بھارت: 14 افراد کو عمر قید سنانے والی مسلمان خاتون جج  کو ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیاں

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں گائے کے تحفظ کے نام پر ایک شخص کے قتل کے مقدمے میں 14 افراد کو عمر قید کی سزا سنانے والی مسلمان خاتون جج کو مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر سنگین دھمکیوں کا سامنا ہے۔ دھمکی آمیز پیغامات میں جج کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا اور انہیں قتل کرنے سمیت دیگر خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مدھیہ پردیش کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے 12 جون 2026 کو ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے 2022 میں قتل کیے گئے نذیر احمد کے کیس میں 14 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیے مودی کے دور میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خوفناک اضافہ، مذہبی ہم آہنگی خطرے میں

عدالتی فیصلے کے مطابق نذیر احمد کو مبینہ طور پر ایک ہجوم نے گائے کی حفاظت کے نام پر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔ عدالت نے شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی۔

فیصلے کے بعد بعض ہندو قوم پرست حلقوں سے وابستہ افراد کی جانب سے سوشل میڈیا پر جج تبسم خان کے خلاف توہین آمیز اور دھمکی آمیز پیغامات سامنے آئے۔ رپورٹس کے مطابق ان پیغامات میں خاتون جج کو فرقہ وارانہ الفاظ کا نشانہ بنایا گیا، ان کی تضحیک کی گئی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

بعض پیغامات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اگر سزا پانے والے افراد کو رہا نہ کیا گیا تو ملک بھر میں بدامنی اور خونریزی ہوگی۔ تاہم حکام کی جانب سے ان دھمکیوں کے تمام دعوؤں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک عدالتی فیصلے کے ردعمل تک محدود نہیں بلکہ جج کی مذہبی شناخت کو بنیاد بنا کر انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

دھمکیوں کے بعد بھارت کے اعلیٰ عدالتی حلقوں نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے مذمت کی ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ایسوسی ایشن سمیت دیگر قانونی اداروں نے جج کو دھمکیوں کو عدالتی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے عید الاضحیٰ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم

مدھیہ پردیش ہائیکورٹ نے بھی خاتون جج تبسم خان کی سیکیورٹی سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ ان کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔

یہ واقعہ بھارت میں عدالتی افسران، خصوصاً مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ججز کے تحفظ اور عدالتی فیصلوں کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ کے حوالے سے ایک بار پھر بحث کا باعث بن گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق کسی بھی جج کو اس کے مذہب یا شناخت کی بنیاد پر دھمکانا عدالتی نظام کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لیے خطرناک رجحان ہے۔

مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی تشویش

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی، مذہبی بنیادوں پر امتیازی رویوں اور تشدد کے واقعات پر متعدد بین الاقوامی اور مقامی انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، ہجومی تشدد، امتیازی قوانین اور سماجی دباؤ جیسے واقعات ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور انسانی حقوق کے لیے سنگین چیلنج بن رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے ادارے بھارتی حکام پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ مذہب، نسل یا شناخت سے بالاتر ہو کر قانون کا یکساں نفاذ یقینی بنائیں اور نفرت انگیزی یا تشدد میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp