امریکی فوج میں بھونچال، ڈین ڈرسکول کے استعفے کے بعد وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ پر سنگین الزامات

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول کے استعفے کے بعد وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کو فوج میں غیر ضروری اکھاڑ پچھاڑ اور ‘کلچر وار’ پر توجہ دینے کے باعث شدید تنقید کا سامنا ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق اہم جرنیلوں کی من مانی برطرفیوں نے امریکی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عمل کو متاثر کیا ہے، تاہم پینٹاگون نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ڈین ڈرسکول کی رخصتی سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوج کی جدیدیت، جنگی تیاریوں اور بالخصوص ان اہم جرنیلوں کی برطرفی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا جو فوج کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے پراجیکٹس کو لیڈ کر رہے تھے۔

حال ہی میں آرمی چیف آف اسٹاف رینڈی جارج، جنرل کرسٹوفر ڈونا ہیو اور جنرل ڈیوڈ ہوڈنے کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

یہ 3 اعلیٰ افسران امریکی فوج کو جدید جنگی طریقوں، بالخصوص میدانِ جنگ میں ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے حوالے سے تیار کرنے پر کام کر رہے تھے۔

ایک سابق اعلیٰ فوجی اہلکار نے بتایا کہ جب آپ صوابدیدی اور غیر واضح وجوہات کی بنا پر اہم لوگوں کو فارغ کرتے ہیں تو اس سے ایک خلا اور کنفیوژن پیدا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے امریکی فوج اس وقت شدید ہنگامی صورتحال اور خلفشار سے گزر رہی ہے۔

پینٹاگون کا دفاع اور ماہرین کی تنقید

ان سنگین الزامات کے جواب میں پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے شدید ردعمل دیتے ہوئے ان دعوؤں کو ‘مکمل من گھڑت’ قرار دیا ہے کہ پیٹ ہیگسیٹھ فوج کی جدیدیت پر توجہ نہیں دے رہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ خود ڈین ڈرسکول نے منگل کو عوامی سطح پر وزیر دفاع کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم وزیر دفاع ہیگسیٹھ کی حمایت کے بغیر وہ ترقی ہرگز نہیں کر سکتے تھے جو ہم نے کی ہے۔

تاہم دفاعی امور کے ماہر مائیک او ہینلون نے سی این این کو بتایا کہ ہیگسیٹھ کی ‘کلچر وار’ پر غیر ضروری توجہ اور ان کے رویے فوج کی اصل ترجیحات سے توجہ ہٹا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع ان جھوٹے انتقامی معاملات اور لڑائیوں میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں۔

امریکی فوج اس وقت ایک انتہائی اہم اور نازک موڑ سے گزر رہی ہے جہاں اسے میدانِ جنگ کی تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور ڈرون وارفیئر جیسے جدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

ایسے میں اعلیٰ فوجی قیادت کی اچانک تبدیلیوں اور نظریاتی نوعیت کی بحثوں نے امریکی دفاعی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

موجودہ اعلیٰ سطح کی اکھاڑ پچھاڑ نے آرمی کو ایک ایسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے جہاں اسے اپنی فورسز کو جدید بھی بنانا ہے اور اندرونی انتظامی خلفشار سے بھی نمٹنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

میرپورخاص: مبینہ اغوا کیس کا ڈراپ سین، ہندو لڑکی نے ہندو پڑوسی سے پسند کی شادی کی

سہ ملکی سیریز: سری لنکا کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں پاکستان ساتھ کھڑا ہے، اسحاق ڈار

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں