بھارت: انتہا پسند ہندو ’مسلم لبادہ‘ اوڑھ کر فسادات کی آگ بھڑکانے لگے

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے اور مسلم مخالف بیانیے کو تقویت دینے کے لیے جعلی مسلم شناختوں، من گھڑت واقعات اور سوشل میڈیا پر توڑ مروڑ کر پیش کیے گئے مواد کے استعمال کا رجحان سامنے آیا ہے۔ حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جھوٹے الزامات اور مصنوعی طور پر تیار کیے گئے مواد کے ذریعے مسلمانوں کو سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دے کر ان کے خلاف نفرت کو ہوا دی جا رہی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اتر پردیش کے شہر بریلی میں پولیس کی تحقیقات کے دوران ایسا ہی ایک واقعہ سامنے آیا، جہاں محرم کے جلوس کے دوران ایک مسلمان بچے کی جانب سے’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیے بھارت: 14 افراد کو عمر قید سنانے والی مسلمان خاتون جج  کو ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیاں

پولیس نے تحقیقات کے بعد انکشاف کیا کہ 2 ہندو افراد نے مبینہ طور پر بدنیتی پر مبنی مقصد کے تحت ویڈیو بنائی اور بچے کو نعرے لگانے پر مجبور کیا، جس کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ایسے مناظر جب سیاق و سباق کے بغیر سوشل میڈیا پر پھیلتے ہیں تو بھارت کے پہلے ہی شدید طور پر منقسم معاشرے میں فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

بریلی کا واقعہ کوئی واحد مثال نہیں۔ رپورٹس کے مطابق صرف جون کے دوران کم از کم 4 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں افراد نے مسلم شناخت اختیار کی یا خود کو مسلمان ظاہر کرکے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ان واقعات میں ایک مخصوص طریقہ کار دکھائی دیتا ہے جس میں جعلی مسلم نام یا شناخت استعمال کرنے کے بعد من گھڑت واقعہ ترتیب دیا جاتا ہے، اسے منتخب انداز میں ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلایا جاتا ہے اور پھر فرقہ وارانہ بنیادوں پر اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے بھارت میں پردہ پوش مسلمان خواتین کو کس طرح اے آئی کے ذریعے بدنام کیا جا رہا ہے؟

دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اور سیاسی مبصر اپوروانند نے اس عمل کو ایک پرانے رجحان سے تعبیر کرتے ہوئے اسے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے جوڑا ہے۔ جعلی مسلم شناختوں کے بار بار استعمال نے بھارت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس طرز عمل کا مقصد پوری بھارتی مسلم آبادی کو مشکوک ثابت کرنا اور مسلم برادری کے خلاف مزید اقدامات کے لیے جواز فراہم کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp