سمندر کی تہہ سے کچرا صاف کرنا ممکن، جاپانی سائنسدانوں نے حیرت انگیز’ڈیپ لٹر اے آئی‘ سسٹم بنا لیا

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جاپانی محققین نے سمندر کی تہہ میں موجود پلاسٹک کے کچرے کا پتا لگانے کے لیے ‘ڈیپ لٹر اے آئی’ نامی ایک جدید ترین مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کر لیا ہے۔

انسانوں کے مقابلے میں دگنی رفتار سے کام کرنے والا یہ نظام سمندری آلودگی کی ریئل ٹائم نگرانی اور اس کے فوری تدارک کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔ جاپان ایجنسی فار میرین ارتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے یہ نیا سسٹم تیار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایشیائی ترقیاتی بینک نے سمندری آلودگی کے خاتمے کے لیے منصوبے کا اعلان کر دیا

ٹوکیو کی خبر رساں ایجنسی کیوڈو نے جرنل انوائرنمنٹل پولیوشن کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ جدید نظام سمندری تہہ کے ڈیٹا کو انسانوں کی نسبت تقریباً دگنی رفتار سے پروسیس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس جدید ٹیکنالوجی کو سمندر میں موجود پلاسٹک کے فضلے کی فوری اور براہ راست نگرانی کے لیے استعمال کیا جائے گا جس سے صفائی کے کاموں میں غیر معمولی تیزی آئے گی۔

وسیع ڈیٹا بیس اور مؤثر تربیت

اس نظام کی تیاری کے لیے محققین نے 1983 سے اب تک حاصل کی گئی سمندری تہہ کی ویڈیوز پر مبنی تقریباً 12,000 تصاویر کا ایک وسیع ڈیٹا سیٹ مرتب کیا ہے۔

ان تصاویر میں کچرے کے چھوٹے ٹکڑوں کے ساتھ پتھروں اور سمندری حیات جیسی وہ اشیا بھی شامل کی گئیں جنہیں غلطی سے کچرا سمجھا جا سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کو غلط نشاندہی سے بچانے کے لیے اس سسٹم کو تصاویر دھندلا کرنے اور الٹنے جیسی مختلف تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے سخت تربیت دی گئی ہے۔

شاندار کارکردگی اور ماہرین کی رائے

تحقیقاتی ٹیم میں شامل بائیولوجیکل اوشنوگرافر ریوٹا ناکاجیما کا کہنا ہے کہ ‘ہم اس سسٹم کی مدد سے ان علاقوں کی تیزی سے نشاندہی کر سکتے ہیں جہاں کچرے کی بڑی مقدار جمع ہوتی ہے اور اس معلومات کو حفاظتی اقدامات کے نفاذ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں’۔

مزید پڑھیں:‘عالمی یوم بحر: ’کراچی سمیت پاکستانی ساحلی شہر سمندری طوفان سے تباہ ہوجائیں گے

اصل فوٹیج پر کیے گئے تجربات میں اس سسٹم نے کچرے کی قسم اور مقدار کی بالکل درست شناخت کی، یہاں تک کہ اس نے تصویر کی چوڑائی کے محض 5 سے 10 فیصد جتنی چھوٹی اشیا کو بھی باآسانی پہچان لیا۔

اس نظام نے پلاسٹک کی بوتلوں اور پولی تھین بیگز سمیت 80 فیصد بڑے کچرے کو کامیابی سے تلاش کیا، جبکہ انسانی ماہرین کے معائنے کے مقابلے میں اس کی غلطی کی گنجائش صرف 10 فیصد کے لگ بھگ رہی۔

واضح رہے کہ سمندروں میں پلاسٹک کی آلودگی اس وقت دنیا بھر کے لیے ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بن چکی ہے۔ جب پلاسٹک کا فضلہ سمندر میں داخل ہوتا ہے تو اس کا ایک بہت بڑا حصہ پانی کی تہہ میں بیٹھ جاتا ہے، جسے روایتی طریقوں سے تلاش کرنا اور ٹھکانے لگانا انتہائی مشکل اور مہنگا عمل ہے۔

ایسے میں ‘ڈیپ لٹر اے آئی’ جیسی جدید ٹیکنالوجی نہ صرف اس چھپے ہوئے کچرے کی درست اور تیز ترین نشاندہی میں مدد دے گی، بلکہ یہ سمندری حیات کو بچانے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے عالمی مشن میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp