شی جن پنگ کا شمالی کوریا میں پرتپاک استقبال، ’ناقابلِ شکست دوستی‘ کا اعلان

پیر 8 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کے صدر شی جن پنگ نے پیر کے روز پیانگ یانگ پہنچنے پر شمالی کوریا کے ساتھ ’ناقابلِ شکست دوستی‘ کو سراہا۔

یہ ان کا رواں سال کا پہلا بیرونی دورہ ہے، جو انہوں نے بیجنگ میں ایک کے بعد ایک سربراہی ملاقاتوں کی میزبانی کے بعد کیا۔

چین، جو واشنگٹن کا اہم جغرافیائی حریف ہے، کئی دہائیوں سے شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اس ملک کے لیے سفارتی و معاشی حمایت کا بنیادی ذریعہ رہا ہے، جو متعدد بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چینی صدر کے دورے سے ایک روز قبل شمالی کوریا کا جوہری حیثیت برقرار رکھنے کا اعادہ

چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کی ویڈیو کے مطابق ایک ایئر چائنا طیارے کی آمد پر فوجی افسران سرخ قالین کے دونوں طرف کھڑے تھے، جس میں شی جن پنگ سوار تھے، یہ ان کا 2019 کے بعد جنوبی کوریا کا پہلا دورہ ہے۔

ایئرپورٹ پر ایک بڑا بینر آویزاں تھا جس پر ’کامریڈ شی جن پنگ کو خوش آمدید‘ اور دونوں ممالک کی ’ناقابلِ شکست دوستی‘ کو سراہا گیا تھا، اس موقع پر چینی اور شمالی کوریا کے پرچم بھی لہرا رہے تھے۔

شی جن پنگ نے یہ دورہ اس وقت کیا جب انہوں نے بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

وائٹ ہاؤس نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ میں ملاقات کے دوران شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مشترکہ ہدف کی تصدیق کی تھی۔

تاہم شمالی کوریا کی بااثر رہنما کم جونگ اُن کی بہن نے شی کے دورے سے ایک روز قبل کہا تھا کہ ملک کا جوہری پروگرام ’واپسی سے ناممکن راستہ‘ ہے۔

مزید پڑھیں: جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے ’پرامن بقائے باہمی‘ پر توجہ

ڈپلومیسی کے ماہرین کے مطابق بیجنگ اب شاید شمالی کوریا کو ایک جوہری ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے، تاہم چین کی ترجیح خطے میں استحکام ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اس وقت امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات اور اختلافات کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اس کی حکمت عملی اب شمالی کوریا میں حکومت کے استحکام کو برقرار رکھنے کی طرف مائل ہو رہی ہے۔

https://Twitter.com/PDChina/status/2063901795706196418
تجزیہ کاروں کے مطابق چین ایک ایسے مضبوط اور اسلحہ سے لیس اتحادی کو ترجیح دیتا ہے جو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے لیے توازن کا کردار ادا کرے۔

شمالی کوریا نے 2019 میں ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی ناکام ملاقات کے بعد خود کو ’ناقابل واپسی‘ جوہری ریاست قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا کا جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کو ماننے سے انکار

کم جونگ اُن نے روس کے ساتھ تعلقات، خاص طور پر یوکرین جنگ کے دوران روسی افواج کی مدد کے بدلے میں، مضبوط کیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چین اس دورے کے ذریعے روس کے شمالی کوریا پر بڑھتے اثر کو بھی متوازن کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، تاہم ماسکو اب بھی بیجنگ کے مقابلے میں کم طاقتور فریق ہے۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا کا بحری جنگی جہاز سے کروز اور اینٹی شپ میزائلوں کا تجربہ

شی جن پنگ نے شمالی کوریا کے سرکاری اخبار میں لکھے گئے ایک مضمون میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کا عہد کیا اور کہا کہ چاہے حالات جیسے بھی ہوں، چین اور شمالی کوریا کی روایتی دوستی ہمیشہ ناقابلِ شکست رہے گی۔

چین اور شمالی کوریا کے درمیان یہ قریبی تعلق اس وقت مزید اہم ہو گیا ہے جب خطے میں امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دہری شہریت کے حامل مسافروں کے لیے پی آئی اے کی اہم ایڈوائزری جاری

امریکا نے طلبا اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے ویزا قوانین سخت کردیے

مذہبی ہم آہنگی اور اتحادِ امت کی شاندار مثال، تمام مکاتب فکر کی ایک امام کے پیچھے نماز کی ادائیگی

کیا ٹرمپ کا نیا سکہ واقعی سونے کا بنا ہے؟

طالبان رجیم کس طرح بھارت سے پیسے لے کر دہشتگرد گروہوں سے پاکستان میں حملے کرواتی ہے؟ سابق افغان جنرل نے بتادیا

ویڈیو

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے فیلڈ مارشل سے متعلق پروپیگنڈا، کشمیر پیپلز پارٹی کا، کیا ایسا ممکن ہوگا؟ پی ٹی آئی کا ایک اور یوٹرن

ماضی میں عدالتی احکامات پر مسمار ہونے والی عمارتوں سے متعلق سپریم کورٹ کے نئے فیصلے سے متاثرین کو کیا ریلیف ملے گا؟

نوکری اور پیسے تو سب لیتے ہیں، لیکن جہاں موت کا خطرہ ہو وہاں ہر کوئی نہیں جاتا، عامر نواز وڑائچ

کالم / تجزیہ

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک