اپر سوات، کالام اور بابو سر ٹاپ میں سال کی پہلی برف باری، پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی

ہفتہ 5 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں اپر سوات اور وادیِ کالام کے بلند پہاڑی سلسلوں پر سال کی پہلی برف باری کے بعد پوری وادی نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی ہے۔

اچانک برف باری کے بعد علاقے میں سردی کی شدت میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے، اس دلکش پیش رفت سے جہاں کالام کے مناظر مزید سحر انگیز ہو گئے ہیں، وہی پورے خطے میں باقاعدہ ’سرد موسم‘ کا آغاز ہو گیا ہے۔

اپر سوات اور اس کے گردونواح، بالخصوص وادیِ کالام کے بلند پہاڑی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ شروع ہوتے ہی قدرتی مناظر یکسر بدل گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سوات میں برف باری کا سلسلہ جاری، سیاحوں نے کالام کا رخ کرلیا

اونچے پہاڑوں پر برف کی بچھ جانے والی سفید چادر نے وادی کے حسن کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ برف باری کے ساتھ ہی یخ بستہ ہواؤں کے چلنے سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ مقامی رہائشیوں نے گرم ملبوسات کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

سیاحت کو فروغ اور وادی کا نیا روپ

کالام اور اس کے مضافاتی علاقوں میں سال کی پہلی برف باری کو ہمیشہ سے ایک خوش آئند پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ وادی کے خوبصورت اور دلکش پہاڑی مناظر برف سے ڈھکنے کے بعد مزید دلپذیر ہو گئے ہیں، جس سے مقامی زندگی کی رونقیں بڑھ گئی ہیں۔

اس حسین منظر کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کا جوش و خروش بھی دیدنی ہے اور مختلف شہروں سے وادی کی جانب سیاحوں کی آمد کی توقع کی جا رہی ہے۔

ضلع سوات کا شمالی حصہ، خصوصاً اپر سوات اور کالام اس کے علاوہ بابو سر ٹاپ پاکستان میں قدرتی حسن اور سیاحت کا سب سے بڑا مرکز مانا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:این ڈی ایم اے کا بارش اور ژالہ باری کا الرٹ، مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کی پیشگوئی

بحرین، کالام، مہوڈنڈ اور اترور جیسے بالائی علاقے سمندر کی سطح سے 2,000 میٹر سے زیادہ کی بلندی پر واقع ہیں، جہاں ہر سال موسمِ سرما کی آمد پر برف باری کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

یہ برف باری نہ صرف علاقے میں سیاحت اور مقامی معیشت کی بحالی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، بلکہ گرمیوں کے موسم میں دریائے سوات میں پانی کے بہاؤ اور زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp