معروف ہالی وڈ اداکار جارج کلونی نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکا اپنی تاریخ کے ایک ’بدقسمت وقت‘ سے گزر رہا ہے، جہاں حکومت ان کے بقول ’کم ترین اہلیت رکھنے والے لوگوں‘ کے ہاتھ میں ہے۔ 65 سالہ اداکار نے تاہم امید ظاہر کی کہ امریکا اس مشکل دور سے نکل آئے گا۔
جارج کلونی نے یہ گفتگو وینس فلم فیسٹیول کے افتتاحی روز ایک پریس کانفرنس میں کی، جہاں انہیں فلمی دنیا میں شاندار خدمات کے اعتراف میں گولڈن لائن ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ پریس کانفرنس میں ان کے فلمی کیریئر کے علاوہ مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور فلم انڈسٹری کی موجودہ صورتحال سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کی پالیسی سے نالاں ہالی ووڈ اداکارہ کرسٹن کا امریکا چھوڑنے پر غور
امریکی حکومت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کلونی نے کہا کہ انہیں موجودہ صورتحال پر ’شرمندگی‘ محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے سیاسی اصطلاح ’کاکسٹو کریسی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد ایسا نظام حکومت ہے جو ’کم ترین اہلیت رکھنے والے لوگوں‘ کے ہاتھ میں ہو، اور شاید اس وقت امریکا بھی اسی کیفیت سے گزر رہا ہے، تاہم ’ہم اس دور سے نکل جائیں گے‘۔
یہ بھی پڑھیے ایران کے خلاف جنگ: پاکستان، بھارت اور ہالی ووڈ کے فنکاروں کی ٹرمپ پر کڑی تنقید
کلونی نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو حکومت کے لیے ’چیک اینڈ بیلنس‘ کا ذریعہ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ 2028 تک ملک میں کسی حد تک معمول کی صورتحال بحال ہو سکتی ہے۔ خود کو پُرامید شخص قرار دیتے ہوئے انہوں نے 1968 کے پُرتشدد دور کو یاد کیا، جب امریکا کے کئی شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور بوبی کینیڈی ایک ہی سال قتل ہوئے اور امریکی کیپیٹل کے گرد ٹینک تعینات کیے گئے تھے۔














