چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں تاخیر کی ذمہ دار اپوزیشن ہے، کنور دلشاد

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا آئینی عمل تاحال مکمل نہ ہونے کی ذمہ داری اپوزیشن پر عائد کرتے ہوئے سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے تقرری کے لیے آئینی طریقہ کار اختیار کرنے میں کوئی بنیادی رکاوٹ نہیں، اصل مسئلہ اپوزیشن کی جانب سے نام پیش نہ کرنا ہے، اپوزیشن لیڈر کو اس معاملے میں پہل کرتے ہوئے اپنے نام وزیراعظم کو فراہم کرنے چاہییں تاکہ آئینی تقاضا پورا ہو اور تقرری کا عمل آگے بڑھ سکے۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کنور دلشاد نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت آئینی تقاضا ہے، تاہم اپوزیشن کی جانب سے ابھی تک اس معاملے میں سنجیدہ پیشرفت دکھائی نہیں دے رہی۔

مزید پڑھیں: ’ووٹ عوام کی امانت ہے، اس میں خیانت قومیں مدتوں بھگتتی ہیں‘، گورنر پنجاب سے چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات

انہوں نے کہاکہ اگر اپوزیشن کی جانب سے نام سامنے آ جائیں تو وزیراعظم آئینی طریقہ کار کے تحت مزید کارروائی آگے بڑھا سکتے ہیں۔

سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو اس معاملے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیے اور اپنے مجوزہ نام پیش کرنے چاہییں۔ ان کے مطابق اگر اپوزیشن لیڈر نام دے دیتا ہے تو کم از کم آئینی عمل شروع کرنے کی راہ ہموار ہو جاتی ہے اور معاملہ متعلقہ پارلیمانی کمیٹی کے مرحلے تک پہنچ سکتا ہے۔

کنور دلشاد نے واضح کیاکہ چیف الیکشن کمشنر کی مدت مکمل ہونے کے باوجود نئے سربراہ کی تقرری نہ ہونے سے الیکشن کمیشن کا نظام مفلوج نہیں ہوا، 26ویں آئینی ترمیم کے بعد موجودہ چیف الیکشن کمشنر نئے سربراہ کی تقرری تک اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے، اس لیے فوری طور پر ایسا کوئی بڑا انتظامی بحران پیدا نہیں ہوا جس سے الیکشن کمیشن کے روزمرہ امور متاثر ہوں۔

انہوں نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا معاملہ آئینی اعتبار سے ضرور اہم ہے، تاہم نئے سربراہ کی عدم تقرری کے باعث الیکشن کمیشن اپنے معمول کے فرائض انجام دینے سے قاصر نہیں ہے۔

سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ الیکشن کمیشن کے سندھ اور بلوچستان سے دو ارکان کی تقرری کا معاملہ بھی تاحال زیر التوا ہے۔

ان کے مطابق اس کے باوجود کمیشن کے انتظامی اور آئینی امور کا سلسلہ جاری ہے اور محض ان تقرریوں میں تاخیر سے ایسا نہیں کہ الیکشن کمیشن اپنا کام نہیں کر سکتا۔

کنور دلشاد کے مطابق موجودہ صورت حال میں سب سے اہم کردار اپوزیشن لیڈر کا ہے، انہیں چاہیے کہ وہ نئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کے لیے اپنے مجوزہ نام سامنے لائیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر اپوزیشن اپنا حصہ پورا کر دے تو تقرری کا آئینی عمل آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر نئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے سندھ و بلوچستان سے ارکان کی تعیناتی کا معاملہ فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم ابھی تک اپوزیشن کی جانب سے نام نہیں بھیجے گئے۔

محمود خان اچکزئی نے اپنے مکتوب میں وزیراعظم کی توجہ چیف الیکشن کمشنر اور دونوں ارکان کی مدت مکمل ہونے کی جانب مبذول کراتے ہوئے آئینی تقاضے پورے کرنے پر زور دیا تھا۔ اس سے قبل سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب بھی ان عہدوں پر تقرریوں کے لیے وزیراعظم کو خط لکھ چکے ہیں۔

آئینی طور پر چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری میں وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کا مشاورتی کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں دونوں جانب سے ناموں پر مشاورت اور اتفاق رائے کا عمل مکمل نہ ہونے کے باعث تقرریاں تاحال زیر التوا ہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن متفق

واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دیگر 2 ارکان نثار احمد درانی اور شاہ محمد جتوئی کی مدت ملازت کی 5 سالہ مدت 27 جنوری 2019 کو شروع ہوئی تھی اور 26 جنوری 2025 کو باضابطہ طور پر ختم ہوگئی تھی تاہم، آئین کے آرٹیکل 215 (1) میں حالیہ ترمیم کے تحت یہ تینوں اراکین اپنی خدمات جاری رکھیں گے جب تک کہ ان کے متبادل کی تقرری نہ ہوجائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp