بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی حکومت نے چلتی بس میں گیارہویں جماعت کی 16 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے اندوہناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ اور انٹر اسٹیٹ بسوں کے لیے حفاظتی احکامات جاری کر دیے ہیں۔
دہلی کے محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکمنامے کے تحت تمام بس آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گاڑیوں میں لوکیشن ٹریکنگ ڈیوائسز (VLTDs) اور ہنگامی پینک بٹنز کا ہر وقت فعال ہونا یقینی بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام بسوں سے پردے اور شیشوں پر لگی ٹنٹڈ (سیاہ) فلمز ہٹانے کی سخت ہدایت کی گئی ہے تاکہ گاڑی کے اندر کا منظر باہر سے واضح دکھائی دے سکے۔
یہ بھی پڑھیے گینگ ریپ کرنے والوں کے محافظ کو وزیر تعلیم بنادیا، راہل گاندھی کی مودی سرکار پر کڑی تنقید
حکمنامے کے مطابق، غیر محفوظ اور غیر مجاز مقامات، بالخصوص سڑک کے درمیان یا چوراہوں پر بسیں روکنے پر مکمل پابندی ہوگی۔ تمام بس ڈرائیورز کا توثیق شدہ لائسنس اور مخصوص یونیفارم میں ہونا لازم ہوگا، جبکہ ڈرائیور، کنڈکٹر اور دیگر عملے کا بائیو میٹرک اور قانونی ویری فکیشن کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کسی بھی قسم کی نشہ آور اشیاء کے استعمال کے بعد ڈرائیونگ پر سخت ممانعت ہوگی۔
حکام کے مطابق، اگر بس میں کسی خاتون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا غیر اخلاقی حرکت کا واقعہ پیش آتا ہے تو عملے کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ فوری طور پر پولیس کو اطلاع دے اور بس کو قریب ترین پولیس اسٹیشن لے جائے۔ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر بس کا روٹ پرمٹ منسوخ اور گاڑی کو ضبط کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں گینگ ریپ کی شکار ہسپانوی خاتون سیاح پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اتر پردیش کے علاقے مین پوری سے تعلق رکھنے والی ایک 16 سالہ طالبہ کو سلیپر بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر نے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں اسے کاشمیری گیٹ کے قریب پھینک کر فرار ہو گئے۔ اس واقعے نے 2012 کے خوفناک ‘نربھیا’ کیس کی یادیں تازے کر دی تھیں۔
دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ نے واضح کیا کہ مسافروں بالخصوص خواتین کا تحفظ یقینی بنانا حکومت کی پہلی ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔














