بھارت کے خلائی تحقیق کے ادارے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کی کم لاگت خلائی پروگرام کی کئی دہائیوں پر محیط شہرت کو ایک نئی تحقیق نے چیلنج کردیا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ محققین کی تحقیق کے مطابق فی کلوگرام سامان خلا میں پہنچانے کی لاگت کے اعتبار سے بھارت امریکا کے مقابلے میں قریباً 4 گنا زیادہ مہنگا ہے۔
تحقیق کے مطابق 1960 سے 2025 تک دنیا بھر میں کیے گئے 6740 راکٹ لانچوں کے اخراجات کا جائزہ لیا گیا، جس میں بھارت میں فی کلوگرام پے لوڈ خلا تک پہنچانے کی اوسط لاگت 13 ہزار 302 ڈالر جبکہ امریکا میں یہ لاگت 3 ہزار 325 ڈالر رہی۔
اس تحقیق نے اسرو کے اس تاثر پر بھی سوال اٹھایا ہے جس کے باعث اسے طویل عرصے سے دنیا کے کم خرچ خلائی پروگراموں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔
مریخ مشن نے اسرو کو کم لاگت خلائی پروگرام کی پہچان دی
اسرو کو عالمی سطح پر کم لاگت خلائی مشنز کے حوالے سے خاص شہرت حاصل رہی ہے۔ 2014 میں بھارت نے اپنے مریخ مشن کو قریباً 7 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی لاگت سے کامیابی سے مکمل کیا تھا۔ یہ مشن ناسا اور یورپی خلائی اداروں کے اسی نوعیت کے منصوبوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر سستا تھا۔
اسی کامیابی کے بعد اسرو کی کم لاگت خلائی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں اس کی ایک بڑی شناخت بن گئی اور مختلف ممالک نے اپنے مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے کے لیے بھارتی ادارے کی خدمات حاصل کیں۔
تاہم نئی تحقیق میں سامنے آنے والے اعداد و شمار اس عمومی تصور سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
امریکا کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ لاگت کیوں؟
کیمبرج یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات الیسیو تیرزی اور اٹلی کی یونیورسٹی پولی ٹیکنیکو دی تورینو سے وابستہ فرانسیسکو نکولی کی تحقیق جریدے ’اکنامک لیٹرز‘ میں شائع ہوئی ہے۔
محققین کے مطابق فی کلوگرام لاگت کے حساب سے بھارت سے مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنا امریکا کے مقابلے میں قریباً 4 گنا مہنگا ہے، جبکہ لاگت کے اسی پیمانے پر بھارت یورپی یونین، روس، چین اور جاپان سے بھی زیادہ مہنگا نظر آتا ہے۔ تحقیق میں امریکا کو سب سے کم لاگت والا ملک قرار دیا گیا ہے۔
تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار کسی ایک راکٹ یا کسی مخصوص خلائی مشن کی اصل قیمت نہیں بتاتے بلکہ مختلف ممالک میں ایک کلوگرام سامان خلا تک پہنچانے کی اوسط لاگت کا تقابلی تخمینہ ہیں۔
دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ اسرو کے لیے بڑا چیلنج
تحقیق میں بھارت کی خلائی لانچنگ کی نسبتاً زیادہ لاگت کی کئی وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔
ایک بڑی وجہ اسرو کے راکٹوں کی پے لوڈ صلاحیت بتائی گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق اسرو کے بیشتر راکٹ امریکا کے جدید تجارتی راکٹوں کے مقابلے میں نسبتاً کم وزن خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ خلائی لانچنگ کے شعبے میں اسپیس ایکس جیسی امریکی کمپنیوں نے دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹوں کو کامیابی سے تجارتی سطح پر استعمال کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے باعث فی لانچ اخراجات میں نمایاں کمی ممکن ہوئی ہے۔
اس کے مقابلے میں اسرو اب بھی بنیادی طور پر ایسے راکٹ استعمال کرتا ہے جو ایک مرتبہ استعمال ہونے کے بعد دوبارہ استعمال نہیں کیے جاسکتے، جبکہ ادارہ تاحال دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ تیار کرنے کے مرحلے میں ہے۔
لانچوں کی تعداد بھی لاگت پر اثرانداز ہونے والا ایک اہم عنصر ہے۔ اسرو کے سالانہ لانچوں کی تعداد نسبتاً کم ہے، جس کے باعث بڑے پیمانے پر تجارتی لانچنگ کے مقابلے میں اس کے اخراجات کم کرنے کی گنجائش محدود رہتی ہے۔
اسرو اور اسپیس ایکس میں لانچنگ کا بڑا فرق
سائنسی تجزیہ کار پلو باگلہ نے اس حوالے سے اسرو اور اسپیس ایکس کی سرگرمیوں کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسپیس ایکس نے صرف 2025 میں 165 فالکن 9 لانچ کیے، جبکہ اسرو نے اپنی 75 سالہ تاریخ میں مجموعی طور پر 105 سیارے بھیجے ہیں۔
ان کے مطابق اسپیس ایکس میں قریباً 22 ہزار افراد کام کرتے ہیں، جبکہ اسرو کے ملازمین کی تعداد قریباً 16 ہزار ہے۔
یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نجی امریکی خلائی کمپنیوں نے تجارتی لانچنگ کے حجم اور دوبارہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے ذریعے خلائی سفر کے معاشی ماڈل میں نمایاں تبدیلی پیدا کردی ہے۔
120 سے زیادہ سائنسدانوں کی رخصتی نے نئی تشویش پیدا کردی
اسرو کو صرف لاگت کے معاملے میں ہی سوالات کا سامنا نہیں بلکہ ادارے کے اندر افرادی قوت سے متعلق صورتحال بھی توجہ حاصل کررہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں 120 سے زیادہ سائنسدان اسرو چھوڑ چکے ہیں، جن میں اہم خلائی مشنز کے ڈائریکٹرز بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرو کے پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV) کا ایک اہم تجربہ ناکام ہونے اور گزشتہ ایک برس کے دوران کامیاب لانچنگ نہ ہونے کی اطلاعات نے بھی ادارے کی کارکردگی پر بحث کو جنم دیا ہے۔
دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے وابستہ خلائی مینجمنٹ اور ایسٹروپولیٹکس کی محقق اسمتا بھاردواج کے مطابق سائنسدانوں کی رخصتی کو محض معمول کی افرادی نقل و حرکت قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ اسرو پہلے ہی عملے کی کمی کا سامنا کررہا ہے۔
انہوں نے ’دی وائر‘ میں لکھا کہ سائنسدانوں کے ادارہ چھوڑنے کے رجحان میں ایک واضح پیٹرن دکھائی دیتا ہے۔
2613 منظور شدہ آسامیاں تاحال خالی
اسمتا بھاردواج کے مطابق اسرو میں سائنس، ٹیکنالوجی اور انتظامی امور چلانے کے لیے مجموعی طور پر 18 ہزار 142 اسامیاں منظور شدہ ہیں، تاہم ان میں سے قریباً 2613 آسامیاں خالی ہیں۔
یعنی ادارے کی منظور شدہ افرادی قوت میں 14 فیصد سے زیادہ آسامیاں تاحال پُر نہیں ہوسکیں۔
ایک جانب فی کلوگرام خلائی لانچنگ کی لاگت سے متعلق نئی تحقیق اسرو کے کم خرچ خلائی پروگرام کے تاثر کو چیلنج کررہی ہے اور دوسری جانب سائنسدانوں کی رخصتی اور خالی آسامیوں کی تعداد ادارے کے اندر موجود افرادی قوت کے مسائل کی طرف اشارہ کررہی ہے۔
ایسے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کا خلائی پروگرام اپنی روایتی کم لاگت کی شناخت برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ استعمال ہونے والی راکٹ ٹیکنالوجی، زیادہ تجارتی لانچنگ اور ماہر افرادی قوت کے مسائل پر قابو پا سکے گا یا نہیں۔













