امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس میں متعدد اعلیٰ حکام کی برطرفیاں اور عہدوں میں تبدیلیاں شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی قریبی اتحادی اور اٹارنی جنرل پام بونڈی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ فیصلہ بونڈی کی کارکردگی سے متعلق صدر کی ناراضی اور بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے کیس سے متعلق فائلوں کے تنازعات کے بعد کیا گیا۔
مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی قریبی ساتھی پام بونڈی کو بطور اٹارنی جنرل عہدے سے ہٹا دیا
پام بونڈی کی جگہ صدر نے اپنے سابق ذاتی وکیل ٹوڈ بلانچ کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کیا ہے تاکہ محکمہ انصاف پر اپنی گرفت مضبوط کی جا سکے۔
اسی دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے فوج کے چیف آف اسٹاف رینڈی جارج سے استعفیٰ طلب کرکے انہیں عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان نے کہا کہ جنرل جارج فوری طور پر ریٹائر ہو رہے ہیں، اور نئے عسکری رہنما کو صدر ٹرمپ کے وژن کے مطابق فوجی حکمت عملی نافذ کرنے کے لیے لایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق، ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل، سیکریٹری آرمی ڈینیئل ڈرسکل اور امریکی وزیر محنت لوری شاویز ڈی ریمر بھی ممکنہ طور پر اس فہرست میں شامل ہیں، جبکہ گزشتہ ماہ ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکرٹری کرسٹی نوم کو برطرف کیا جا چکا ہے۔
مزید پڑھیں:صدر ٹرمپ کے میل اِن ووٹنگ آرڈر کیخلاف ڈیموکریٹس نے عدالت سے رجوع کرلیا
امریکی میڈیا کے مطابق یہ تبدیلیاں اعلیٰ حکام میں بے چینی پیدا کر رہی ہیں اور کابینہ کے دیگر ارکان اپنے عہدوں کی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جس سے مزید برطرفیوں کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔














