چینی حکام نے نیپال کی سرحد کے قریب پیش آنے والے مہلک لینڈ سلائیڈ کے واقعے سے متعلق آن لائن غلط اطلاعات پھیلانے کے الزام میں 10 افراد کو سزائیں دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین اور نیپال کی سرحد پر تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئیں
پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امدادی کارکن تبت کی سرحدی گزرگاہ پر سینکڑوں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
پولیس کے مطابق ان افراد کو دی گئی سزاؤں میں جرمانوں سے لے کر 10 دن تک کی حراست شامل ہو سکتی ہے۔ یہ سزائیں ایسے وقت میں سنائی گئیں جب دونوں جانب نیپال اور تبت (چین) میں امدادی ٹیمیں تلاش کے کام میں مصروف ہیں اور جہاں گزشتہ ہفتے پانی کے ایک تباہ کن ریلے نے کئی علاقوں کو تہس نہس کر دیا تھا اور مکمل دیہات بہا لے گیا تھا۔
چین کی وزارت عوامی سلامتی کے سائبر سیکیورٹی بیورو کے بیان کے مطابق مذکورہ 10 افراد کی جانب سے پھیلائی گئی افواہوں میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ لاپتا یا ہلاک ہونے والوں کی تعداد سرکاری طور پر بتائے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
مزید پڑھیے: چین میں سیلاب کے باعث تقریباً 900 سانپ فرار، سرچ آپریشن جاری
بیان میں بتایا گیا کہ ایک شخص، جس کا نام چیو بتایا گیا نے آن لائن یہ دعویٰ کیا تھا کہ خبروں میں 1400 اموات کی اطلاع دی گئی ہے جبکہ درحقیقت اس سے پہلے 3000 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات موصول ہو چکی تھیں۔ اسی طرح لیو نامی ایک اور شخص نے دعویٰ کیا کہ اس لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں چین میں 3000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔














