وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس نظام میں جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے اور ٹیکس کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس وصولی میں نمایاں بہتری آئی ہے جبکہ غیر قانونی معیشت کی روک تھام کے لیے بھی عملی اقدامات جاری ہیں۔
اسلام آباد میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی ٹیکس اصلاحات سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنا ہے۔ ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ افراد اور کاروباری شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ٹیکس دہندگان پر غیر ضروری بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ ٹیکس نظام کو وسیع، مؤثر اور منصفانہ بنانا ہے۔ اس سلسلے میں غیر قانونی معیشت کی روک تھام اور معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ایشائی ترقیاتی بینک کے زیراہتمام ٹیکس اصلاحات پراعلیٰ سطح عالمی مکالمہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا تقریب سے خطاب pic.twitter.com/uvSyKZ20Zc
— PTV News (@PTVNewsOfficial) September 3, 2026
وفاقی وزیر خزانہ نے پاکستان کی عالمی مالیاتی مارکیٹ میں حالیہ پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 3 ارب ڈالر کا 2 حصوں پر مشتمل یورو بانڈ جاری کیا ہے، جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا یورو بانڈ ٹرانزیکشن ہے۔ ان کے مطابق یورو بانڈ کا اجرا عالمی ریٹنگ ایجنسیوں اور سرمایہ کاروں کے پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اپریل 2025 سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں 3 مرتبہ بہتری آچکی ہے، جبکہ ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے پاکستانی یورو بانڈ میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق بانڈ کے لیے موصول ہونے والے آرڈرز جاری کردہ حجم سے تقریباً دوگنا تھے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری و نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
انہوں نے کہا کہ 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کا اجرا کوئی اچانک یا عارضی فیصلہ نہیں بلکہ 3 سالہ درمیانی مدت کی جی ایم ٹی این حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکومت بیرونی فنانسنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے، قرضوں کی مدت بڑھانے اور مستقبل میں ری فنانسنگ کے خطرات کم کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد بحال ہونا ایک اہم پیشرفت ہے، اور یہ اعتماد صرف موجودہ معاشی صورتحال تک محدود نہیں بلکہ سرمایہ کار پاکستان کے مستقبل کو بھی مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔














