لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر 3 میچز کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔
انگلینڈ نے پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 389 رنز کا ہدف دیا تھا، تاہم پاکستانی ٹیم دوسری اننگز میں بھی بیٹنگ کا بحران ختم نہ کرسکی اور 194 رنز پر پوری ٹیم پویلین لوٹ گئی۔
انگلینڈ کی دوسری اننگز 208 رنز پر ختم
میچ کے چوتھے روز انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز کا دوبارہ آغاز 177 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ سے کیا۔ انگلینڈ کی باقی تین وکٹیں اسکور میں مزید 31 رنز کا اضافہ ہونے کے بعد گر گئیں اور پوری ٹیم 54.2 اوورز میں 208 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
انگلینڈ کی دوسری اننگز میں ڈین لارنس نمایاں رہے۔ ایسیکس کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ بیٹر نے 70 گیندوں پر 54 رنز کی اننگز کھیلی، جو ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی چھٹی نصف سینچری ہے۔
پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 57 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ 36 سالہ محمد عباس کی لارڈز کے میدان میں یہ پہلی پانچ وکٹوں کی کارکردگی ہے، جبکہ کسی پاکستانی باؤلر کی جانب سے لارڈز میں پانچ وکٹیں لینے کا یہ ساتواں موقع ہے۔ خرم شہزاد اور محمد علی نے بھی 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
389 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا بیٹنگ آرڈر ناکام
انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 290 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم صرف 110 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔ یوں انگلینڈ کو پہلی اننگز میں 80 رنز کی برتری حاصل ہوئی اور اس نے دوسری اننگز میں 208 رنز بناکر پاکستان کے سامنے 389 رنز کا ہدف رکھ دیا۔
پاکستان کی دوسری اننگز میں بھی امام الحق پنڈلی کی تکلیف کے باعث دستیاب نہیں تھے، چنانچہ شان مسعود کے ساتھ اذان اویس نے اننگز کا آغاز کیا۔
پاکستان کو صرف 14 رنز کے مجموعی اسکور پر اس وقت بڑا نقصان اٹھانا پڑا جب اذان اویس، عبداللہ شفیق اور کپتان بابر اعظم کی وکٹیں جلدی گر گئیں۔
اس مشکل صورتحال میں شان مسعود اور سعود شکیل نے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی اور دونوں کے درمیان 97 رنز کی شراکت قائم ہوئی۔
شان مسعود ڈی آر ایس کے ذریعے آؤٹ
چوتھے روز کھانے کے وقفے کے بعد بارش کے باعث کھیل کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا۔ کھیل دوبارہ شروع ہونے پر پاکستان کا مجموعی اسکور 111 رنز تھا جب اولے رابنسن کی گیند شان مسعود کے پیڈز پر لگی۔
جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے امپائر پالیکر نے ابتدائی طور پر شان مسعود کو ناٹ آؤٹ قرار دیا، تاہم انگلینڈ نے ریویو لیا تو ڈی آر ایس میں گیند وکٹوں سے ٹکراتی ہوئی دکھائی دی، جس کے بعد امپائر کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔
شان مسعود 72 گیندوں پر 26 رنز بناکر آؤٹ ہوئے اور یوں ان کی اور سعود شکیل کی 97 رنز کی شراکت اختتام پذیر ہوگئی۔
محمد رضوان بھی بڑی اننگز نہ کھیل سکے
چھٹے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے۔ وہ صرف 9 گیندیں کھیلنے کے بعد اولے رابنسن کا شکار بن گئے۔
رضوان نے وکٹوں کی جانب آتی گیند پر گھٹنا زمین پر رکھتے ہوئے بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش کی، لیکن گیند ان کے پیڈ سے ٹکرائی اور انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا گیا۔
چائے کے وقفے کے بعد علی عثمان بھی 16 رنز بناکر جوفرا آرچر کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔
سعود شکیل سینچری سے صرف 3 رنز دور رہ گئے
دوسرے اینڈ پر سعود شکیل نے مزاحمت جاری رکھی، تاہم وہ اپنی پانچویں ٹیسٹ سنچری مکمل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ جوش ٹنگ کو پل شاٹ کھیلنے کی کوشش میں سعود شکیل نے گیند ہیری بروک کے ہاتھوں باؤنڈری لائن پر کیچ کروا دی۔
سعود شکیل نے 122 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 13 چوکے اور 2 چھکے لگائے اور 97 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، تاہم سنچری سے صرف 3 رنز کی دوری پر ان کی مزاحمت ختم ہوگئی۔
ان کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کی آخری وکٹیں بھی جلد گر گئیں اور پوری ٹیم دوسری اننگز میں 194 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
اولے رابنسن کی تباہ کن بولنگ
انگلینڈ کی جانب سے اولے رابنسن سب سے کامیاب باؤلر ثابت ہوئے، جنہوں نے صرف 24 رنز دے کر پاکستان کے 4 بیٹرز کو پویلین بھیجا۔
انگلینڈ نے یوں لارڈز ٹیسٹ 194 رنز سے اپنے نام کرلیا اور تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 0-2 کی ناقابلِ شکست فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں شروع ہوگا۔













