میرپورخاص کے علاقے حسین بخش مڑی میں مبینہ طور پر اغوا کی جانے والی ہندو لڑکی مدھو کے کیس کا حیران کن ڈراپ سین سامنے آیا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ یہ جبری تبدیلیِ مذہب یا اغوا کا معاملہ نہیں، بلکہ 2 ہندو بالغ افراد کی پسند کی شادی کا معاملہ ہے۔
مدھو (ساکن میرپورخاص) کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ 16 سالہ نابالغ لڑکی نہیں بلکہ قانونی طور پر شادی کی عمر کو پہنچنے والی بالغ لڑکی ہے۔ اس نے کسی بھی دباؤ یا زبردستی کے بغیر، اپنے پورے ہوش و حواس میں اپنے ہی پڑوسی کیلاش ولد کانجھو سے پسند کی شادی کی ہے۔ کیلاش کا تعلق بھی ہندو برادری سے ہے اور وہ کچی آبادی، رام نگر، سندھڑی روڈ (دیہـ 117، تعلقہ حسین بخش مڑی، ضلع میرپورخاص) کا رہائشی ہے۔
یہ بھی پڑھیے پریا کماری کیس: اقلیتوں کے حقوق اور جبری تبدیلی مذہب
چونکہ لڑکا اور لڑکی دونوں کا تعلق ہندو برادری سے ہے، اس لیے اس معاملے میں جبری مذہب تبدیلی یا کسی مسلم نوجوان کی جانب سے اغوا کے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں۔ ماضی کے چند واقعات کے برعکس، یہ خالصتاً ایک ہی برادری کے 2 نوجوانوں کا اپنی مرضی سے زندگی کا سفر شروع کرنے کا فیصلہ ہے۔
والدین کا مؤقف اور سماجی ردعمل
ذرائع کے مطابق مدھو کے والدین نے اپنی خاندانی انا کی خاطر اس پسند کی شادی کو ‘اغوا’ کا نام دیا اور سنگین الزامات عائد کیے۔
تجزیہ کاروں اور ماہرین کی طرف سے لڑکی کے خاندان اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی واقعے پر ایسا سنگین الزام لگانے سے پہلے سوچ بچار سے کام لیا کریں اور حقیقت کو تسلیم کریں۔ مزید برآں، پاکستان دراور اتحاد سے بھی گزارش کی گئی ہے کہ وہ معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے صبر و تحمل سے کام لے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے کردار پر تنقید
اس کیس کے بعد سندھی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے کردار پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ بغیر کسی تصدیق و تحقیق کے اغوا اور جبر کے جھوٹے دعووں کو ہوا دینے پر صحافتی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اقلیتوں کی فلاح و بہبود، پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر عملی اقدامات کا روڈ میپ پیش کر دیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر تحقیق کے ایسی سنسنی خیز خبریں پھیلانا معاشرے میں سنگین مذہبی انتشار، افواہوں اور افراتفری کا باعث بن سکتا ہے۔ سندھی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کو چاہیے کہ وہ کسی بھی خبر کو نشر کرنے سے پہلے اس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تصدیق لازمی بنائیں۔










