خیبرپختونخوا کے زیادہ تر مریض علاج کروانے پمز کیوں آتے ہیں؟

منگل 1 ستمبر 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پمز  نے کبھی اعدادو شمار جاری نہیں کیے لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق پمز میں آنے والے کل مریضوں کی 70 فیصد تعداد مقامی نہیں ہے۔ سب سے زیادہ مریض خیبر پختونخوا سے آتے ہیں۔ غیر مقامی مریضوں کا قریب 80 فیصد کے پی سے آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں؟

18ویں ترمیم کے بعد صحت صوبائی معاملہ ہے اور ہر صوبے کے پاس اپنا الگ ہیلتھ بجٹ موجود ہے۔ کے پی حکومت کے پاس صحت کا بجٹ 334 ارب روپے ہے۔ کیا مزمل اسلم بتانا پسند کریں گے کہ 334 ارب روپے کے بجٹ کے باوجود کے پی کے مریض اتنی بڑی تعداد میں پمز کیوں آتے ہیں۔ ان کے لیے کے پی میں اچھی طبی سہولیات کیوں نہیں ہیں۔

کے پی میں تو حکومت بھی اچھے اچھے لوگوں کی ہے۔ وہ  تو کرپٹ بھی نہیں ہیں۔ پڑھے لکھے بھی بہت ہیں اور مطالعہ بھی بہت کرتے ہیں۔ دیانت دار بھی کمال کے ہیں۔ صحت کے شعبے کو تو انہوں نے ویسے ہی عمران خان کے ٹیلنتڈ کزن نوشیروان برکی کے حوالے کر رکھا ہے جو اپنی بصیرت سے کے پی کے اسپتالوں کو عالمی معیار کے مطابق بنا چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر پمز میں غیر مقامی مریضوں کا 80 فیصد کے پی سے کیوں آتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ کے پی سے مریض  اپنے صوبے کے اتنے اعلیٰ، شاندار اور باکمال اسپتالوں کو چھوڑ کر اسلام آباد کا رخ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا کیا چاہتے ہیں؟

اسلام آباد میں صرف 2  سرکاری اسپتال ہیں۔ پمز اور پولی کلینک۔ جب اسلام آباد کی آبادی ڈھائی لاکھ تھی تب بھی یہ 2 اسپتال تھےا ور آج جب اسلام آباد کی آبادی 25 لاکھ کے قریب ہے تب بھی یہی 2 ہسپتال ہیں۔ آبادی 10 گنا بڑھ گئی ہے لیکن اسپتال ایک بھی مزید نہیں بن سکا۔ سوال یہ ہے کہ  اگر 70 فی صد مریض  باہر سے آنے ہیں تو مقامی آبادی کہاں جائے؟

 اسلام آباد کا معاملہ یہ ہے کہ یہ ایک لاوارث شہر ہے۔ نہ یہاں کوئی مقامی حکومت ہے نہ یہاں کوئی صوبائی اسمبلی ہے۔ ایم این ایز یہاں سے ہوتے ہیں لیکن کبھی جاوید ہاشمی اپنے حلقے سے الیکشن ہار جائیں تو ن لیگ انہیں  ضمنی انتخاب میں اسلام آباد پر مسلط کر دیتی ہے اور کبھی  عمران خان کی مہربانی سے اسد عمر جیسا حلقہ انتخاب سے محروم شخص اسلام آباد کا ایم این اے بنوا دیا جاتا ہے۔ کوئی ہے جو بتائے کہ ان دونوں معززین کا اسلام آباد سے کیا تعلق ہےَ؟

 سوتیلا پن اس شہر کی رگوں میں گھس گیا ہے۔ شہر میں 2 ہسپتال ہیں  لیکن ان میں  مقامی لوگوں کے لیے جگہ ہی نہیں ہوتی۔ دوسرے صوبوں کے مریضوں کی یلغار ہے۔ ہر صوبے میں ایک عصبیت موجود ہے جو اپنے وسائل کے بارے میں حساس ہے۔ لیکن اسلام آباد کی کوئی شناخت نہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اس شہر کے حصے کے 2 ہسپتالوں میں 70 فئ صد مریض غیر مقامی کیوں؟

کسی نے اتنا بھی نہیں کیا کہ ایک تناسب ہی بنا دیا جاتا کہ اتنے مریض مقامی ہوں گے اور اتنے باہر کے مریض دیکھے جائیں گے۔ یہ بھی ممکن نہ تھا تو اتنا تو ہوتا کہ مقامی لوگوں کے ایک الگ کاؤنٹر بنا دیا جاتا تا کہ وہ دوسروں کی وجہ سے گھنٹوں لائنوں میں تو نہ لگتے۔ اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ اسلام آباد کے شہری اپنے ہی شہر میں اجنبی ہو گئے ہیں لیکن ان کی آواز اٹھانے والا کوئی نہیں۔

مزید پڑھیے: وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

 کم از کم اتنا تو ہو کہ ہر سال کا ایک حساب ہو کہ کس صوبے سے کتنے مریض آئے ہیں۔ اور اس کے بعد کم از کم پنجاب ا ور کے پی سے یہ ضرور کہا جائے کہ ا س سال آپ کے اتنے مریض علاج کے لیے  اسلام آباد کے اسپتالوں میں آئے اس لیے آپ کے صحت کے بجٹ سے اتنی رقم ان اسپتالوں کو دی جا رہی ہے۔

اس بات کا بالکل کوئی جواز نہیں ہے کہ اسلام آباد کے اسپتالوں میں مقامی لوگوں کے لیے تو کوئی جگہ ہی نہ ہو اور 18 ویں ترمیم کے بعد ان کے حصے میں آنے والے اسپتالوں اور ان کے بجٹ سے علاج کروانے والے زیادہ تر مریض دوسرے صوبوں کے ہوں۔

کچھ ایسے سنگین امراض کی نوعیت تو استثنا کی ہوتی ہے جن میں متعلقہ صوبوں میں علاج کی سہپولت دستیاب نہ ہو تو لوگ پمز یا پولی کلینک آ جائیں۔ ایسا ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے اور درست ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہاں ہر طرح کے مریض آتے ہیں۔ کیا ان صوبوں سے پوچھا نہیں جانا چاہیے کہ کیا وجہ ہے 18 ویں ترمیم کا بجٹ کھانے کے باوجود آپ کے مریض اسلام آباد کے اسپتالوں میں آ جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کشمیر اب ایک ٹیسٹ کیس ہے

بھاشن اور فضائل ہمیں کے پی کے سنائے جاتے ہیں، سہرے وہاں کی حکومت کے کہے جاتے ہیں، مثالی طرز حکومت کے پی والوں کا ہے، انسان دوست اور غریب پرور وہ ہیں، کرپشن وہ نہیں کرتے،  دیانت داری ان کی مسلمہ ہے، کارکردگی میں وہ رستم اور سہراب ہیں لیکن حال یہ ہے کہ ان کے مریض علاج کرانے اسلام آباد آتے ہیں۔ ان  سے کارکردگی کا سوال ہو تو جواب آتا ہے ہم کام کرنے نہیں آئے ہم  تو خان کو رہا کرانے کا مینڈیٹ لے کر آئے ہیں۔ بیماروں کو تو ہم اسلام آباد بھیج دیتے ہیں۔

ہم کارکردگی دکھانے تھوڑی آئے ہیں، ہم تو مریضوں کو اسلام آباد پہنچانے آئے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp