21 ممالک میں ہر 5 میں سے ایک بچے کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا، یونیسیف

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ بچوں کو ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 60 فیصد واقعات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق 21 ممالک میں 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ بچوں، یعنی ہر 5 میں سے تقریباً ایک بچے، کو ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کم از کم ایک شکل کا سامنا کرنا پڑا۔

یونیسیف کی نئی رپورٹ ’بچوں کی نظر سے: ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کس طرح بچوں کے جنسی استحصال کو ممکن بناتی ہیں‘ میں سروے کے اعداد و شمار کے ساتھ ایسے بچوں کی گواہیاں بھی شامل کی گئی ہیں جو خود اس بدسلوکی کا شکار ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر و ویڈیو کا کاروبار، ’ایکس‘ کیسے استعمال ہو رہا ہے؟

رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ بچوں کو ان کی مرضی کے خلاف جنسی نوعیت کے مواد کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 90 لاکھ بچوں سے جنسی گفتگو کرنے یا جنسی تصاویر شیئر کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ تقریباً 40 لاکھ بچوں کی جنسی تصاویر ان کی رضامندی کے بغیر شیئر کی گئیں۔ تقریباً 60 فیصد واقعات فیس بک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور واٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے، جبکہ 14 فیصد واقعات آن لائن گیمز کے دوران ہوئے۔

یونیسیف کے مطابق 57 فیصد واقعات میں مبینہ ملزم وہ شخص تھا جسے بچہ پہلے سے جانتا تھا، جن میں ہم جماعت، دوست، رومانوی ساتھی اور خاندان کے افراد شامل تھے۔ تاہم 38 فیصد بچوں کا پہلی مرتبہ مبینہ ملزم سے آن لائن سامنا ہوا، جہاں جعلی اکاؤنٹس اور نجی پیغامات جیسے ذرائع استعمال کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے استاد پر 55 برس تک بچوں کے جنسی استحصال کا الزام، زیادتی کا ریکارڈ یو ایس بی میں محفوظ

ایسے تجربات نے بچوں کی ذہنی و جذباتی کیفیت، تحفظ کے احساس اور دوسروں پر اعتماد کو شدید متاثر کیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال کا شکار بچوں میں خودکشی کے خیالات یا ایسے رویوں اور خود کو نقصان پہنچانے کے واقعات کی اطلاع دینے کا امکان دیگر بچوں کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ تھا، جبکہ ان میں اضطراب کی سطح بھی نمایاں طور پر بلند پائی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 40 فیصد سے زیادہ واقعات کبھی کسی کے سامنے نہیں لائے گئے، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم واقعات پولیس، سماجی کارکنوں یا ہیلپ لائنز سمیت متعلقہ حکام کو رپورٹ کیے گئے۔ بچوں کی خاموشی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ مدد کے لیے کہاں جانا ہے یا کس سے بات کرنی ہے۔ یونیسیف نے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں، جن میں پرائیویسی کا مضبوط تحفظ، بالغ افراد کی جانب سے غیر مطلوبہ رابطوں کی روک تھام، محفوظ تجویز کردہ مواد کے نظام، بدسلوکی کی بہتر نشاندہی اور مؤثر رپورٹنگ و معاونت کا نظام شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp