جنوبی افغانستان میں صرف 3 خواتین اسپیشلسٹ ڈاکٹر رہ گئیں

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی افغانستان کے صوبوں میں خواتین ماہر ڈاکٹروں کی شدید کمی نے صحتِ عامہ کے بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ ہلمند، زابل اور اروزگان میں ایک بھی خاتون اسپیشلسٹ ڈاکٹر موجود نہیں، جبکہ قندھار میں بھی صرف 3 خواتین ماہر ڈاکٹر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

صحت کے ذرائع اور جنوبی افغانستان کے رہائشیوں کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد گزشتہ 5 برس کے دوران خواتین اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعداد مسلسل کم ہوئی ہے۔ محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ اس وقت قندھار میں صرف 3 خواتین اسپیشلسٹ ڈاکٹر کام کر رہی ہیں، تاہم ان میں سے ایک بیشتر وقت صوبے سے باہر رہتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق خواتین مڈوائف، نرسوں اور دیگر طبی شعبوں سے وابستہ ماہر عملے کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

یہ بھی پٖڑھیے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، والدین خفیہ سہارا لینے پر مجبور

صحت کے شعبے سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین کی تعلیم، نقل و حرکت اور ملازمت پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ خواتین اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کا ملک چھوڑنا بھی اس بحران کی اہم وجوہات ہیں۔

زابل میں گزشتہ 3 برس سے کسی خاتون اسپیشلسٹ ڈاکٹر کا اندراج نہیں ہوا، جبکہ صوبے میں صرف چند خواتین جنرل فزیشنز موجود ہیں۔ ہلمند میں بھی صورتحال تشویش ناک ہے، جہاں بعض علاقوں میں خواتین جنرل فزیشنز بھی دستیاب نہیں۔ موسیٰ قلعہ میں مقامی افراد نے حال ہی میں خاتون ڈاکٹر کی عدم موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے مرکزِ صحت بند کرنے کی دھمکی دی۔

اروزگان کے ضلع چورہ کے ایک رہائشی کے مطابق صوبے میں کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر موجود نہیں، جس کے باعث مریضوں کو پہلے قندھار اور پھر کابل یا ہرات منتقل کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل سفر کے دوران مریضوں کی حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ کے ایک رہائشی نے بھی بتایا کہ خواتین اسپیشلسٹ ڈاکٹر تو موجود نہیں، حتیٰ کہ خواتین جنرل فزیشنز کی تعداد بھی انتہائی کم ہے، جس کے باعث مریضوں کو ایک ڈاکٹر سے دوسرے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے بعد بالآخر دوسرے صوبوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے طالبان کی تعلیمی پابندیاں، پانچ برسوں میں 24 لاکھ افغان لڑکیوں کا مستقبل تاریک ہوا

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے گزشتہ برس خبردار کیا تھا کہ خواتین کی طبی تعلیم پر پابندیاں برقرار رہیں تو افغانستان میں 5 ہزار سے زائد ماؤں اور بچوں کی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں، جن میں کم از کم 1600 ماؤں اور 3500 نومولود بچوں کی اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ اور یو این ویمن سمیت عالمی ادارے طالبان پر زور دیتے رہے ہیں کہ افغان لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم اور طبی شعبے میں تربیت پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، کیونکہ ان پابندیوں کے نتیجے میں ملک کے صحت کے نظام کو مستقبل میں خواتین طبی عملے کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp