چینی صدر شی جن پنگ 10 سال بعد مصر پہنچ گئے، جہاں صدر عبدالفتاح السیسی نے ان کا استقبال کیا۔ یہ دورہ ایران جنگ کے بعد خطے میں سیکیورٹی اور معاشی شراکت داریوں پر نظرثانی کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں:پیوٹن، شی جن پنگ اور ایرانی صدر کرغزستان میں ایس سی او اجلاس میں شریک ہوں گے
مصر اور چین کے درمیان معاشی و دفاعی تعلقات میں حالیہ برسوں میں تیزی آئی ہے۔ گزشتہ ماہ دونوں ممالک نے دوسری مشترکہ فوجی مشقیں بھی کیں، جن میں چینی جے-16 جنگی طیاروں نے پہلی بار افریقہ میں حصہ لیا۔
Xi Jinping has arrived in Cairo, his first Egypt visit in a decade.
Talks will focus on military and economic ties, Chinese investment in the Suez Canal Economic Zone, and Huawei’s bid to build the government’s AI data centers. pic.twitter.com/nJP76si6X0
— Open Source Intel (@Osint613) September 1, 2026
رائٹرز کے مطابق غزہ اور ایران کی جنگوں کے باعث امریکا کی قابلِ اعتماد سیکیورٹی شراکت دار کی حیثیت سے مصر کے خدشات بڑھے ہیں، جس کے نتیجے میں قاہرہ چین، روس اور یورپ سمیت دیگر طاقتوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
مزید پڑھیں:شی جن پنگ کا شمالی کوریا میں پرتپاک استقبال، ’ناقابلِ شکست دوستی‘ کا اعلان
چینی سرمایہ کاری مصر میں صنعت، بندرگاہوں، شمسی توانائی، گرین ہائیڈروجن اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔














