طالبان کی تعلیمی پابندیاں، پانچ برسوں میں 24 لاکھ افغان لڑکیوں کا مستقبل تاریک ہوا

بدھ 12 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر عائد پابندی کے نتیجے میں 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہوچکی ہیں۔

اقوام متحدہ نے منگل کو جاری بیان میں اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس ’امتیازی سلوک‘ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

روس کے علاوہ کسی ملک کی جانب سے باضابطہ طور پر تسلیم نہ کی جانے والی طالبان انتظامیہ نے متعدد پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن کے تحت لڑکیوں کو پرائمری تعلیم کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں۔

یہ بھی پڑھیے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، والدین خفیہ سہارا لینے پر مجبور

اقوام متحدہ کے ثقافتی اور تعلیمی ادارے یونیسکو کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں ثانوی تعلیم سے محروم افغان لڑکیوں کی تعداد میں مزید 2 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہ پابندی برقرار رہی تو 2030 تک ثانوی تعلیم سے محروم لڑکیوں کی تعداد تقریباً 40 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

یونیسکو نے افغان لڑکیوں کا تعلیم کا حق فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف’امتیازی سلوک ‘ کی شدید مذمت کی ہے۔

طالبان حکومت نے اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد نسبتاً نرم طرز حکمرانی کا وعدہ کیا تھا، تاہم اس کے بعد خواتین پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ خواتین کو جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ پارکوں، جم اور بیوٹی سیلونز میں جانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

افغانستان میں لڑکیوں کو مارچ 2022 میں ثانوی اسکولوں میں جانے سے روک دیا گیا تھا، جبکہ اسی سال کے اواخر میں جامعات بھی خواتین طالبات کے لیے بند کردی گئیں۔

یونیسکو نے کہا کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں تعلیم تک رسائی میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہونے والی پیشرفت عملاً الٹ رہی ہے۔ ادارے کے مطابق 2001 میں افغانستان میں لڑکیوں کے لیے اسکولوں تک رسائی انتہائی محدود تھی، تاہم 2021 تک تقریباً 10 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔

یونیسکو کی ایمرجنسی حالات میں تعلیم کے پروگرام کی کوآرڈینیٹر ہدیٰ جبیرین نے کہا کہ افغان لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے اور یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو کام کرنے کا بھی حق ہے اور انہیں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہونی چاہیے۔

یونیسکو کے مطابق لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے افغانستان کی معیشت پر بھی سنگین اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں کے باعث 2066 تک افغانستان کو تقریباً 9.6 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

افغانستان کا مجموعی تعلیمی شعبہ بھی شدید بحران سے دوچار ہے۔ یونیسکو کے مطابق پرائمری اسکول جانے کی عمر کے نصف سے زیادہ بچے مکمل طور پر اسکولوں سے باہر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے طالبان کے اقدامات نے افغانستان میں تعلیمی ترقی کا صفایا کر دیا

ادارے کا کہنا ہے کہ 10 سال کی عمر کے 90 فیصد سے زیادہ افغان بچے ایک سادہ تحریر پڑھنے سے بھی قاصر ہیں۔

اسکولوں میں پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی کی سہولیات اور مناسب حرارت کے انتظام کی کمی نے بھی تعلیمی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ برسوں میں افغانستان کو بار بار آنے والے زلزلوں سمیت متعدد قدرتی آفات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، جنہوں نے ملک کے پہلے ہی کمزور تعلیمی نظام پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp