فروری 2019 میں پاک بھارت فضائی معرکے کے دوران پاکستان میں گرفتار ہونے والے بھارتی ایئر فورس (IAF) کے سابق گروپ کیپٹن اور ویر چکر ایوارڈ یافتہ پائلٹ ابھینندن ورتھمان نے بھارتی فضائیہ سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر ’گوا‘ کی ایک نجی علاقائی ایئر لائن ‘FLY91’ میں بطور کمرشل پائلٹ شمولیت اختیار کر لی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 43 سالہ ابھینندن نے رواں برس مارچ کے اختتام پر بھارتی فضائیہ کو خیرباد کہا تھا اور اگست میں وہ نجی ایئر لائن کا حصہ بنے۔ تاہم ایئر لائن کے ترجمان نے کسی بھی ملازم کی ذاتی معلومات فراہم کرنے سے معذرت کرتے ہوئے اسے ان کا ذاتی معاملہ قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ مارچ 2024 میں قائم ہونے والی یہ ایئر لائن ‘ATR 72-600’ طیاروں کا فلیٹ چلاتی ہے اور اس کے اہم مراکزی اڈے گوا اور حیدرآباد میں واقع ہیں۔
سوشل میڈیا پر طنز و مزاح اور خدشات کا اظہار
ابھینندن کی جانب سے نجی ایئر لائن میں شمولیت کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے طرح طرح کے پرمزاح اور طنزیہ تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی جانب سے اس پیشرفت پر طنز کرتے ہوئے مسافروں کی حفاظت اور سفر کی سلامتی کے حوالے سے تشویش اور تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان کی ’ فینٹاسٹک‘ چائے پینے والے بھارتی پائلٹ ابھینندن نے نجی ائیر لائن جوائن کرلی
صارفین کا کہنا ہے کہ ابھینندن کا سابقہ ریکارڈ دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ‘گوا ایئر لائنز’ کا مستقبل کچھ خاص محفوظ نظر نہیں آتا۔ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایئر لائن اپنے سیفٹی اسٹینڈرڈز اور مسافروں کے اعتماد کو برقرار رکھ سکے گی؟ بعض صارفین نے مذاقاً یہ بھی لکھا کہ مسافروں کو دورانِ پرواز پیراشوٹ ساتھ رکھنے یا ہنگامی لینڈنگ کے لیے تیار رہنا پڑے گا۔
ابتدائی طور پر ابھینندن کو ایس یو-30 (SU 30) لڑاکا طیارے پر تعينات کیا گیا تھا، لیکن ان کے مزاج اور رویے کے باعث انہیں تنزلی دے کر ’اڑتا ہوا تابوت‘ کہلانے والے میگ-21 (MiG 21) طیارے کے سپرد کر دیا گیا۔
2019 میں پاکستان کے شاہینوں کے خلاف ان کے انتہائی لاپرواہی پر مبنی احمقانہ اقدام کے بعد، جس میں انہوں نے اپنا طیارہ گنوایا اور پاکستانی چائے کا لطف اٹھایا، انہیں ان کی سبکی مٹانے اور عزت بچانے کے لیے نام نہاد ترقی اور ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اب ابھینندن گروپ کیپٹن کے عہدے سے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور ایک مقامی روٹ کی ایئر لائن میں تعینات ہیں جس کے پاس محض 4 فعال ‘اے ٹی آر 42’ (ATR 42) ٹربو پروپ انجن والے طیارے ہیں۔ زوال کی کیا انتہا ہے! شاید وہ کبھی ایک پروفیشنل فائٹر پائلٹ بننے کے اہل ہی نہیں تھے۔
ابھینندن نے پیراشوٹ کے ذریعے پاکستانی حدود میں لینڈ کیا تھا جہاں مقامی لوگوں اور پاکستانی فوج نے انہیں حراست میں لے لیا۔ تحویل کے دوران ان کی ایک ویڈیو انتہائی وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے پاکستانی چائے کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’فینٹاسٹک‘ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے عمران خان نے ابھینندن کو کس کے کہنے پر چھوڑا؟ فواد چوہدری نے بھید کھول دیا
انہوں نے پاکستانی فوج کے پروفیشنلزم اور امن پسندی کی تعریف کی۔ وہ بھارتی میڈیا پر خوب برسے کہ وہ چھوٹی سی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔
تقریباً 3 دن (60 گھنٹے) پاکستان کی تحویل میں رہنے کے بعد، پاکستان نے حسنِ سگالی اور امن کے جذبے کے تحت 1 مارچ 2019 کو ابھینندن کو واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔













