پاکستان میں تیار کردہ پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹیڈ کی گاڑیاں آلٹو اور سوزوکی ایوری باضابطہ طور پر برونائی کی بین الاقوامی مارکیٹ میں شامل ہوگئی ہیں۔ یہ پیشرفت پاکستان کی آٹو موبائل مینوفیکچرنگ انڈسٹری اور اس کی برآمدی صلاحیتوں کے لیے ایک اہم سنگ میل تصور کی جا رہی ہے۔
برونائی میں بڑھتی ہوئی طلب اور مارکیٹ کا جائزہ
معاشی ماہر اور تجزیہ کار منور مرزا کے مطابق برونائی، جنوب مشرقی ایشیا کا ایک امیر اور برآمدات پر مبنی ملک ہے، اپنی بلند فی کس آمدنی اور تیل و گیس کے وسیع وسائل کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اس برآمد کے نتیجے میں برونائی کے صارفین کو پاکستان میں اسمبل کی جانے والی مقبول ترین اور کمپیکٹ گاڑیاں فراہم کی جا سکیں گی۔
مزید پڑھیں:پاک سوزوکی موٹر کمپنی نے تمام گاڑیوں کی قیمتوں میں کتنا اضافہ کردیا؟
انکا مزید کہنا ہے کہ اینٹری لیول اور ایندھن کی بچت کرنے والی ان گاڑیوں کی برونائی میں آمد سے نہ صرف بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی گاڑیوں کی رسائی ممکن ہوئی ہے، بلکہ اس سے پاکستان کے مقامی مینوفیکچررز کے لیے نئی عالمی اور علاقائی منڈیوں میں مواقع تلاش کرنے کے راستے بھی کھل گئے ہیں۔
معاشی ماہر جنید خان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، برونائی کو پاکستان سوزوکی گاڑیاں جانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان آٹو سیکٹر میں آگے بڑھ رہا ہے لیکن یہاں میں یہ بات ضرور کہوں گا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنے ملک میں ہی اپنی گاڑیاں بنائیں اور وہ دنیا میں متعارف کرائیں، سوزوکی تو پہلے سے دنیا میں موجود ہے۔
انکا کہنا ہے کہ ہم گاڑی مینوفیکچر نہیں کررہے بلکہ ہم اسمبلی کر رہے ہیں ہمیں مینوفیکچرنگ پر جانا ہوگا اور سب سے پہلے پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں متعارف کرانا ہوں گی تا کہ ہماری سڑکوں پر ہماری اپنی گاڑیاں موجود ہوں اور اس سے پاکستان کا عام شہری فائدہ اٹھا سکے۔
جنید خان نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ اب اگر ایک مزدور لانڈھی میں رہتا ہے اور اسکو مزدوری کے لیے نیو کراچی جانا ہو تو وہ روز نیو کراچی جانا برداشت ہی نہیں کرسکتا وہ کچی آبادی بنائے گا، اب اگر پبلک ٹرانسپورٹ بہتر ہو تو ہر شہری اس سے بروقت اور بھرپور فائدہ لے سکتا ہے۔
برآمدی حجم اور زر مبادلہ میں اضافہ
معاشی ماہر راشد خان کا کہنا ہے کہ برونائی جیسی مضبوط معیشت رکھنے والے ملک میں پاکستانی گاڑیوں کی فراہمی سے ملک کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ اقدام برآمدات کے فروغ کے ذریعے غیر ملکی زر مبادلہ کمانے کی سمت ایک درست قدم ہے۔
عالمی معیار کا اعتراف
انکا مزید کہنا ہے کہ گاڑیوں کی بین الاقوامی سطح پر مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں اسمبل کی جانے والی گاڑیاں بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس سے پاک سوزوکی سمیت دیگر مقامی کمپنیوں کا عالمی سطح پر اعتماد بڑھے گا۔
مزید پڑھیں:سوزوکی موٹرز نے پاکستان میں نئی گاڑی لانچ کرنے کا اعلان کردیا
نئے صنعتی مواقع
آٹو انڈسٹری ماہر محمد شہزاد کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کے بعد دیگر آٹو مینوفیکچررز بھی علاقائی و بین الاقوامی مارکیٹوں میں اپنی برآمدات بڑھانے کی طرف توجہ دیں گے، جس سے ملک میں صنعتی سرگرمیوں کو مزید تقویت ملے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمیں بہت پہلے اپنی مینوفیچرنگ پر فوکس کرنا چاہیے تھا لیکن اب بھی اگر ہم اسمبلنگ کے بجائے مینوفیچرنگ پر جائیں تو ہم دنیا میں اپنا مقام پیدا کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ میڈ ان پاکستان پر فوکس کیا جائے مقامی مینوفیچررز کے لیے آسانی پیدا کی جائے، خام مال کے لیے سرمایہ کاری کی جائے، اسمبل کرنے کی بڑی وجوہات بھی یہی ہیں کہ یہاں جن پارٹس کو بنانے میں اخراجات آتے ہیں وہیں باہر سے منگوائے جانے والے پارٹس سستے پڑتے ہیں۔













