پھیپھڑوں کے سرطان سے متعلق 13 عام غلط فہمیاں، حقیقت کیا ہے؟

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پھیپھڑوں کا سرطان دنیا میں سرطان کی عام اقسام میں شامل ہے لیکن اس بیماری کے بارے میں آج بھی کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ تصور کہ صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں کو پھیپھڑوں کا سرطان ہوتا ہے یا اس بیماری کی تشخیص کا مطلب ہمیشہ موت ہے درست نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فضائی آلودگی بھی پھیپھڑوں کے کینسر کا اہم سبب بن رہی ہے، ڈاکٹر جعفر خان

پھیپھڑوں کے سرطان سے متعلق بعض دیگر غلط فہمیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ آلودہ شہر میں رہنا سگریٹ نوشی سے زیادہ خطرناک ہے اس بیماری کی صورت میں سگریٹ نوشی ترک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور سرجری سے سرطان جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق حقیقت ان تصورات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

امریکی مراکز برائے بیماریوں کی روک تھام اور تدارک کے مطابق سنہ 2018 میں امریکا میں پھیپھڑوں کے سرطان کے 2 لاکھ 18 ہزار 520 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ ایک لاکھ 42 ہزار 80 افراد اس بیماری کے باعث ہلاک ہوئے۔

عالمی سطح پر سال 2020 میں پھیپھڑوں کا سرطان چھاتی کے سرطان کے بعد سرطان کی دوسری سب سے عام قسم تھا۔ اس سال دنیا بھر میں اس کے تقریباً 22 لاکھ 10 ہزار کیسز سامنے آئے اور 18 لاکھ افراد اس کے باعث ہلاک ہوئے۔

پھیپھڑوں کے سرطان سے متعلق عام غلط فہمیوں کو سمجھنے کے لیے طبی ماہر ڈاکٹر فریڈ آر ہرش کی آرا پیش کی گئی ہیں جو نیویارک کے ماؤنٹ سائنائی کے ٹِش کینسر انسٹیٹیوٹ میں سینے کے سرطان سے متعلق مرکز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔

1۔ صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں کو پھیپھڑوں کا سرطان ہوتا ہے

یہ ایک عام لیکن غلط تصور ہے کہ صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں کو پھیپھڑوں کا سرطان ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر ہرش کے مطابق یہ بات درست نہیں اور بدقسمتی سے یہ ایک تکلیف دہ غلط فہمی ہے جو مریضوں کے لیے سماجی بدنامی کا باعث بھی بنتی ہے۔

امریکی مراکز برائے بیماریوں کی روک تھام اور تدارک کے مطابق امریکا میں پھیپھڑوں کے سرطان کے تقریباً 10 سے 20 فیصد مریض ایسے ہیں جنہوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی یا اپنی پوری زندگی میں 100 سے بھی کم سگریٹ پیے ہیں۔

ادارے کے مطابق ہر سال امریکا میں تقریباً 7 ہزار 300 افراد میں پھیپھڑوں کے سرطان سے ہونے والی اموات کا تعلق غیر فعال سگریٹ نوشی یعنی دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں سے جبکہ مزید تقریباً 2 ہزار 900 اموات ریڈون گیس سے متاثر ہونے سے منسلک ہیں۔

2۔ پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ کم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں

ڈاکٹر ہرش کے مطابق پھیپھڑوں کے سرطان کے خطرے کو کم کرنے کے کئی طریقے موجود ہیں۔

مزید پڑھیے: پھیپھڑے صحت کا راز کھولتے ہیں، ان کی کاردکردگی خود کیسے چیک کی جائے؟

ان کے مطابق سب سے اہم اقدامات میں سگریٹ نوشی سے بچنا اور سگریٹ نوشی ترک کرنا شامل ہے۔

دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں سے بھی حتی الامکان بچنا ضروری ہے۔ امریکی مراکز برائے بیماریوں کی روک تھام اور تدارک کے مطابق گھر یا کام کی جگہ پر غیر فعال سگریٹ نوشی کا سامنا کرنے والے افراد میں پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ 20 سے 30 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

ڈاکٹر ہرش کے مطابق سگریٹ نوشی کی دیگر مصنوعات بھی پھیپھڑوں کے سرطان کا ممکنہ خطرہ ہوسکتی ہیں۔

ان کے مطابق ایسے افراد جن میں پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ زیادہ ہو ان میں کم مقدار میں شعاعوں والے سی ٹی اسکین کے ذریعے اسکریننگ سے اس بیماری کے باعث اموات میں 20 فیصد سے زیادہ کمی لائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 50 سال عمر کا ایسا شخص جو 20 یا اس سے زیادہ برس تک روزانہ ایک پیکٹ سگریٹ پیتا رہا ہو زیادہ خطرے والے افراد میں شامل ہوسکتا ہے۔

ریڈون گیس سے متاثر ہونا بھی ایک خطرہ ہے اس لیے گھروں میں ریڈون کی موجودگی کی جانچ اہم ہوسکتی ہے۔

اس کے علاوہ بعض طرزِ زندگی سے متعلق عوامل بھی خطرہ بڑھا سکتے ہیں اس لیے ورزش کرنا اور موٹاپے سے بچنا بھی اہم ہے۔

3۔ صرف عمر رسیدہ افراد کو پھیپھڑوں کا سرطان ہوتا ہے

یہ تصور بھی درست نہیں کہ صرف عمر رسیدہ افراد کو پھیپھڑوں کا سرطان ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ہرش کے مطابق اگرچہ پھیپھڑوں کے سرطان کی تشخیص پانے والے نصف سے زیادہ افراد کی عمر 65 برس سے زیادہ ہوتی ہے لیکن 50 سال سے کم عمر افراد خصوصاً خواتین میں بھی اس بیماری کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔

یعنی نوجوان عمر کو پھیپھڑوں کے سرطان سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں سمجھا جاسکتا۔

4۔ آلودہ شہر میں رہنا سگریٹ نوشی سے زیادہ خطرناک ہے

تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ٹریفک سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

مختلف مطالعات کے تجزیے میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور باریک ذرات سے متاثر ہونے کو پھیپھڑوں کے سرطان کے خطرے سے منسلک کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا خواتین کی نصف تعداد نان اسموکر، پھر عارضے کی وجہ کیا؟

تاہم آلودگی اور سگریٹ نوشی کے خطرات کا براہِ راست موازنہ کرنا آسان نہیں۔

ڈاکٹر ہرش کے مطابق آلودہ شہر میں رہنا ایک خطرے کا عنصر ہے لیکن یہ یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ یہ تمباکو نوشی سے زیادہ خطرناک ہے۔ ان کے مطابق دونوں عوامل کا ایک ساتھ موجود ہونا صورت حال کو مزید خراب کرسکتا ہے۔

5۔ ’میں برسوں سے سگریٹ پی رہا ہوں، اب چھوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں‘

یہ سوچ بھی غلط ہے۔ ڈاکٹر ہرش کے مطابق سگریٹ نوشی ترک کرنے سے پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوجاتا ہے۔

سگریٹ چھوڑنے سے صرف پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ ہی کم نہیں ہوتا بلکہ دل کی بیماری، ہڈیوں کی کمزوری اور ذیابیطس سمیت کئی دیگر بیماریوں کا خطرہ بھی کم ہوسکتا ہے۔

امریکی ادارۂ عمر رسیدگی کے مطابق اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ کسی شخص کی عمر کتنی ہے یا وہ کتنے عرصے سے سگریٹ نوشی کررہا ہے کسی بھی عمر میں سگریٹ چھوڑنے سے صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔

سگریٹ نوشی ترک کرنے سے زندگی میں مزید سال شامل ہوسکتے ہیں، سانس لینے میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے، توانائی میں اضافہ ہوسکتا ہے اور اخراجات میں بھی کمی آتی ہے۔

6۔ بھنگ پینے سے پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ نہیں بڑھتا

ڈاکٹر ہرش کے مطابق طبی ماہرین بھنگ کو پھیپھڑوں کے سرطان کے ایک ممکنہ خطرے کے عنصر کے طور پر دیکھتے ہیں تاہم اس حوالے سے مزید طویل مدتی تحقیق کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق بھنگ کے استعمال اور پھیپھڑوں کے سرطان کے درمیان تعلق کے بارے میں دستیاب وبائیاتی شواہد محدود اور متضاد ہیں۔

اس تعلق کا جائزہ لینے میں ایک مشکل یہ بھی ہے کہ بھنگ استعمال کرنے والے بہت سے افراد تمباکو بھی استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے دونوں عوامل کے الگ الگ اثرات کا تعین کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

7۔ اگر پھیپھڑوں کا سرطان ہوگیا ہے تو سگریٹ نوشی جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں

یہ بھی درست نہیں کہ کوئی یہ سوچے کہ جب پھیپھڑوں کا سرطان ہوہی چکا ہے تو سگریٹ نوشی جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

ڈاکٹر ہرش کے مطابق پھیپھڑوں کے سرطان کی تشخیص کے بعد سگریٹ نوشی ترک کرنے کے بے شمار فوائد ہیں اور سگریٹ چھوڑنے والے مریضوں کی بیماری کی مجموعی پیشگوئی بہتر ہوسکتی ہے۔

یعنی تشخیص ہوجانے کے بعد بھی سگریٹ نوشی ترک کرنا بے فائدہ نہیں ہوتا۔

8۔ پھیپھڑوں کے سرطان کی سرجری سے سرطان پھیل جاتا ہے

یہ ایک اور عام غلط فہمی ہے کہ پھیپھڑوں کے سرطان کی سرجری سے سرطان پھیل جاتا ہے۔

ڈاکٹر ہرش کے مطابق پھیپھڑوں کے سرطان کی سرجری سرطان کو پھیلانے کا سبب نہیں بنتی۔

ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں موجود پھیپھڑوں کے سرطان میں سرجری کی سفارش کی جاتی ہے اور اس مرحلے پر سرجری بیماری کو ختم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

اگر سرطان کی رسولی بڑی ہو یا بیماری مقامی طور پر قریبی حصوں تک پھیل چکی ہو تو سرجری سے پہلے کیموتھراپی یا مدافعتی نظام کو متحرک کرنے والی ادویات جیسے اضافی علاج دیے جاسکتے ہیں تاکہ خون میں موجود سرطان کے خلیوں کے خطرے کو مزید کم کیا جاسکے۔

ڈاکٹر ہرش کے مطابق طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس طریقہ علاج سے مریضوں کی بقا کی مدت بڑھ سکتی ہے اور سرطان کے باعث موت کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

9۔ ٹیلکم پاؤڈر سانس کے ذریعے اندر جانے سے پھیپھڑوں کا سرطان ہوسکتا ہے

ڈاکٹر ہرش کے مطابق ٹیلک سے پھیپھڑوں کے سرطان کے خطرے میں اضافے کا تعلق ثابت نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی میں کبوتروں سے پھیلنے والی پھیپھڑوں کی بیماری میں اضافہ، خواتین زیادہ متاثر

وہ کہتے ہیں کہ یہ غلط فہمی شاید ان مطالعات سے پیدا ہوئی جن میں ٹیلک کی کان کنی اور اس کی تیاری سے وابستہ افراد میں خطرہ معمولی حد تک زیادہ پایا گیا۔

تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ یہ خطرہ خود معدنی مادے کی وجہ سے تھا یا زیرِ زمین موجود دیگر ایسے عوامل کے باعث جو پھیپھڑوں کے سرطان کا سبب بن سکتے ہیں مثلاً تابکار ریڈون گیس۔

10۔ اگر مجھے پھیپھڑوں کا سرطان ہوتا تو مجھے لازماً علامات ہوتیں

بدقسمتی سے ایسا ضروری نہیں۔ ڈاکٹر ہرش کے مطابق بعض افراد میں پھیپھڑوں کے سرطان کی تشخیص اس وقت بھی ہوسکتی ہے جب ان میں کوئی واضح علامت موجود نہ ہو یا صرف سانس سے متعلق معمولی علامات ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ زیادہ خطرے والے افراد میں پھیپھڑوں کے سرطان کی اسکریننگ اہم سمجھی جاتی ہے۔

ماہر کے مطابق سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد میں بھی اسکریننگ کا ممکنہ فائدہ ہوسکتا ہے لیکن اس بارے میں مطالعات ابھی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچے۔

ان کے مطابق ایسے افراد میں پھیپھڑوں کے سرطان کی اسکریننگ پر تحقیق جاری ہے، کیونکہ بیماری کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص مریض کے زندہ رہنے کے امکانات بہتر بناتی ہے۔

11۔ پھیپھڑوں کا سرطان ہمیشہ جان لیوا ہوتا ہے

یہ تصور بھی درست نہیں کہ پھیپھڑوں کا سرطان ہمیشہ جان لیوا ہوتا ہے اور بیماری کی ابتدائی تشخیص کی صورت میں صورتحال اس سے کہیں بہتر ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر ہرش کے مطابق اگر پھیپھڑوں کے سرطان کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہوجائے تو اس کے علاج کی شرح 60 فیصد سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج زیادہ ترقی یافتہ مرحلے میں تشخیص ہونے والے پھیپھڑوں کے سرطان کے بعض مریض بھی طویل عرصے تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایسے مریضوں کے علاج اور نتائج میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے جن کے سرطان میں مخصوص جینیاتی تبدیلیاں موجود ہوں اور جنہیں مخصوص ادویات کے ذریعے ہدف بنایا جاسکتا ہو۔

12۔ اینٹی آکسیڈنٹ سپلیمنٹس پھیپھڑوں کے سرطان سے تحفظ فراہم کرتے ہیں

اینٹی آکسیڈنٹس جسم کے خلیوں کو ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے یہ جاننے کے لیے کئی طبی مطالعات کیے کہ آیا اینٹی آکسیڈنٹ سپلیمنٹس پھیپھڑوں کے سرطان سے بچاؤ میں مدد دے سکتے ہیں۔

تاہم ڈاکٹر ہرش کے مطابق زیادہ تر مطالعات میں پھیپھڑوں کے سرطان سے بچاؤ کے حوالے سے کوئی حتمی فائدہ ثابت نہیں ہوسکا۔

کچھ تحقیقات میں یہ اشارہ ضرور ملا کہ خوراک میں موجود بعض اینٹی آکسیڈنٹس، مثلاً کیروٹینائڈز اور وٹامن سی، پھیپھڑوں کے سرطان سے تحفظ فراہم کرسکتے ہیں لیکن مجموعی نتائج ابہام کا شکار ہیں۔

ماہر کے مطابق ایسے افراد میں مزید مخصوص تحقیق کی ضرورت ہے جو سگریٹ نوشی کرتے رہے ہیں جبکہ اینٹی آکسیڈنٹس کی مناسب مقدار کے حوالے سے بھی مزید مطالعات ضروری ہیں۔

13۔ سگریٹ نوشی ہی پھیپھڑوں کے سرطان کا واحد خطرہ ہے

سگریٹ نوشی بلاشبہ پھیپھڑوں کے سرطان کا سب سے معروف خطرے کا عنصر ہے لیکن یہ واحد وجہ نہیں۔

پھیپھڑوں کے سرطان کے دیگر خطرے کے عوامل میں خاندان میں اس بیماری کی تاریخ، فضائی آلودگی، ریڈون گیس سے متاثر ہونا، ایسبیسٹوس سے واسطہ پڑنا، سینے پر پہلے شعاعی علاج ہونا اور پھیپھڑوں کی دائمی بیماری شامل ہیں۔

اس لیے کسی شخص کا سگریٹ نوش نہ ہونا اسے پھیپھڑوں کے سرطان سے مکمل طور پر محفوظ نہیں بناتا۔

ریڈون گیس کیا ہے اور کیا یہ گھروں میں بھی ہوسکتی ہے؟

ریڈون ایک بے رنگ اور بے بو تابکار گیس ہے جو قدرتی طور پر مٹی اور چٹانوں میں موجود یورینیم کے ٹوٹنے کے عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ گیس باہر کی فضا میں عموماً بہت کم مقدار میں ہوتی ہے لیکن زمین سے رسنے کے باعث گھروں اور دیگر عمارتوں کے اندر جمع ہوسکتی ہے خاص طور پر ایسی جگہوں پر جہاں فرش یا بنیادیں براہ راست زمین سے منسلک ہوں۔

مزید پڑھیں: طبی پیشرفت: خون کا ٹیسٹ پھیپھڑوں کے کینسر کے بہترین علاج کا ذریعہ

ریڈون کو دیکھا، سونگھا یا چکھا نہیں جاسکتا اس لیے گھر میں اس کی موجودگی کا اندازہ صرف ریڈون ٹیسٹ کے ذریعے لگایا جاسکتا ہے۔ طویل عرصے تک زیادہ مقدار میں ریڈون گیس کے سامنے رہنا پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ اسی لیے جن علاقوں میں ریڈون کی سطح زیادہ ہونے کا خدشہ ہو وہاں گھروں میں اس کی جانچ اور ضرورت پڑنے پر اس کی مقدار کم کرنے کے اقدامات اہم سمجھے جاتے ہیں۔

بیماری کے بارے میں درست معلومات کیوں ضروری ہیں؟

پھیپھڑوں کے سرطان سے متعلق غلط فہمیاں بعض اوقات لوگوں کو خطرے کی علامات نظر انداز کرنے، اسکریننگ سے گریز کرنے یا علاج میں تاخیر کرنے پر مجبور کرسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق بیماری کے خطرے کو سمجھنا، سگریٹ نوشی سے گریز یا اسے ترک کرنا، غیر فعال سگریٹ نوشی اور دیگر معلوم خطرات سے بچنا اور زیادہ خطرے والے افراد میں مناسب طبی اسکریننگ پر غور کرنا اس بیماری کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پھیپھڑوں کے سرطان کو لازماً لاعلاج یا صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں کی بیماری سمجھنا درست نہیں۔

مزید پڑھیے: عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بارے میں 7 عام غلط فہمیاں اور ان کی سائنسی حقیقت

مزید برآں ابتدائی تشخیص اور مناسب علاج کی صورت میں بہت سے مریضوں کے لیے نتائج ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہوسکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp