کبھی اپنی کسی غلطی پر خود ہی ہنس دینا، اپنی بھول کو مذاق میں اڑا دینا یا دوستوں کے سامنے اپنی کسی کمزوری کا ہلکے پھلکے انداز میں ذکر کرنا بظاہر معمولی بات لگتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق خود پر ہنسنے کی صلاحیت ہماری ذہنی صحت، تعلقات اور مجموعی خوشحالی پر اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جویریہ سعود کی اپنی ہمشکل چڑیل سے خوفناک ملاقات، پراسرار تجربہ شیئر کر دیا
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زندگی کو ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں لینے کے عمومی طور پر کئی فوائد ہیں تاہم خود اپنا مذاق اڑانے کے معاملے میں ماہرین طویل عرصے سے مختلف آرا رکھتے رہے ہیں۔
اب محققین یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خود پر ہنسنے کا کون سا انداز فائدہ مند ہے، کب یہ نقصان دہ ہوسکتا ہے اور انسان اپنے اندر زندگی کو زیادہ ہلکے پھلکے انداز میں لینے کی صلاحیت کیسے پیدا کرسکتا ہے۔
جو بچے مذاق برداشت نہیں کرپاتے وہ دوسروں سے کیوں کٹ جاتے ہیں؟
سنہ 1990 کی دہائی میں ماہرین نفسیات نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ بعض بچے اپنے ہم جماعتوں میں مقبول کیوں نہیں ہوپاتے اور انہیں سماجی طور پر الگ تھلگ کیوں کردیا جاتا ہے۔
تحقیق میں ایسے بچوں کی دو نمایاں اقسام سامنے آئیں۔ کچھ بچے غصے والے اور جارحانہ تھے جبکہ دوسرے انتہائی خاموش اور دوسروں کے سامنے دب جانے والے تھے۔
دونوں گروہوں میں ایک بات مشترک تھی کہ وہ مذاق برداشت نہیں کرپاتے تھے۔
پہلے گروہ کے بچے چھیڑنے پر غصے یا تشدد کا اظہار کرتے جبکہ دوسرے گروہ کے بچے دل برداشتہ ہوکر خود کو دوسروں سے دور کرلیتے۔ وہ کسی مزاحیہ بات کو بھی توہین سمجھتے اور یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے کہ مذاق کرنے والے کی نیت اچھی ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اولڈ ایج ہوم کی تنہایوں میں مِسٹری مووی کا جنم، معمر افراد نے کمال کردکھایا
اس کے برعکس سماجی طور پر زیادہ پراعتماد بچے دوسروں کی چھیڑ چھاڑ کو نظر انداز کردیتے یا خود بھی اس سے محظوظ ہوتے تھے۔
یعنی انسان کا مذاق کو برداشت کرنے اور کبھی خود پر ہنس سکنے کا انداز بچپن ہی سے اس کے سماجی تعلقات پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
کیا واقعی انسان خود پر ہنس سکتا ہے؟
صدیوں تک فلسفیوں اور ماہرین کے درمیان یہ سوال بھی زیر بحث رہا کہ انسان حقیقتاً خود پر ہنس سکتا ہے یا نہیں۔
قدیم یونانی فلسفی افلاطون کا خیال تھا کہ مزاح بنیادی طور پر دوسروں سے خود کو برتر سمجھنے کے احساس سے پیدا ہوتا ہے خصوصاً ایسے لوگوں کے بارے میں جو اپنی خوب صورتی یا ذہانت کے بارے میں حقیقت سے زیادہ بلند رائے رکھتے ہوں۔
سنہ 1651 میں انگریز فلسفی تھامس ہابز نے بھی بڑی حد تک اسی خیال سے اتفاق کیا تاہم ان کے مطابق انسان کبھی کبھار اپنے ماضی کی حماقتوں پر ہنس سکتا ہے کیونکہ وقت گزرنے کے بعد اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ اس وقت کے مقابلے میں زیادہ سمجھ دار ہوچکا ہے۔
بعد میں فلسفیوں نے یہ تسلیم کرنا شروع کیا کہ ہر مزاح کے پیچھے دوسروں کو نیچا دکھانے یا بدنیتی کا عنصر نہیں ہوتا۔ 18ویں صدی میں سامنے آنے والے ایک معروف نظریے کے مطابق مزاح اکثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی سماجی توقع یا معمول کی اچانک اور غیر متوقع طور پر خلاف ورزی ہو۔
سال 2011 میں کیا معلوم ہوا؟
ماضی کی زیادہ تر تحقیقات میں لوگوں سے صرف یہ پوچھا جاتا تھا کہ آیا وہ خود پر ہنس سکتے ہیں یا نہیں اور محققین ان کے جواب کو درست مان لیتے تھے۔
سنہ 2011 میں یورپی محققین نے اس صلاحیت کو ایک مختلف طریقے سے جانچنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے افراد کو ایک تجربہ گاہ میں بلایا اور ان کے چہروں کی ویڈیو اس انداز میں بنائی کہ انہیں اس کا علم نہیں تھا۔ بعد میں جب وہ دوبارہ آئے تو انہیں آئینے میں بننے والی مزاحیہ اور بگڑی ہوئی شکلوں کی طرز پر ان کے اپنے چہروں کی تبدیل شدہ تصاویر دکھائی گئیں۔
نتائج دلچسپ تھے۔ ہر شخص تصویر دیکھ کر محظوظ نہیں ہوا لیکن 80 فیصد افراد کم از کم مسکرائے جبکہ 40 فیصد افراد بے اختیار ہنس پڑے۔
مزید پڑھیں: کیا نظرِ بد کے خوف سے خوش ہونا چھوڑ دیں؟
ماہر نفسیات سونجا ہائنٹز کے مطابق اب سائنسی شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ انسان واقعی خود پر ہنس سکتا ہے اور اس کے متعدد فوائد بھی ہوسکتے ہیں۔
کچھ لوگ دوسروں کی ہنسی سے کیوں خوف زدہ ہوتے ہیں؟
ہر شخص کے لیے خود پر ہنسنا آسان نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کو اپنے اوپر ہنستا دیکھ کر انتہائی حساس ہوجاتے ہیں۔ اس کیفیت کو جیلوٹو فوبیا کہا جاتا ہے۔
ایسے افراد کو یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے ساتھ ہنس رہا ہے تو دراصل وہ ان کا مذاق اڑا رہا ہے۔ حتیٰ کہ دوستوں کے ساتھ عام گفتگو کے دوران کسی شخص کی مسکراہٹ بھی انہیں یہ محسوس کراسکتی ہے کہ سامنے والا انہیں مضحکہ خیز یا احمق سمجھ رہا ہے۔
جرمن ماہر نفسیات رینے پروئر کے مطابق اس کیفیت کی کوئی ایک وجہ نہیں تاہم والدین کا بہت سخت اور سزا دینے والا طرز عمل ایک خطرے کا عنصر ہوسکتا ہے۔
اس کے علاوہ بچپن میں کسی انتہائی شرمندہ کن واقعے کا تجربہ مثلاً اسکول میں طویل عرصے تک دوسروں کے مذاق کا نشانہ بننا بھی انسان کو دوسروں کی ہنسی کے بارے میں انتہائی حساس بنا سکتا ہے۔
تحقیق میں آٹزم کو بھی اس کیفیت کے ایک ممکنہ خطرے کے عنصر کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
محققین کے مطابق ثقافتی عوامل بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مشرقی ایشیا کے ممالک میں مغربی ممالک کے مقابلے میں جیلوٹو فوبیا کی شرح عموماً زیادہ پائی گئی ہے۔ ماہرین اس کی ایک وجہ اجتماعی ثقافتوں میں فرد کی جانب سے خود کو نمایاں کرنے سے گریز اور مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے مزاح کا کم استعمال قرار دیتے ہیں۔
ایسے افراد میں زندگی سے اطمینان کی سطح کم، دوستوں سے دوری، تنہائی اور ڈپریشن کی شرح زیادہ دیکھی گئی ہے۔
کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے ساتھ ہنسیں
جیلوٹو فوبیا کے برعکس ایک کیفیت جیلوٹو فیلیا ہے جس میں فرد کو دوسروں کے ساتھ ہنسنے اور خود بھی دوسروں کے مذاق کا حصہ بننے میں خوشی محسوس ہوتی ہے۔
اس کا تعلق زیادہ مضبوط سماجی روابط سے بھی پایا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے افراد میں عموماً زندگی کو زندہ دلی یا کھیل کے انداز میں لینے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ روزمرہ کے معمولی یا حتیٰ کہ بور کرنے والے کاموں کو بھی مختلف زاویے سے دیکھ کر انہیں دلچسپ یا مزاحیہ بنا لیتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق زندہ دلی اور کھیل کے انداز میں زندگی کو دیکھنے کی صلاحیت زیادہ خود اعتمادی اور بہتر تعلقات سے وابستہ ہے۔
ہر طرح کا مزاح فائدہ مند نہیں
ماہرین اس بات پر بڑی حد تک متفق ہیں کہ مزاح ہمارے تعلقات کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے لیکن مزاح کی قسم بھی اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ;نہ سر پر بال تھے نہ جیب میں پیسے نووجوت سنگھ نے کپل شرما کے پرانے دنوں کو کیسے یاد کیا؟
سنہ 2003 میں کینیڈا کے محققین نے مزاح کے انداز جانچنے کے لیے ایک سوال نامہ تیار کیا جس میں لوگوں کے مزاح کو 4 بڑی اقسام میں تقسیم کیا گیا: دوسروں کو ساتھ ملانے والا مزاح، خود کو بہتر محسوس کرانے والا مزاح، جارحانہ مزاح اور خود کو نشانہ بنانے والا مزاح۔
یہ تحقیق اس لحاظ سے اہم تھی کہ اس نے پہلی مرتبہ واضح کیا کہ مزاح انسان کے لیے فائدہ مند بھی ہوسکتا ہے اور نقصان دہ بھی۔
خود پر ہنسنا اور خود کی تذلیل ایک چیز نہیں
خود کو بہتر محسوس کرانے والے مزاح میں انسان اپنی مشکلات کے اندر بھی کوئی ہلکا پہلو تلاش کرتا ہے۔
مثلاً اگر کوئی شخص پریشان یا اداس ہو تو وہ صورتحال میں کسی مزاحیہ پہلو کو تلاش کرکے اپنے جذبات کو بہتر بنانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ ماہرین اسے ایک مفید اور مثبت انداز سمجھتے ہیں۔
اس کے برعکس ’خود کو نشانہ بنانے والے مزاح‘ میں فرد لوگوں کو خوش یا اپنے قریب رکھنے کے لیے اپنی کمزوریوں، غلطیوں اور خامیوں کا بار بار مذاق اڑاتا ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں اسے کم خود اعتمادی اور ضرورت سے زیادہ دوسروں کی منظوری حاصل کرنے کی خواہش سے جوڑا گیا تھا۔
لیکن بعد کی تحقیق نے اس تصویر کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
نئی تحقیق نے پرانے تصور کو چیلنج کردیا
ماہرِ نفسیات سونجا ہائنٹز نے جب سنہ 2010 کی دہائی میں مزاح پر تحقیق شروع کی تو انہیں حیرت ہوئی کہ خود کو مذاق کا نشانہ بنانے والے مزاح کو اتنا منفی کیوں سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے ایسے افراد کا جائزہ لیا جو اس قسم کا مزاح زیادہ استعمال کرتے تھے اور ان کا دیگر اندازِ مزاح رکھنے والے افراد سے موازنہ کیا۔
اگر سابقہ نظریہ درست ہوتا تو ایسے افراد میں ذہنی صحت کے مسائل نمایاں ہونے چاہییں تھے لیکن تحقیق میں ایسا نہیں پایا گیا۔
اس کے برعکس خود کو مذاق کا نشانہ بنانے والا مزاح زیادہ خود اعتمادی اور بہتر باہمی تعلقات سے وابستہ پایا گیا۔
ان افراد نے محققین کو بتایا کہ وہ خود اعتمادی کے حوالے سے کچھ مشکلات ضرور محسوس کرتے ہیں لیکن اپنے اوپر ہنسنا ان کے لیے ان مشکلات سے نمٹنے اور دوسروں سے رابطہ قائم کرنے کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔
پھر نقصان دہ مزاح کون سا ہے؟
ماہرین کے مطابق اصل فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ انسان کس کیفیت میں اپنے اوپر ہنس رہا ہے۔
سنہ 2014 کی ایک تحقیق میں اسکول میں مذاق اور غنڈہ گردی کا نشانہ بننے والے بچوں میں خود کو مذاق کا موضوع بنانے والے مزاح کا استعمال زیادہ پایا گیا۔
تاہم سنہ 2016 میں ہونے والی مزید تحقیق نے اس معاملے کو زیادہ واضح کیا۔
جن بچوں نے صرف خود کو نشانہ بنانے والا مزاح استعمال کیا ان میں خود اعتمادی کی سطح کم اور وقت کے ساتھ تنہائی زیادہ بڑھتی گئی۔
لیکن کچھ بچے ایسے بھی تھے جو اس قسم کا مزاح زیادہ استعمال کرتے تھے مگر انہیں وہ منفی نتائج نہیں بھگتنے پڑے۔ فرق یہ تھا کہ وہ مزاح کی صرف ایک قسم پر انحصار نہیں کرتے تھے بلکہ مزاح کے مختلف انداز استعمال کرتے تھے۔
محققین کے مطابق اس سے اشارہ ملتا ہے کہ خود پر ہنسنا لازماً نقصان دہ نہیں بشرطیکہ یہ مزاح کے دیگر صحت مند انداز کے ساتھ استعمال کیا جائے۔
سونجا ہائنٹز کے مطابق اگر انسان اپنے اوپر ہنس رہا ہو لیکن اس کے پیچھے تلخی اور خود سے نفرت موجود ہو تو یہ اس کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
خود پر ہنسنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان جس خامی یا غلطی کا مذاق بنا رہا ہو پہلے اسے قبول کرچکا ہو۔
اگر کوئی شخص ایسی بات پر مذاق کررہا ہو جس کے بارے میں وہ اندر سے شدید بے آرام یا شرمندہ ہو تو دوسرے لوگ بھی اس بے چینی کو محسوس کرسکتے ہیں۔
اس لیے خود پر ہنسنے کے لیے ضروری ہے کہ مزاح کا مقصد خود کو تکلیف پہنچانا نہیں بلکہ کسی صورتحال کو ہلکے انداز میں دیکھنا ہو۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اعتدال ضروری ہے۔ خود پر ہنسنے اور خود کو مسلسل ذلیل کرنے کے درمیان فرق اکثر حد سے تجاوز کا ہوتا ہے۔
خود پر ہنسنے سے فائدہ کیسے ہوتا ہے؟
تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ خود کو ہر وقت سنجیدہ نہ لینے کی صلاحیت انسان کو زندگی کی ناکامیوں اور مشکلات سے بہتر انداز میں نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔
جب انسان سے کوئی غلطی ہوجاتی ہے تو اس کے پاس غصے یا مایوسی کے بجائے ہنس کر صورتحال کو قبول کرنے کا راستہ بھی موجود ہوتا ہے۔
ماہرین اسے خود سے ایک مناسب نفسیاتی فاصلہ قائم کرنے سے بھی جوڑتے ہیں۔ یعنی انسان کسی ناخوشگوار واقعے میں مکمل طور پر الجھنے کے بجائے اسے کچھ فاصلے سے دیکھتا ہے اور اس کا نسبتاً ہلکا پہلو تلاش کرسکتا ہے۔
تحقیق میں زندگی سے اطمینان، مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت اور عمومی خوشحالی کے درمیان بھی تعلق پایا گیا ہے۔
نئے لوگوں سے تعلق بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے
خود پر ہلکا پھلکا مذاق کرنا سماجی حالات میں بھی مفید ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر انسان نئے لوگوں کے درمیان ہو اور اسے ابھی یہ معلوم نہ ہو کہ سامنے والے کا مزاح کا انداز کیا ہے تو اپنی کسی معمولی غلطی یا کوتاہی پر ہنس دینا ایک نسبتاً محفوظ طریقہ ہوسکتا ہے جس سے ماحول میں بے تکلفی پیدا ہوتی ہے۔
یہاں تک کہ ایسے حالات میں جہاں لوگوں کے درمیان اختیار یا عہدے کا فرق ہو معمولی غلطی پر خود ہی ہنس دینا کسی شخص کو دوسروں کی نظر میں زیادہ دوستانہ اور قابل قبول بنا سکتا ہے۔
ایک تحقیق میں ایسے اساتذہ جو اپنی معمولی غلطیوں پر ہلکا پھلکا مذاق کرتے تھے طلبہ کی نظر میں زیادہ مثبت سمجھے گئے۔ تاہم شرط یہ تھی کہ ان کی غلطیوں سے دوسروں کو نقصان نہ پہنچا ہو۔
اگر آپ بہت زیادہ سنجیدہ رہتے ہیں تو کیا کریں؟
ماہرین کے مطابق انسان بتدریج اپنے اندر زندگی کو زیادہ ہلکے پھلکے انداز میں دیکھنے کی عادت پیدا کرسکتا ہے۔
ماہرِ مزاح پال مک گی کے مطابق ابتدا اپنی ان چیزوں سے کی جاسکتی ہے جنہیں ہم اپنی کمزوریاں یا ’حساس مقامات‘ سمجھتے ہیں مثلاً قد، وزن، گنج پن یا کسی کام میں اناڑی پن۔
تاہم یہ عمل اسی وقت مفید ہے جب انسان پہلے ان چیزوں کو قبول کرنے کی طرف بڑھ چکا ہو۔ مقصد خود کو ذلیل کرنا نہیں بلکہ ان چیزوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی شرمندگی اور جھجھک کو کم کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق ابتدا کسی معمولی چیز سے کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو فیشن میں زیادہ دلچسپی نہیں تو وہ اپنے پرانے کپڑے پہننے پر ہلکا پھلکا مذاق کرسکتا ہے۔
یعنی ضروری نہیں کہ انسان فوراً اپنی سب سے بڑی کمزوری کو مذاق کا موضوع بنائے۔ آہستہ آہستہ اس صلاحیت کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔
روزانہ کی ’خوش مزاجی ڈائری‘ بھی مددگار ہوسکتی ہے
اگر اپنی کمزوریوں پر مذاق کرنا مشکل محسوس ہو تو ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان عمومی طور پر زیادہ زندہ دل رویہ اپنانے سے آغاز کرسکتا ہے۔
ایک تحقیق میں شرکا کو ایک ہفتے تک روزانہ صرف 10 منٹ نکال کر دن میں پیش آنے والے 3 سب سے زیادہ خوش گوار یا دلچسپ واقعات لکھنے کو کہا گیا۔
یہ واقعات کوئی خیال، راستے میں نظر آنے والی چیز یا روزمرہ زندگی کا معمولی واقعہ بھی ہوسکتے تھے۔
نتائج میں شرکا نے 3 ماہ تک خود کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ زندہ دل محسوس کیا۔ انہوں نے ڈپریشن کی علامات میں کمی اور خوشی میں اضافے کی بھی اطلاع دی۔
تو کیا ہمیں خود پر زیادہ ہنسنا چاہیے؟
تحقیق کا جواب سادہ ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ میں نہیں دیا جاسکتا۔
خود پر ہنسنا اس وقت فائدہ مند ہوسکتا ہے جب یہ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کو قبول کرنے، مشکل حالات کو ہلکے انداز میں دیکھنے اور دوسروں سے بہتر تعلق قائم کرنے کا ذریعہ بنے۔
لیکن اگر خود کو مذاق کا نشانہ بنانا دراصل خود سے نفرت، تلخی یا دوسروں کی منظوری حاصل کرنے کی شدید خواہش کا اظہار ہو تو یہی رویہ نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے۔
اس لیے ماہرین کے مطابق مقصد خود کو کمتر ثابت کرنا نہیں بلکہ خود کو ہر وقت انتہائی سنجیدگی سے نہ لینا ہے۔
مزید پڑھیں: حساس طبیعت رکھنے والے افراد میں ڈپریشن اور ذہنی بیماریوں کا خطرہ زیادہ، نئی تحقیق میں انکشاف
اور شاید اس کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ دن کے اختتام پر خود سے یہ سوال کیا جائے: آج ایسا کیا ہوا جس پر میں مسکرا سکتا/سکتی ہوں؟













