امریکا میں مبینہ ’بھارتی ایپسٹین‘ قانون کی گرفت میں

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں بھارتی نژاد مالیاتی سرمایہ کار مہندر مکھیجانی کو ایک بینک کے ساتھ تقریباً 100 ملین ڈالر کی مبینہ دھوکا دہی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

44 سالہ مکھیجانی بھارت میں پیدا ہوئے تھے اور اس وقت امریکا میں گرین کارڈ ہولڈر کی حیثیت سے مقیم ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق انہیں بدھ کی صبح کیلیفورنیا کے علاقے نیوپورٹ بیچ میں واقع ان کی پرتعیش رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔

جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں زیادہ سے زیادہ 30 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مکھیجانی پر انشورنس پالیسیوں کے مالکانہ ریکارڈ میں رد و بدل کر کے ایک بینک کو دھوکا دینے کا الزام ہے۔

ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے بعض ہوٹلوں اور ایک ریستورنٹ پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے مسلح افراد کا استعمال کیا اور منشیات و جنسی سرگرمیوں پر مشتمل نجی تقریبات کا اہتمام کیا۔

فراڈ کا طریقۂ واردات

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق مکھیجانی نے جعلی ٹائٹل انشورنس ریکارڈ تیار کیے، قرضوں سے متعلق اصل معلومات چھپائیں اور متعدد شیل کمپنیوں کے ذریعے ایک وفاقی بیمہ شدہ بینک کو گمراہ کیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق مکھیجانی کینٹر گروپ وی ایل ایل سی نامی کمپنی کو کنٹرول کرتے تھے، جس کے بینک کے ساتھ قرضوں کا کاروباری معاہدہ تھا۔

اس معاہدے کے تحت بینک نے کمپنی کو تقریباً 100 ملین ڈالر فراہم کیے تھے تاکہ وہ جائیدادوں کے بدلے قرض جاری یا خرید سکے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: تیز رفتار تعاقب کے دوران حادثہ، بھارتی شہری پر حاملہ لڑکی اور بچے کی ہلاکت کا الزام

الزام ہے کہ ستمبر 2024 سے اپریل 2025 کے دوران مکھیجانی نے ٹائٹل انشورنس پالیسیوں میں جعل سازی کی تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ متعلقہ جائیدادوں پر کمپنی کا پہلا قانونی حق موجود ہے۔

بعد ازاں یہ جعلی دستاویزات بینک کو جمع کروائی گئیں۔

حکام کے مطابق مکھیجانی نے بینک کے نمائندوں کے ساتھ متعدد ٹیلی کانفرنسز میں بھی غلط معلومات فراہم کیں اور ان مسائل کے بارے میں جھوٹ بولا جن کی نشاندہی بینک پہلے ہی کر چکا تھا۔

منشیات اور جنسی پارٹیوں کے الزامات

عدالتی ریکارڈ کے مطابق مکھیجانی پر منشیات اور جنسی کارکنوں پر مشتمل نجی تقریبات منعقد کرنے کا بھی الزام ہے، جن میں بعض بینک ملازمین نے بھی شرکت کی۔

دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مکھیجانی نے ان تقریبات کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کو بعد میں شرکا کو بلیک میل کرنے اور اپنے ملازمین و ساتھیوں پر اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا۔

مزید برآں، ان پر اپنے ماتحت ملازمین کو جان سے مارنے، ان کے خاندانوں کو بے گھر کرنے اور بچوں کو فلاحی امداد پر لانے جیسی دھمکیاں دینے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

ایک اور اربوں ڈالر کے مقدمے کا سامنا

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ ایک ثالث نے مکھیجانی کو ریئل اسٹیٹ کے ایک تنازعے میں 1.3 ارب ڈالر سے زائد ہرجانے کا ذمہ دار قرار دیا تھا، یہ مقدمہ محمد ہنرکار نامی کاروباری شخصیت کے ساتھ جائیداد کے معاملات سے متعلق تھا۔

امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق دونوں مقدمات کی عدالتی دستاویزات میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ مکھیجانی کاروباری حریفوں کے خلاف دھمکیوں، دباؤ اور بعض اوقات تشدد کا استعمال کرتے رہے تاکہ کاروباری معاملات میں برتری حاصل کر سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp