کالعدم بی ایل اے کی دہشتگردانہ حکمت عملی، غیر ملکی سہولت کاری اور ناکامیوں کا پردہ چاک

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی تازہ ترین دستاویزات اور پروپیگنڈا لٹریچر کے تجزیے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ’فتنہ الہندوستان‘ اور ’فتنہ اسرائیل‘ کا یہ گروپ غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں، فنڈنگ اور سہولت کاری کے ذریعے پاکستان کے خلاف دہشتگردی اور ہائبرڈ وارفیئر میں ملوث ہے۔ بی ایل اے کا نیا لٹریچر دہشتگردی کو ’جدید گوریلا جنگ‘ کا نام دے کر نئے حامیوں کی بھرتی، تشدد کی ادارہ جاتی توثیق اور بلوچستان کے عوام پر اس کے تباہ کن اثرات کو چھپانے کا ایک ذریعہ ہے۔

بی ایل اے اپنے لٹریچر میں ہتھیاروں کو ’قومی امانت‘ قرار دے کر ان کے تقدس کا جھوٹا تاثر دیتی ہے، جبکہ حقیقت میں انہی ہتھیاروں سے جعفر ایکسپریس کے مسافروں کو یرغمال بنا کر قتل کیا گیا، کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر بم دھماکہ کیا گیا، خضدار میں اسکول بس کو نشانہ بنایا گیا اور موسیٰ خیل، گوادر اور نوشکی میں بے گناہ مزدوروں و شہریوں کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادو کیس نے پہلے ہی ثابت کر دیا ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ‘را’ بلوچستان میں دہشتگردوں کی مالی معاونت اور سہولت کاری کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے بعد معمولات زندگی بحال

رپورٹس کے مطابق بی ایل اے کی دہشتگردانہ مہم دیگر بین الاقوامی دہشتگرد نیٹ ورکس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ جولائی 2026 میں مستونگ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت کے بعد ISKP (داعش خراسان) کی جانب سے فوری ذمہ داری قبول کرنا دراصل بی ایل اے کی شمولیت پر پردہ ڈالنے کی کوشش تھی۔

اس کے علاوہ، 4 فروری 2026 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی 37 ویں تجزیاتی و پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق، رکن ممالک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی (TTP) اور داعش (ISIL-K) مشترکہ تربیتی کیمپوں، کمانڈرز کے رابطوں اور وسائل کا اشتراک کر رہے ہیں۔

پاکستان نے بی ایل اے پر 2006 میں پابندی عائد کی تھی، جس کے بعد برطانیہ نے جولائی 2006 میں اسے کالعدم قرار دیا۔ امریکا نے 2019 میں اسے عالمی دہشتگرد تنظیم (SDGT) اور اگست 2025 میں بی ایل اے سمیت مجید برگیڈ کو غیر ملکی دہشتگرد تنظیم (FTO) قرار دیا۔ مئی 2026 میں آسٹریلیا نے بھی اس پر دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے تحت پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ عالمی اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ بی ایل اے ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ دہشتگرد تنظیم ہے۔

بی ایل اے کے پروپیگنڈا لٹریچر میں لاجسٹکس، وسائل کی منتقلی، خفیہ حکمت عملی اور نفسیاتی جنگ پر توجہ دی گئی ہے تاکہ اس کی گرتی ہوئی صلاحیتوں کو سہارا دیا جا سکے۔ تاہم، اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ ان دہشتگردوں کو بھارتی اور اسرائیلی سرپرستی حاصل ہے اور وہ افغانستان میں امریکی افواج کے چھوڑے ہوئے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بلوچستان میں گرینڈ آپریشن کی تیاری، رولز آف گیم بدلنے کے بعد کیا ہوگا؟

آئی ایس پی آر کے مطابق، وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت سال 2026 کے دوران ملک بھر میں 40,348 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے، جن میں سے 31,000 سے زائد آپریشنز صرف بلوچستان میں ہوئے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 2,084 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔

علاوہ ازیں، آپریشن ‘شعبان’ اور ‘رد الفتنہ-3’ کے ذریعے دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کو توڑ دیا گیا اور بھاری مقدار میں اسلحہ، بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کر کے ان کی کارروائیوں کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ بی ایل اے کا لٹریچر اپنی مسلسل زمینی ناکامیوں اور جانی نقصان کو چھپانے کی ایک آخری کوشش ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp