کراچی میں کشتی سازی کا صدیوں پرانا ہنر آج بھی زندہ، یہ شاہکار کیسے تیار ہوتے ہیں؟

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری میں لکڑی پر ہتھوڑے کی مسلسل ضربوں اور آریوں کی آوازیں آج بھی اس قدیم ہنر کی گواہی دیتی ہیں جہاں کاریگر لکڑی کے بڑے بڑے ڈھانچوں پر دن رات محنت کرکے ماہی گیری کی کشتیاں تیار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں مون سون کے دوران ساحلوں پر سیپیوں کی بھرمار، وجہ کیا ہے؟

اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق بندرگاہی شہر کراچی کے مضافات میں واقع ابراہیم حیدری ایک قدیم سمندری بستی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی تاریخ کئی صدیوں پرانی ہے۔ یہ علاقہ روایتی انداز میں ماہی گیری کی کشتیاں بنانے کے حوالے سے مشہور ہے۔

پاکستان فشر فوک فورم کے نمائندے مہران علی شاہ کے مطابق ابراہیم حیدری وہ علاقہ ہے جہاں سے کراچی کی ابتدا ہوئی اور جس نے شہر کے ماہی گیری کے شعبے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

صنعتی سطح پر جہاز سازی کے جدید طریقوں کے فروغ کے باوجود یہاں لکڑی کو ایک ایک ٹکڑے کی صورت میں ہاتھ سے جوڑ کر کشتی بنانے کا قدیم طریقہ آج بھی برقرار ہے۔

والد سے سیکھا کشتی سازی کا ہنر

22 سالہ کشتی ساز محمد آصف نے یہ ہنر نوعمری میں اپنے والد سے سیکھا تھا اور اب وہ خود بھی کشتی سازی کا کام کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

آصف کا کہنا ہے کہ انہیں اس کام سے ابتدا ہی سے دلچسپی تھی اسی لیے انہوں نے اسے محنت اور لگن کے ساتھ اپنایا۔

مزید پڑھیے: کراچی سے مارگلہ کے دامن تک: پاکستان کے مستقل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا تاریخی سفر

وہ روزانہ صبح 7 بجے کام پر پہنچتے ہیں اور تقریباً 12 گھنٹے کام کرنے کے بعد شام 7 بجے گھر واپس جاتے ہیں۔ اس دوران صرف 2 گھنٹے کا دوپہر کا وقفہ ہوتا ہے۔

آصف ہفتے میں 6 دن کام کرتے ہیں اور ایک دن میں ڈھائی ہزار روپے تک کما لیتے ہیں۔

کشتی سازوں کو پورا سال کھلے ماحول میں کام کرنا پڑتا ہے۔ کراچی کی شدید گرمی اور نمی کے علاوہ مون سون کے دوران ہونے والی بارشیں بھی ان کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود کشتی سازی کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

کشتی کیسے تیار کی جاتی ہے؟

کشتی کی تیاری کا عمل ماہی گیر کی جانب سے ڈیزائن کے انتخاب سے شروع ہوتا ہے۔

اس کے بعد ایک ماہر کاریگر کشتی کا خاکہ تیار کرتا ہے اور باقی کام کاریگروں کے حوالے کردیا جاتا ہے جو اپنے برسوں کے تجربے کی بنیاد پر لکڑی کے ٹکڑوں کو انتہائی احتیاط سے جوڑ کر کشتی کی شکل دیتے ہیں۔

کاریگر کشتی بنانے کے لیے مختلف اقسام کی لکڑی استعمال کرتے ہیں۔ مقامی طور پر دستیاب سفیدہ (یوکلپٹس) کی لکڑی کے علاوہ افریقی ساگوان بھی استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ سمندری پانی کے اثرات کو برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔

لکڑی کے بھاری بلاکس کو پرانی عمودی اور دیگر آریوں کی مدد سے کاٹا جاتا ہے۔ کاریگر پہلے لکڑی پر پنسل سے نشانات لگاتے ہیں اور پھر انہی نشانات کے مطابق اسے مطلوبہ شکل میں تراشتے ہیں۔

اس کے بعد کشتی زمین سے اوپر کی جانب مرحلہ وار تیار کی جاتی ہے۔ لکڑی کے ٹکڑوں کو ایک ایک کرکے جوڑا اور کیلوں سے مضبوط کیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے کشتی کا ڈھانچہ بلند ہوتا جاتا ہے کاریگر بوسیدہ اور ہلکی سیڑھیوں پر چڑھ کر اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کے لیے 12 ارب روپے کی منظوری

یہ پورا عمل انتہائی وقت طلب ہے۔ محمد آصف کے مطابق چند میٹر لمبی ایک چھوٹی کشتی کو بھی مکمل ہونے میں 3 ماہ تک لگ سکتے ہیں جبکہ اس کی تیاری پر تقریباً 10 لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔

کشتیوں پر پھول بنانے والا کاریگر

کشتی سازی کے بعد انہیں خوبصورت اور نمایاں بنانے کا مرحلہ آتا ہے جس کی ذمہ داری محمد اسماعیل جیسے ماہر مصوروں کی ہوتی ہے۔

38 سالہ محمد اسماعیل گزشتہ ایک دہائی سے کشتیوں پر نقش و نگار بنانے کا کام کررہے ہیں۔ ان کے ہاتھ اور ناخن رنگوں سے نیلے ہوچکے ہیں اور وہ ایک کشتی کے بیرونی حصے پر پھولوں کی پتیاں بنا رہے تھے۔

اسماعیل کے مطابق زیادہ تر ماہی گیر اپنی کشتیوں پر مچھلیوں کے بجائے پھولوں کے ڈیزائن پسند کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ جب کشتی کا مالک ان کے بنائے ہوئے نقش و نگار کو پسند کرتا ہے تو انہیں بہت خوشی اور اطمینان محسوس ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چین کو پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات میں 24 فیصد اضافہ، حجم 255 ملین ڈالر تک پہنچ گیا

کچھ لوگ انہیں اپنی مرضی کا ڈیزائن بنانے کی مکمل آزادی دیتے ہیں جبکہ بعض کشتی مالکان پہلے سے طے شدہ ڈیزائن بتاتے ہیں جس کے مطابق انہیں کام کرنا ہوتا ہے۔

کشتی صرف سواری نہیں، اپنے بچوں جیسی بھی

ابراہیم حیدری کی ایک قریبی بندرگاہ پر ماہی گیر قادر بخش اپنی چھوٹی کشتی میں بیٹھے جال کی مرمت کررہے تھے۔ یہ کشتی ان کے خاندان کی ملکیت ہے اور کم از کم 2 دہائیوں سے ان کے استعمال میں ہے۔

قادر بخش جلد ہی اپنی لکڑی کی کشتی کی مرمت اور تزئین و آرائش کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ان کے لیے یہ کشتی محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک قیمتی اثاثہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ کشتی کی دیکھ بھال ایسے ہی ہے جیسے کسی انتہائی قیمتی چیز کی حفاظت کرنا بلکہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے بچے کی دیکھ بھال کررہے ہوں۔

مزید پڑھیے: بلوچستان قدرتی حسن اور دلکش مناظر سے مالا مال، سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود

کراچی کے صنعتی اور جدید ہوتے منظرنامے کے باوجود ابراہیم حیدری میں لکڑی کی کشتیاں آج بھی اسی روایتی انداز میں تیار کی جارہی ہیں۔ یہ ہنر نہ صرف مقامی ماہی گیروں کی روزی روٹی سے جڑا ہے بلکہ کراچی کے ساحلی اور ماہی گیری کے قدیم ورثے کی بھی علامت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp