امریکا میں ملازمت پر مبنی مستقل رہائش (گرین کارڈ) حاصل کرنے کے خواشمند بھارتی پیشہ ور افراد کو ایک اہم کیٹیگری میں 179 سال کا طویل انتظار کرنا پڑ سکتا ہے جو کہ امریکا میں ہنر مند افراد کو درپیش امیگریشن کے ایک بہت بڑے بیک لاگ کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا بھارت کشیدگی: نریندر مودی کا 7 برس بعد چین کا دورہ کرنے کا فیصلہ
نیشنل فاؤنڈیشن فار امریکن پالیسی کے تجزیے کے مطابق دسمبر 2025 تک امریکا میں ایمپلائمنٹ بیسڈ گرین کارڈز کا بیک لاگ 12 لاکھ (1.2 ملین) سے تجاوز کر چکا تھا جس میں تقریباً 10 لاکھ درخواست گزار صرف بھارت سے ہیں۔ یوں ایمپلائمنٹ بیسڈ بیک لاگ میں بھارتی شہریوں اور ان کے اہلخانہ کا تناسب تقریباً 79 فیصد بنتا ہے۔
مختلف کیٹیگریز میں انتظار کا دورانیہ (بھارتی بمقابلہ چینی شہری)
این ایف اے پی کا تخمینہ ہے کہ جنوری 2026 یا اس کے بعد درخواست دینے والے بھارتی پیشہ ور افراد کو مختلف کیٹیگریز کے تحت درج ذیل انتظار کا سامنا ہو سکتا ہے:
ای بی 2 کیٹیگری (اعلیٰ ڈگری یافتہ پیشہ ور افراد): بھارتی شہریوں کے لیے انتظار کا وقت 179 سال تک پہنچ سکتا ہے۔
ای بی 3 کیٹیگری (ہنر مند ورکرز): بھارتی شہریوں کے لیے انتظار کا وقت 38 سال ہے۔
Indian professionals may face 179-year wait for US #GreenCard, estimates US policy grouphttps://t.co/3sH7szJEBM
— CNBC-TV18 (@CNBCTV18News) September 2, 2026
ای بی 1 کیٹیگری (ترجیحی ورکرز): بھارتی شہریوں کے لیے انتظار کا وقت تقریباً 5 سال ہے۔
مزید پڑھیے: ایچ ون بی امریکی ویزا فیس ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ کرنے کی تجویز
اس کے مقابلے میں چینی درخواست گزاروں کو ای بی 2 کیٹیگری کے تحت 25 سال جبکہ ای بی 3 کیٹیگری کے تحت تقریباً 7 سال کا انتظار کرنا پڑے گا۔
گرین کارڈ کے بیک لاگ میں اضافے کی اہم وجوہات
این ایف اے پی کے مطابق اس غیر معمولی تاخیر کی دو بنیادی وجوہات امریکی قوانین میں موجود ہیں: ایک امریکی کانگریس نے سنہ 1990 میں ایمپلائمنٹ بیسڈ گرین کارڈز کی سالانہ حد تقریباً 1,40,000 مقرر کی تھی جس میں مرکزی ورکرز کے ساتھ ساتھ ان کے اہلخانہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ دوسرا امریکی قانون کے تحت کسی بھی ایک ملک کے شہریوں کو سالانہ بنیادوں پر ایک مخصوص حد (7 فیصد) سے زیادہ گرین کارڈز نہیں دیے جا سکتے جس سے بھارت جیسے بڑے اور زیادہ ہنر مند آبادی والے ممالک کے درخواست گزار شدید متاثر ہوتے ہیں۔
تاریخی اعداد و شمار سے معاملے کی سنگینی
مسئلے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2016 میں امریکی حکام نے بھارتی ورکرز کی 47,601 ای بی 2 درخواستیں منظور کی تھیں جو اہلخانہ سمیت 98,594 افراد بنتے تھے۔
تاہم اس مالیاتی سال میں صرف 4,407 بھارتی شہریوں کو ای بی 2 گرین کارڈ مل سکے جس کی وجہ سے باقی ہزاروں افراد پہلے سے موجود طویل قطار کا حصہ بن گئے۔
مزید پڑھیں: امریکا میں مبینہ ’بھارتی ایپسٹین‘ قانون کی گرفت میں
ان حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا میں طویل عرصے سے مقیم اور اپنے کیریئر کی تعمیر کرنے والے بھارتی پیشہ ور افراد کو مستقل رہائش کے حصول میں شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔














