بھارتی لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے پرلاد جوشی کو مرکزی وزیرِ تعلیم مقرر کیے جانے پر وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے نو تعینات وزیرِ تعلیم کو ’ریپ کے مجرموں کا محافظ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت نے ملک بھر میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے لاکھوں طلبہ کے خدشات کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔
امتحانی بے ضابطگیاں اور اپوزیشن کا موقف
راہل گاندھی نے کہا کہ ملک بھر میں نوجوان اور طالبات NEET جیسے اہم امتحانات کے پرچوں کے افشا (پیپر لیک) ہونے اور دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں، جہاں مظاہرین کو پولیس کے تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس وقت میں مودی حکومت کا یہ فیصلہ انتہائی حیران کن ہے۔
انہوں نے مزید کہا ’کابینہ میں کئی دیگر ارکان موجود تھے، لیکن وزیراعظم نے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا جس نے بلقیس بانو کیس کے سزایافتہ مجرموں کی رہائی کے فیصلے کا کھلم کھلا دفاع کیا تھا۔‘
پارلیمنٹ میں ہنگامہ اور کانگریس کا احتجاج
دوسری جانب کانگریس کی جنرل سیکرٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی لوک سبھا میں ‘اینٹی پیپر لیک بل’ پر بحث کے دوران یہ معاملہ اٹھایا، جس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ پرینکا گاندھی کا کہنا تھا کہ ایک ایسے شخص کو تعلیم کی وزارت سونپی گئی ہے جس نے ایک حاملہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے مجرموں کی رہائی پر نہ صرف اتفاق کیا بلکہ خوشی کا اظہار بھی کیا تھا۔
بعد ازاں کانگریس نے سوشل میڈیا پر پرلاد جوشی کی ایک پرانی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں وہ بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی قبل از وقت رہائی کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
بلقیس بانو کیس کا پس منظر
پرلاد جوشی پر اپوزیشن کی تنقید کا بنیادی تعلق 2002ء کے گجرات فسادات سے ہے۔ 3 مارچ 2002 کو 21 سالہ حاملہ بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی اور ان کی 3 سالہ بیٹی سمیت خاندان کے 7 افراد کو قتل کر دیا گیا۔ 2008 میں خصوصی سی بی آئی (CBI) عدالت نے 11 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔
تاہم، گجرات حکومت نے اگست 2022 میں معافی کی پالیسی کے تحت تمام 11 مجرموں کو رہا کر دیا تھا، جس کا دفاع پرلاد جوشی نے کیا تھا۔ بعد ازاں جنوری 2024 میں بھارتی سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تمام مجرموں کو دوبارہ جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔













