چین کے خودمختار علاقے گوانگ شی ژوانگ کے شہر ہینگژو میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث سانپ پالنے کے ایک فارم سے تقریباً 900 سانپ فرار ہوگئے، جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے انہیں پکڑنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
چینی میڈیا کے مطابق 6 جولائی کو طوفان کے باعث شدید بارشوں نے قریبی آبی ذخیرے کے بند کو نقصان پہنچایا، جس سے ڈینگ وی گاؤں زیر آب آگیا اور سانپوں کے فارم کے باڑے تباہ ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: طاقتور طوفان ’باوی‘ تائیوان اور چین کی جانب بڑھنے لگا، بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے زیادہ تر سانپ اپنے ساتھ بہا لے گئے، جبکہ کچھ سانپ پانی میں تیرتے ملبے پر پھنس گئے تھے۔ ابتدائی اطلاعات میں زہریلے کوبرا سانپوں کے فرار ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں حکام نے واضح کیا کہ اب تک پکڑے گئے تمام سانپ غیر زہریلے آبی سانپ ہیں۔
فرار ہونے والے سانپوں کو پکڑنے کے لیے 10 رکنی خصوصی ٹیم تعینات کی گئی ہے، جسے جال اور برقی جھٹکا دینے والے آلات فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ قریبی دیہات کے رضاکار بھی اس کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔
حکام کے مطابق ایک دیہاتی کو سانپ نے کاٹ لیا، جسے طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
یہ واقعہ چین میں طوفان اور سیلاب سے پیدا ہونے والی وسیع تباہی کا ایک حصہ ہے۔ طوفان کے باعث تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ گوانگ شی کے دارالحکومت نان ننگ میں ایک آبی ذخیرے کا بند بھی ٹوٹ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا بنگلہ دیش سے غیرقانونی آمدورفت روکنے کے لیے سرحدی علاقوں میں سانپ اور مگرمچھ چھوڑنے پر غور
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے کم از کم 6 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 11 افراد لاپتا ہیں۔ ادھر صوبہ ہوبے میں الگ سیلابی واقعات میں مزید 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ چینی حکومت نے متاثرہ علاقوں کے لیے 36 ہزار سے زائد امدادی سامان بھی روانہ کیا ہے۔
گوانگ شی دنیا کے بڑے سانپ افزائی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں مختلف اقسام کے سانپ پالتو جانوروں، زہر کے حصول اور گوشت کی تجارت کے لیے پالے جاتے ہیں۔
صدر شی جن پنگ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کی جائیں اور دریاؤں، جھیلوں اور آبی ذخائر کے اطراف حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔














