سردار امان کی جانب سے مہاراجہ ہری سنگھ کے بیٹے کو کشمیر کی ریاست میں حکمرانی کی دعوت دینے سے متعلق بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین نے بیان کو کشمیری تاریخ اور ڈوگرہ دور کے مظالم سے متصادم قرار دیتے ہوئے ایکشن کمیٹی کی قیادت پر بھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ سردار امان کا مہاراجہ ہری سنگھ کے بیٹے کو ریاست کشمیر میں آکر حکومت کرنے کی دعوت دینا کشمیری عوام کے تاریخی زخموں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ڈوگرہ دور میں کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نوعیت کا بیان قابلِ تشویش ہے۔
یہ بھی پڑھیے بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کی سیاست؟ سردار امان کے تعلیم سے متعلق مطالبے پر سوالات
ایک بیان میں ایکشن کمیٹی کی قیادت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے مفادات کے بجائے بیرونی قوتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ناقدین نے خصوصاً سردار امان کو بھارت کا مبینہ کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے ان کے سیاسی مؤقف پر سوالات اٹھائے ہیں، تاہم ان الزامات کے حق میں فراہم کردہ مواد میں کوئی آزاد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے پولیس اہلکاروں کا اغوا اور تشدد: کیا یہی کالعدم ایکشن کمیٹی کا ’پر امن‘ احتجاج ہے؟
ناقدین نے مغربی میڈیا سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں اور اس کی قیادت کے بیانات کا جائزہ لے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے خطے کی تاریخ، خصوصاً ڈوگرہ دور میں ہونے والے واقعات، کو سامنے رکھتے ہوئے سیاسی معاملات پر بحث ہونی چاہیے۔













