مکہ دفاعی معاہدہ عالم اسلام کے اتحاد کی بنیاد بنے گا، تمام اسلامی ممالک اس میں شامل ہوں، زاہد محمود قاسمی

جمعہ 23 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مرکزی علما کونسل پاکستان کے چیئرمین مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے نہ صرف تینوں ممالک کا دفاع مضبوط ہوگا بلکہ مستقبل میں پوری امت مسلمہ کے اتحاد کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک اس معاہدے کا حصہ بنیں تاکہ عالم اسلام ایک مشترکہ دفاعی قوت کے طور پر سامنے آسکے۔

’وی نیوز‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہاکہ مکہ مکرمہ میں حرم شریف کی مبارک فضاؤں میں ہونے والا یہ دفاعی معاہدہ انتہائی خوش آئند پیش رفت ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے موجودہ حالات اور وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس معاہدے کو عملی شکل دی ہے، جس کی تمام شقیں اطمینان بخش ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ایران پر امریکا کے حملے اور اس کے بعد خلیجی ممالک میں پیدا ہونے والی صورتحال نے مشترکہ دفاعی انتظام کی اہمیت مزید بڑھا دی تھی۔ ان حالات میں یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پوری امت مسلمہ کی ضرورت بن چکا تھا۔

مولانا زاہد محمود قاسمی کے مطابق تینوں ممالک کے عوام اور مختلف طبقات نے اس معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے اور وہ اس کے بعد خود کو پہلے سے زیادہ محفوظ تصور کر رہے ہیں۔

’مکہ اور مدینہ کے تحفظ کے لیے پوری امت مسلمہ متحد ہو‘

مولانا زاہد محمود قاسمی نے سعودی عرب میں ہونے والے حملوں اور حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہاکہ دہشتگرد پراکسیز سعودی عرب پر حملہ آور ہیں اور مدینہ منورہ کو بھی نشانہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایک روز قبل بھی مدینہ منورہ پر 3 سے 4 مرتبہ حملے کی کوشش کی گئی، تاہم سعودی سیکیورٹی فورسز نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سیکیورٹی فورسز مضبوط ہیں اور ماضی میں بھی ایسے حملوں کو ناکام بناتی رہی ہیں، تاہم حرمین شریفین کے تحفظ کی ذمہ داری صرف ایک یا چند ممالک تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور حرمین شریفین سے پوری امت مسلمہ کا ایمان اور کلمے کا رشتہ ہے۔ سعودی عرب مسلمانوں کے ایمان، وحی اور قرآن کا مرکز اور انبیا کی سرزمین ہے۔

انہوں نے کہاکہ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں آرام فرما ہیں۔ اس لیے ان مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے تمام اسلامی ممالک کو متحد ہونا چاہیے۔

مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہاکہ سعودی عرب میں حج اور عمرے کی عبادات ادا کی جاتی ہیں اور وہیں منیٰ، عرفات، مزدلفہ اور بیت اللہ شریف جیسے مقدس مقامات موجود ہیں۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں قائم اپنے گھر کو تمام جہانوں کے لیے برکت اور ہدایت کا مرکز قرار دیا ہے۔

ان کے مطابق اس سرزمین سے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام، حضرت ہاجرہ، حضرت آدم اور حضرت حوا علیہم السلام کی یادیں وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ان مقدس مقامات کے تحفظ کے معاملے میں کسی اسلامی ملک کو پیچھے نہیں رہنا چاہیے، بالخصوص خلیجی ممالک کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے۔

’تمام اسلامی ممالک دفاعی معاہدے میں شامل ہوں، نیٹو کی طرز پر اتحاد قائم کیا جائے‘

مکہ دفاعی معاہدے میں دیگر اسلامی ممالک کی ممکنہ شمولیت سے متعلق سوال پر مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہاکہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ مزید ممالک اس معاہدے میں دلچسپی ظاہر کررہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انڈونیشیا، قطر اور بعض دیگر ممالک بھی اس معاہدے میں شمولیت کی جانب بڑھ رہے ہیں، جبکہ مصر کی طرف سے بھی اس میں شامل ہونے کی خواہش سامنے آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر اسلامی ممالک نے بھی معاہدے میں شمولیت کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے اور متعلقہ قیادت کو درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔

مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہاکہ ان کی خواہش ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک اس مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہوجائیں۔

انہوں نے کہاکہ جس طرح نیٹو ایک دفاعی اتحاد کے طور پر قائم ہوا، اسی طرح امت مسلمہ کا بھی ایک مضبوط دفاعی اتحاد ہونا چاہیے۔ اس سے عالم اسلام اور سعودی عرب دونوں مضبوط ہوں گے۔

پاکستانی عوام مکہ دفاعی معاہدے پر سب سے زیادہ خوش کیوں ہیں؟

پاکستان میں مکہ دفاعی معاہدے پر غیر معمولی خوشی کے اظہار سے متعلق سوال پر مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہاکہ پاکستانی عوام کا حرمین شریفین کے ساتھ عقیدت، محبت اور ایمان کا گہرا تعلق ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور یہاں کے عوام شروع سے ہی حرمین شریفین کے ساتھ خصوصی وابستگی رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے کے بعد ملک بھر کی مذہبی جماعتوں، تنظیموں، علما، نمازیوں اور حرمین شریفین سے محبت رکھنے والے افراد نے بھرپور خوشی کا اظہار کیا۔

مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہاکہ مذہبی جماعتیں مسلسل جمعے کے خطبات، اجتماعات، کانفرنسوں اور بیانات کے ذریعے اس معاہدے کو سراہ رہی ہیں۔

انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان، فیلڈ مارشل اور ترک صدر رجب طیب اردوان کو اس معاہدے پر خراج تحسین پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کے تمام طبقات، مذہبی جماعتوں، پارلیمنٹیرینز، سول سوسائٹی اور عام شہریوں کی جانب سے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔

’وفاقی کابینہ نے دفاعی معاہدے کی منظوری دی، تمام شقوں پر کام جاری ہے‘

مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے مکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دی اور بعد میں اس کی توثیق بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کی منظوری کے بعد اس کی تمام شقوں پر تیزی سے کام آگے بڑھایا گیا۔ ان کے مطابق معاہدے میں 16 یا 17 شقیں شامل ہیں، جن پر متعلقہ ادارے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت، ریاستی اداروں اور دفاعی قوتوں نے پاکستانی عوام کی خواہشات کو سامنے رکھتے ہوئے اس معاہدے کو آگے بڑھایا۔

ان کے مطابق یہ معاہدہ پاکستانی عوام کی امنگوں کے مطابق ہوا اور اب اس کے عملی نتائج پاکستان سمیت پوری امت مسلمہ کے سامنے آئیں گے۔

’پاکستان کو دفاعی، معاشی اور قومی استحکام کے حوالے سے فوائد حاصل ہوں گے‘

مکہ دفاعی معاہدے سے پاکستان کو ہونے والے فوائد کے بارے میں مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زلزلہ آیا ہو، طوفان ہو یا سیلاب، سعودی عرب ہمیشہ پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلی کے بعد جب بھی معاشی استحکام کے لیے مدد کی ضرورت پیش آئی، سعودی عرب نے تعاون کے دروازے کھولے۔

مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے سے پاکستان کو دفاعی شعبے، مسلح افواج، قومی سلامتی، امن اور استحکام کے حوالے سے مزید فوائد حاصل ہوں گے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاہدے کے ثمرات وفاقی سطح سے چاروں صوبوں اور نچلی سطح تک عوام تک پہنچیں گے اور پاکستانی شہری ان کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اس کی مسلح افواج کے لیے یہ بھی ایک بڑا اعزاز ہے کہ انہیں حرمین شریفین کے محافظین کی حیثیت سے کردار ادا کرنے کا شرف حاصل ہوگا۔

’معاہدے کی مخالفت کرنے والی قوتوں پر تنقید، حوثیوں سے متعلق بیان پر اعتراض‘

مکہ دفاعی معاہدے کو ناکام بنانے کی مبینہ کوششوں سے متعلق سوال پر مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ بعض ممالک کے ساتھ کچھ جماعتیں اور شخصیات بھی اس معاہدے کی مخالفت کر رہی ہیں۔

مولانا زاہد محمود قاسمی نے حوثیوں کو باغی اور دہشتگرد قرار دیتے ہوئے کہاکہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور حرمین شریفین پر حملہ کرنے والے کسی بھی گروہ کے اقدامات کو مذہبی بنیادوں پر درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے کہاکہ اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قابل احترام ہیں اور ان مقدس ہستیوں سے نسبت کا دعویٰ کرکے دہشتگردی کا جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے حزب اللہ کے نام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب اللہ کا گروہ ہے، لیکن محض مذہبی نام اختیار کرنے سے کسی کے اقدامات درست نہیں ہوجاتے۔

مولانا زاہد محمود قاسمی نے دعویٰ کیا کہ بیت اللہ اور دیگر مقامات پر حملوں کے دوران عمرہ ادا کرنے والے زائرین بھی متاثر ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں کے ذمہ داروں کو اہل ایمان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے کہاکہ سعودی عرب نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے اور مرکزی علما کونسل پاکستان نے بھی ان کی شدید مذمت کی ہے۔

’حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہیں‘

مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہاکہ پاکستان کے عوام کے دلوں میں حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی قوتوں اور علما کے لیے محبت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو مذہبی جماعتیں اور شخصیات حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں، پاکستانی عوام ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

انہوں نے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا نمائندوں کے سوال پر ترجمان نے واضح کیا تھا کہ پاکستانی فوجی پہلے سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔

’ترجمان پاک فوج نے کہا تھا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے افواج پاکستان کو کوئی بڑا سے بڑا اقدام بھی کرنا پڑا تو اس سے گریز نہیں کیا جائے گا۔‘

انہوں نے اس مؤقف کو پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر دفاعی معاہدے کے خلاف پروپیگنڈے کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

انٹرویو کے دوران مکہ دفاعی معاہدے کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم اور بعض ممالک کی جانب سے اسے ناکام بنانے کی کوششوں کے حوالے سے بھی سوال کیا گیا۔

مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت معاہدے میں شامل ممالک کو سوشل میڈیا پر ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ بعض ممالک بظاہر خاموش ہیں، تاہم یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ حوثیوں کے زیر استعمال ہتھیار، ڈرون اور میزائل کہاں سے آ رہے ہیں اور انہیں کون فراہم کر رہا ہے۔

ان کے مطابق استعمال ہونے والے اسلحے کی نوعیت اور ساخت کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس کی فراہمی میں کون سے ممالک ملوث ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر کسی ملک کے تیار کردہ ہتھیار ان حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں تو دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کو اس ملک سے بات کرنی چاہیے۔

مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہاکہ معاہدے کے خلاف مبینہ منفی مہمات اور غلط فہمیاں پھیلانے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری امت مسلمہ کو متحد ہونا ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا، مذہبی اجتماعات، کانفرنسوں اور منبر و محراب سمیت تمام دستیاب ذرائع کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اور غیر سرکاری سطح پر بھی ایسے اقدامات ضروری ہیں جن کے ذریعے معاہدے کے خلاف منفی سرگرمیوں اور پروپیگنڈے کا جواب دیا جاسکے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو باہمی رابطوں اور تعاون کے ذریعے ان قوتوں کی کوششوں کو ناکام بنانا چاہیے جو تینوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتی ہیں۔

’مکہ دفاعی معاہدہ پوری امت مسلمہ کے اتحاد اور عالمی امن کا ذریعہ بنے گا‘

مولانا زاہد محمود قاسمی نے امید ظاہر کی کہ مکہ دفاعی معاہدے کے مثبت اثرات آنے والے دنوں میں پوری دنیا کے سامنے آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عالم اسلام نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور توقع ہے کہ مستقبل میں مزید اسلامی ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے۔

ان کے مطابق بعض ممالک کو شمولیت کے فیصلے کے لیے مزید وقت درکار ہوسکتا ہے، جبکہ کچھ ممالک معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ممالک باہمی مشاورت اور مذاکرات کے بعد معاہدے میں شامل ہوجائیں گے۔

مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان موجود چھوٹے اختلافات کو دور کرکے مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بالآخر یہ معاہدہ پوری امت مسلمہ کے اتحاد کا باعث بنے گا اور اس کے مثبت اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا میں امن کے قیام میں بھی مدد ملے گی۔

انہوں نے کہاکہ انہیں امید ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کی کامیابی، مضبوطی اور اتحاد کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp