ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا، میڈیکل طالب علم کی کالعدم بی ایل اے میں شمولیت اور ہلاکت

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بولان میڈیکل کالج کے ایم بی بی ایس طالب علم لال خان نواز کی کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) میں شمولیت اور بعد ازاں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق لال خان نواز حکومت بلوچستان کی اسکالرشپ پر میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، تاہم بعد میں اس نے تعلیم ادھوری چھوڑ کر کالعدم تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق لال خان نواز بولان میڈیکل کالج کوئٹہ میں ایم بی بی ایس کا طالب علم تھا اور حکومتی اسکالرشپ کے ذریعے اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھا۔ اس کا تعلیمی سفر اسے ڈاکٹر بننے اور اپنے علاقے کے لوگوں کی خدمت کی جانب لے جا رہا تھا، تاہم بعد میں وہ کالعدم بی ایل اے کے ساتھ وابستہ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:کالعدم بی ایل اے کی دہشتگردانہ حکمت عملی، غیر ملکی سہولت کاری اور ناکامیوں کا پردہ چاک

اطلاعات کے مطابق تنظیم میں شمولیت کے بعد وہ سیکیورٹی فورسز کے خلاف مختلف کارروائیوں میں سرگرم رہا۔ ایک سیکیورٹی آپریشن کے دوران فورسز کے ساتھ جھڑپ میں لال خان نواز ہلاک ہوگیا۔

واقعے نے ایک بار پھر اس خدشے کو نمایاں کیا ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں نوجوانوں کو اپنے بیانیے سے متاثر کرکے انہیں تعلیم اور مستقبل کے مواقع سے دور کر رہی ہیں۔ ایسے واقعات نہ صرف نوجوانوں کے مستقبل بلکہ ان کے خاندانوں کی امیدوں اور معاشرے کے امن و ترقی کے لیے بھی سنگین نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp