بالی ووڈ کی صفِ اول کی اداکارائیں فلموں کے بجائے بڑے کاروباری منصوبوں کو ترجیح دینے لگیں

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بالی ووڈ کی صفِ اول کی اداکاراؤں نے فلموں میں کام کرنے کے بجائے اپنی ترجیحات تبدیل کرتے ہوئے محدود اور منتخب منصوبوں کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور دیگر مواقع پر توجہ دینا شروع کردی۔

رپورٹ کے مطابق دپیکا پڈوکون، کرینہ کپور خان، پریانکا چوپڑا جوناس، انوشکا شرما اور کترینہ کیف سمیت بالی ووڈ کی کئی معروف اداکارائیں اب پہلے کے مقابلے میں کم فلمیں کررہی ہیں اور صرف منتخب منصوبوں کا حصہ بن رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ کے وہ بڑے نام جنہوں نے مشہور ہونے کے لیے اپنے اصل نام تبدیل کردیے

ان اداکاراؤں کی فلمی مصروفیات میں کمی سے بالی ووڈ کی نئی نسل کی اداکاراؤں کے لیے بھی مواقع پیدا ہوئے ہیں، جن میں جھانوی کپور، کریتی سینن، رشمیکا مندانا، اننیا پانڈے اور ترپتی ڈمری نمایاں ہیں۔

پریانکا چوپڑا آخری مرتبہ ہندی فلم ’دی اسکائی از پنک‘ میں نظر آئی تھیں، جبکہ انوشکا شرما کی آخری بڑی فلم ’زیرو‘ تھی۔ کترینہ کیف ’میری کرسمس‘ میں دکھائی دی تھیں، جبکہ کرینہ کپور نے ’جانے جان‘ اور ’سنگھم اگین‘ سمیت مختلف منصوبوں میں کام کیا۔

رپورٹ کے مطابق اداکاراؤں کی فلموں سے دوری کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی سنیما میں دلچسپی ختم ہوگئی ہے بلکہ ان کی ترجیحات تبدیل ہوئی ہیں۔

ماضی میں صفِ اول کی اداکاراؤں سے مسلسل فلمیں کرنے کی توقع کی جاتی تھی، تاہم اب معروف اداکارائیں اپنی مرضی سے یہ طے کرتی ہیں کہ کب اور کس طرح پردۂ اسکرین پر نظر آنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وہ اداکارائیں جو شاہ رخ خان کے ساتھ کوئی ہٹ فلم نہ کر سکیں

اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ فلموں کے علاوہ دستیاب کاروباری مواقع بھی ہیں۔ کئی معروف اداکاراؤں نے اداکاری کے ساتھ کاروبار اور سرمایہ کاری پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔

کترینہ کیف نے اپنی خوب صورتی سے متعلق کاروباری منصوبے کو وسعت دی، دپیکا پڈوکون نے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں قدم بڑھایا، جبکہ عالیہ بھٹ نے بچوں کے ملبوسات کے کاروبار میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔

یوں معروف اداکارائیں اب صرف مصنوعات کی تشہیر تک محدود نہیں رہیں بلکہ کاروباری اداروں کی بانی، سرمایہ کار اور کاروباری خواتین کے طور پر بھی اپنی شناخت بنا رہی ہیں۔

فلموں سے آگے کامیابی کا نیا تصور

رپورٹ کے مطابق کامیابی کا معیار بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ اب صرف سنیما گھروں میں کامیاب فلم کو ہی اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ براہِ راست نشر ہونے والے پلیٹ فارم نے اداکاراؤں کو پیچیدہ اور غیر روایتی کردار ادا کرنے کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔

پریانکا چوپڑا نے ’سٹاڈل‘ اور ’دی بلف‘ جیسے منصوبوں کے ذریعے اپنے بین الاقوامی فلمی سفر کو وسعت دی، جبکہ کرینہ کپور نے ’جانے جان‘ کے ذریعے نئی ناظرین تک رسائی حاصل کی۔ عالیہ بھٹ نے ’ڈارلنگز‘ اور اپنی پہلی بین الاقوامی فلم ’ہارٹ آف اسٹون‘ کے ذریعے روایتی بالی ووڈ ہیروئن کے کردار سے ہٹ کر کام کیا۔

فلم ساز راہول ڈھولکیا کے مطابق ناظرین اب بھی ان معروف اداکاراؤں کو زیادہ فلموں میں دیکھنا چاہتے ہیں، تاہم انہیں بہتر اور مضبوط کردار فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

فلم ساز سُپرن ورما نے کہا کہ براہِ راست نشر ہونے والے پلیٹ فارم پر کام کرنا اب معروف اداکاروں کے لیے کسی طرح بھی کم تر نہیں سمجھا جاتا اور معاوضہ بھی ان کی حیثیت کے مطابق ملتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بڑی وجہ موجودہ دور میں باکس آفس پر چھائی ہوئی فلموں کی نوعیت بھی ہوسکتی ہے۔ بڑے پیمانے کی ایکشن فلموں میں خواتین کے لیے مؤثر اور اہم کرداروں کی گنجائش نسبتاً کم رہ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مادھوری ڈکشٹ: جو دل چرانے کا ہنر جانتی تھیں

فلم ساز مدثر عزیز نے ’پشپا‘ اور ’اینیمل‘ جیسی فلموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی فلموں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اداکاراؤں کو کچھ منصوبوں سے دور رہنے پر مجبور کیا ہے۔

نمائش کار اور تقسیم کار اکشے رتی کے مطابق معروف اداکاراؤں کا کم فلمیں کرنا بالآخر ان کی ذاتی پسند کا معاملہ ہے۔ کرینہ کپور اور ایشوریا رائے بچن جیسی اداکاراؤں نے کئی دہائیوں میں اپنی شہرت قائم کی، جس کے بعد وہ کام کی رفتار کم کرنے اور نئی اداکاراؤں کو آگے آنے کا موقع دینے کی پوزیشن میں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فلم کی تیاری، عکسبندی اور تشہیر میں کئی ماہ لگتے ہیں، جبکہ ایک بڑی معروف شخصیت فلمی مصروفیات کے علاوہ متعدد برانڈز کی نمائندگی، مختلف کمپنیوں میں سرمایہ کاری اور اپنے کاروبار بھی چلا سکتی ہے۔ تقریبات، شادیوں اور اسٹیج پروگراموں سے حاصل ہونے والی آمدن بھی اس معاشی تصویر کو مزید تبدیل کرتی ہے۔

یوں بالی ووڈ کی صفِ اول کی اداکارائیں لازمی طور پر سنیما سے دور نہیں ہو رہیں بلکہ کامیابی اور اثر و رسوخ کے ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو رہی ہیں جہاں فلمیں ان کی کامیابی کا واحد پیمانہ نہیں بلکہ ایک بڑے کاروباری سفر کا حصہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp