خیبر پختونخوا میں رواں سال ڈینگی وائرس کے 478 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ سرکاری اسپتالوں سے ڈینگی کے 2,697 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مزید 620 مشتبہ کیسز سامنے آئے، جن میں سے 83 میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس سسٹم (IDSR) کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں رواں سال اب تک ڈینگی سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔ پشاور 177 مصدقہ کیسز کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے، جبکہ کوہاٹ میں 151، بنوں میں 31، ہری پور میں 21 اور سوات میں 10 کیسز سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ڈینگی سے جلد صحتیابی کے لیے کو ن سی غذائیں اکسیر؟
رپورٹ کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان، باجوڑ اور نوشہرہ میں 8، 8 مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ خیبر، لکی مروت، لوئر دیر اور شمالی وزیرستان میں 2، 2 کیسز سامنے آئے۔ اورکزئی میں ڈینگی کا ایک کیس رپورٹ ہوا، جو صوبے میں سب سے کم تعداد ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق ڈینگی کے پھیلاؤ کی روک تھام اور مچھروں کی افزائش گاہوں کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر نگرانی کی جارہی ہے۔ صوبے بھر میں 2 لاکھ 46 ہزار سے زائد گھروں کا معائنہ کیا گیا، جہاں 600 مقامات پر ڈینگی لاروا کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ اس کے علاوہ 22 ہزار سے زائد بیرونی مقامات کی بھی جانچ کی گئی، جن میں 304 مقامات پر ڈینگی لاروا پایا گیا۔ 12 اضلاع میں لاروا کے خاتمے کے لیے تکنیکی اقدامات بھی کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے ڈینگی کی کہانی، ہزار سال پرانی
تاہم محکمہ صحت نے بڑے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن (MTI) اسپتالوں سے ڈینگی سے متعلق اعداد و شمار موصول نہ ہونے کو ایک اہم چیلنج قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق بڑے طبی مراکز سے مکمل ڈیٹا دستیاب نہ ہونے کے باعث صوبے میں ڈینگی کی مجموعی صورتحال کا درست اندازہ متاثر ہوسکتا ہے۔













