پینٹاگون میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، آرمی سیکریٹری ڈینیئل ڈرسکول مستعفی

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی فوج کے سیکریٹری ڈینیئل ڈرسکول نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈرسکول کے استعفے سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس نے اس کی تردید نہیں کی، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس نے ان کا استعفیٰ منظور کیا ہے یا نہیں۔

امریکی محکمۂ فوج نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی وزیرِ دفاع نے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج سے استعفیٰ طلب کرلیا

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ایک بیان میں کہا کہ سیکریٹری ڈرسکول نے امریکی فوج کے محکمے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کیا۔

انہوں نے تاریخی فوجی کارروائیوں کے دوران بہترین قیادت فراہم کی، فوج کی تیاری اور جنگی صلاحیت پر توجہ بحال کی، جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں بھی معاونت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمانڈر اِن چیف اور وزیر دفاع کے ساتھ کام کرتے ہوئے ڈرسکول کی کاوشوں کے نتیجے میں امریکی فوج پہلے سے زیادہ طاقتور ہوئی ہے۔

ڈینیئل ڈرسکول، جو نائب صدر جے ڈی وینس کے سابق قانون کے ہم جماعت بھی رہ چکے ہیں، ہیگستھ کے دور میں پینٹاگون چھوڑنے والے اعلیٰ عہدیداروں کی فہرست میں تازہ ترین نام ہیں۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اپریل میں امریکی آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے برطرف کردیا تھا، جبکہ امریکی فوج کی یورپ اور افریقہ میں کمان کرنے والے جنرل کرسٹوفر ڈوناہو نے جون میں اچانک عہدہ چھوڑ دیا تھا۔

ہیگستھ نے کئی دیگر جنرلز اور ایڈمرلز کو بھی عہدوں سے ہٹایا، جن میں امریکی بحریہ کے سربراہ بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا کے وزیر بحریہ جان سی فیلن اچانک عہدے سے مستعفی

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈرسکول نے ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے امریکی فوج کی تنظیم نو اور جنگی تیاری سے متعلق تحفظات اٹھائے تھے۔

ایک ذریعے کے مطابق ڈرسکول کو شکایت تھی کہ ہیگستھ ان کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں، بالخصوص ان جنرلز کو برطرف کرکے جو فوجی اصلاحات کے ذمہ دار تھے۔

ڈرسکول کو فروری 2025 میں امریکی آرمی سیکریٹری کے عہدے کی منظوری دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کی حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں، متعدد اعلیٰ حکام عہدوں سے برطرف

انہوں نے کم لاگت اور زیادہ مؤثر ہتھیاروں کے حصول کے لیے امریکی فوج کے نظام میں تبدیلیوں پر زور دیا اور بڑے ہتھیار ساز اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

آرمی سیکریٹری کی بنیادی ذمہ داریوں میں فوجیوں کی تربیت اور انہیں سازوسامان فراہم کرنا شامل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیگستھ ڈرسکول کو پینٹاگون کی بیوروکریسی میں اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے اور طویل عرصے سے انہیں عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں جنگ کی وجہ سے اسرائیل کے تشخص کو شدید نقصان پہنچا، امریکی وزیرخارجہ کا اعتراف

تاہم نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ڈرسکول کے قریبی تعلقات کے باعث ایسا کرنا مشکل تھا۔

عہدیدار کے مطابق جنرل رینڈی جارج کی برطرفی نے ڈرسکول کو حیران کردیا تھا، جس کے بعد وزیر دفاع ہیگستھ کے ساتھ ان کی ناراضی میں مزید اضافہ ہوا۔

ڈرسکول نے پینٹاگون سے باہر بھی اس وقت نمایاں مقام حاصل کیا جب صدر ٹرمپ نے انہیں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ماسکو اور کیف کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے نامزد کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp