پمز میں 14 بچوں کی ہلاکت: ذمہ دار افسران کے خلاف فوجداری مقدمہ تاحال درج نہ ہوسکا

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کے پمز اسپتال میں 14 بچوں کی اندوہناک ہلاکت کے واقعے پر ذمہ داران کے خلاف تاحال فوجداری مقدمہ درج نہیں ہوسکا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ذمہ دار افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کی منظوری دیے جانے کے باوجود اس حوالے سے تحریری احکامات ابھی تک جاری نہیں کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق فوجداری مقدمے کے اندراج کے لیے ضروری تحریری احکامات جاری نہ ہونے کے باعث پولیس کی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔ وزارتِ صحت کی جانب سے حتمی ہدایات موصول ہونے کے بعد مقدمے کے اندراج اور باقاعدہ تحقیقات کا عمل شروع ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو پمز سانحے کے حوالے سے خصوصی اجلاس کی صدارت کی، جس میں واقعے کے ذمہ داران کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت مقدمات درج کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے پمز سانحہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران معطل، وزیراعظم کا ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم

تاہم وزارتِ صحت کی جانب سے تاحال فوجداری کارروائی کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکا، جبکہ مقدمہ درج کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس وزارتِ صحت کی جانب سے استغاثے کی منتظر ہے۔ پولیس حکومتی احکامات موصول ہونے کے بعد مزید کارروائی کرے گی۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے پمز سانحے کے حوالے سے ابتدائی طور پر دفعہ 174 کے تحت رپورٹ درج کر رکھی ہے، جبکہ اس معاملے پر قانونی مشاورت بھی جاری ہے۔ حتمی فیصلہ ہونے کے بعد استغاثہ تیار کیا جائے گا اور پہلے سے درج دفعہ 174 کی رپورٹ کو باقاعدہ مقدمے میں تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔

رپورٹ کو مقدمے میں تبدیل کیے جانے کے بعد واقعے کی باقاعدہ فوجداری تحقیقات شروع ہوسکیں گی اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پمز سانحے پر اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت 8 افسران کو معطل کرنے کی منظوری بھی دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

معطل کیے جانے والے افسران میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر طاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس شاہ، نیونیٹل ڈپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمان شامل ہیں۔

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سانحے کے ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ اجلاس میں ذمہ داروں کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp