلانی کے بطور وزیراعظم حلف اٹھانے کے ساتھ ہی ریاستی سیاست میں ترقی، گڈ گورننس اور عوامی فلاح کے ایک نئے ماڈل کی بحث شروع ہوگئی ہے۔ نومنتخب وزیراعظم افتخار گیلانی نے اپنے پہلے خطاب میں یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ ان کی حکومت آزاد کشمیر میں محض روایتی سیاسی انداز کے بجائے ایسا طرز حکمرانی اپنانا چاہتی ہے جس میں عوامی مسائل کا فوری حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی عمل نمایاں ہو۔

افتخار گیلانی نے اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران کہاکہ آزاد کشمیر میں اسی طرح تبدیلی لائیں گے جیسے پنجاب میں مریم نواز لائی ہیں۔ یہ جملہ محض سیاسی بیان نہیں بلکہ نئی حکومت کی ممکنہ حکمرانی کی سمت کا ایک واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

پنجاب ماڈل سے آزاد کشمیر تک، کیا تبدیل ہونے جا رہا ہے؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دور حکومت میں عوامی سہولت، صحت، تعلیم، ٹیکنالوجی، نوجوانوں، انفراسٹرکچر اور انتظامی اصلاحات کو حکومتی بیانیے کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی مریم نواز ڈیجیٹل گورننس، نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم اور روزگار کے مواقع دینے، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے پر زور دیتی رہی ہیں۔

افتخار گیلانی کا پنجاب ماڈل کا حوالہ دینا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ آزاد کشمیر میں بھی حکومت عوام کو براہ راست ریلیف دینے والے منصوبوں، انتظامی کارکردگی بہتر بنانے اور حکومتی اداروں کی جواب دہی بڑھانے کو ترجیح دے سکتی ہے۔

یعنی ’پنجاب ماڈل‘ کا مطلب اگر آزاد کشمیر کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کے بنیادی خدوخال میں عوامی سہولت، تیز رفتار فیصلے، گڈ گورننس، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کو عملی شکل دینا شامل ہوسکتا ہے۔

عوام کے مسائل سننے کے لیے ’بولو کشمیر‘ کی گونج

آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم نے وزارت عظمیٰ سنبھالتے ہی عوامی مسائل کو اپنی حکومت کی ترجیحات میں شامل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

نئے وزیراعظم نے ’بولو کشمیر‘ کے نام سے سٹیزن پورٹل قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس پورٹل کے ذریعے شہری اپنی شکایات درج کراسکیں گے جبکہ وزیراعظم نے خود شکایات سننے کا اعلان کیا ہے۔

اس اقدام کو ان کے گورننس وژن کا اہم حصہ قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے حکومت اور شہری کے درمیان براہ راست رابطے کا ایک ڈیجیٹل ذریعہ قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

افتخار گیلانی کے مطابق حکومت کی کوشش ہوگی کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور موجودہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ’مریم کی دستک‘ کے بعد ’بولو کشمیر‘ کا سیاسی تصور اہم ہوجاتا ہے۔ پنجاب میں مریم نواز حکومت کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو عوامی سطح پر براہ راست رسائی اور عوامی مسائل کو حکومتی پالیسی کا مرکز بنانا رہا ہے۔

اب آزاد کشمیر میں افتخار گیلانی کی جانب سے پنجاب میں آنے والی تبدیلی کو بطور مثال پیش کیے جانے سے یہ توقع پیدا ہوئی ہے کہ ریاست میں بھی حکومت اور عام شہری کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

مسلم لیگ ن کی حکومت، مرکز اور پنجاب سے ہم آہنگی

آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے قیام کے بعد وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے ساتھ سیاسی ہم آہنگی بھی نئی حکومت کے لیے ایک اہم موقع ہوسکتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے افتخار گیلانی کو وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔

مریم نواز نے کہاکہ قائد محمد نواز شریف کی بصیرت سے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی ہے اور آزاد کشمیر میں ترقی و خوشحالی کا دور شروع ہورہا ہے۔

اس سیاسی ہم آہنگی کے باعث افتخار گیلانی حکومت کو وفاق اور پنجاب کے تجربات، انتظامی تعاون اور ممکنہ وسائل سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم اصل امتحان اس تعاون کو عملی منصوبوں اور عوامی ریلیف میں تبدیل کرنا ہوگا۔

اصل چیلنج: پنجاب ماڈل کی نقل نہیں، آزاد کشمیر کے مطابق تشکیل

تاہم آزاد کشمیر کے حالات پنجاب سے مختلف ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے دشوار گزار پہاڑی علاقے، محدود مالی وسائل، سیاحت، بجلی، سڑکوں، انٹرنیٹ، روزگار، صحت اور تعلیم کے مسائل اپنی نوعیت کے منفرد تقاضے رکھتے ہیں۔

اس لیے وزیراعظم افتخار گیلانی کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ پنجاب کے کامیاب تجربات کو من و عن نقل کرنے کے بجائے انہیں آزاد کشمیر کی ضروریات کے مطابق ڈھالا جائے۔

اگر پنجاب ماڈل سے مراد انتظامی رفتار، عوامی سہولت، جدید ٹیکنالوجی، شفافیت، گڈ گورننس اور براہ راست عوامی ریلیف ہے تو یہ اصول آزاد کشمیر کے لیے بھی مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں مقامی حالات اور وسائل کے مطابق نافذ کیا جائے۔

’تبدیلی‘ کے نعرے سے عملی کارکردگی تک

افتخار گیلانی کے لیے سیاسی طور پر سب سے بڑا امتحان یہی ہوگا کہ ان کے ابتدائی اعلانات عملی اقدامات میں کتنی تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں۔

وہ 30 ووٹ حاصل کرکے آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہوئے اور حلف اٹھانے کے بعد اسمبلی میں اپنے خطاب میں سب کو مل کر آزاد کشمیر کو مثال بنانے کے لیے کام کرنے کی دعوت دے چکے ہیں۔

اب ان کے سامنے ایک طرف پارٹی اور حکومتی نظم و نسق کو مستحکم کرنے کا چیلنج ہے تو دوسری جانب عوام کی توقعات کا دباؤ بھی موجود ہے۔ ایسے میں ’پنجاب میں مریم نواز کی تبدیلی‘ کو بطور سیاسی حوالہ دینے کے بعد عوامی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ افتخار گیلانی آزاد کشمیر میں اس ماڈل کو کس حد تک عملی شکل دیتے ہیں۔

یوں ’مریم کی دستک‘ کے بعد آزاد کشمیر میں ’بولو کشمیر‘ کا مرحلہ شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں نئی حکومت کے دعوؤں اور وعدوں کو اب عملی کارکردگی کے پیمانے پر پرکھا جائے گا۔

اگر گڈ گورننس، بنیادی سہولیات، جدید ٹیکنالوجی، عوامی ریلیف اور تیز رفتار انتظامی فیصلے حکومت کے ابتدائی اقدامات کا حصہ بنتے ہیں تو افتخار گیلانی کا پنجاب ماڈل کا اعلان آزاد کشمیر کی سیاست میں محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ حکومتی پالیسی کی سمت متعین کرنے والا بیان ثابت ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp